رسائی کے لنکس

logo-print

رپورٹرز ڈائری: 'ہم مسلمان ہو گئے ہیں، کچھ راشن ہی دلوا دیں'


فائل فوٹو

دنیا کے بیشتر ممالک کے شہریوں کی طرح ہم لاہور والوں کے لیے بھی لاک ڈاؤن کی اصطلاح اور تجربہ بالکل نیا تھا۔ حکومتِ پنجاب کی جانب سے لاک ڈاؤن کیے جانے کے بعد مجھے پہلی حیرت کا سامنا اس وقت کرنا پڑا جب میں نے دفتر سے گھر جاتے ہوئے اپنے علاقے کے بازار کو اندھیرے میں ڈوبا ہوا پایا۔

رات نو بجے کا وقت تھا جب میں لاک ڈاؤن کے پہلے روز دفتر سے گھر روانہ ہوئی تھی۔ میرے علاقے کا بازار جو رات گئے بھی روشن رہا کرتا تھا وہ اب مکمل طور پر اندھیرے میں تھا۔ ریستوران ہوں یا چھابڑی اور ٹھیلوں پر سامان بیچنے والے، جنرل اسٹور اور بیکریاں، دودھ دہی کی دکانیں اور نان بائی کا ہوٹل، سب ہی کے شٹر ڈاؤن تھے اور بجلی بند۔

دیر رات تک جاگنے والے لاہوریوں کی طرح میں بھی یہ سوچ رہی تھی کہ اگر اب نصف شب بچوں نے پیزا یا برگر کی فرمائش کی یا مجھے خود ٹھنڈی بوتل یا آئس کریم کی طلب ہوئی تو کس دکان کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے۔

خیر اگلے چند روز صورتِ حال کو سمجھنے اور پابندی کے اطلاق کی حدود جاننے میں لگے۔ پھر ہمیں معلوم ہو گیا کہ بس جو بھی خریداری کرنی ہے شام پانچ بجے سے پہلے ہی کر لیں اور اپنی ذائقے کی حس کو بھی صبح ہی جگا کر پوچھ لیں کہ آپ شام یا نصف شب میں کیا تناول کرنا پسند فرما سکتی ہیں۔

اس دوران لاہور شہر کے وہ مناظر دیکھے جو اس سے پہلے شاید ہی کبھی دیکھے ہوں گے۔ روشنیوں سے جگمگاتی لبرٹی مارکیٹ کی تاریکی، تل دھرنے کی جگہ نہ رکھنے والے اچھرہ بازار کی تنہائی اور شور برپا کرتے انار کلی بازار کی خاموشی تو ڈرانے لگی تھی۔

اہل لاہور کرونا وائرس کے خوف سے بے نیاز
please wait

No media source currently available

0:00 0:02:52 0:00

ہم صحافی لوگ ہیں۔ صبح ہو یا شام، کہانیوں کی تلاش میں شہر گردی لگی رہتی ہے۔ بھاگتے دوڑتے لاہور کو سکون کا سانس لیتے دیکھنا آنکھوں کو تو شاید اچھا لگتا ہو لیکن دل کا کیا کریں جو کہتا ہے کہ لاہور جی! اب بہت آرام کر لیا، ناراضگی چھوڑو اور چلو کام پر لگ جاؤ۔

یوں تو اب پنجاب حکومت نے احتیاطی تدابیر کے طور پر لگائی گئی پابندیوں میں کافی حد تک نرمی کر دی ہے۔ لیکن اس لاک ڈاؤن نے لوگوں کی اکثریت کو معاشی طور پر خاصا پیچھے دھکیل دیا ہے۔

روایتی اور ثقافتی ماحول میں آنے والی تبدیلی تو پھر بھی قبول ہو جائے گی لیکن ان لوگوں کی بے بسی کا کیا کریں جو کرونا وائرس کی پاکستان آمد کے ساتھ ہی آئسولیشن میں جانے کے بجائے سڑکوں پر آ گئے۔

لاک ڈاؤن کی شروعات میں تو صرف مزدور پیشہ لوگ اپنے اڈے چھوڑ کر بیلچے، رنگ و روغن اور دیگر ساز و سامان کے ساتھ اہم شاہراہوں اور ہاؤسنگ سوسائیٹیز کے باہر بیٹھے نظر آتے تھے۔ لیکن جوں جوں وقت گزرتا رہا لوگوں کی مشکلات زیادہ ہوتی گئیں۔

لاک ڈاؤن میں نرمی سے قبل تو شہر میں یہ صورتِ حال تھی کہ جہاں سے بھی گزر ہوتا، تھوڑے تھوڑے فاصلے پر کچھ خاندان دکھائی دیتے تھے۔ وہ ہر آنے جانے والی گاڑی کو دیکھ اپنا ہاتھ سر تک لے جا کر سلام کرتے تھے کہ شاید کوئی ان کے ان کہے سوال کو سمجھ جائے۔

اس دوران رپورٹنگ بھی آسان نہیں رہی۔ ماسک اور گلوز پہنے جب کسی ایسے علاقے میں کوریج کے لیے جاتی جہاں لوگوں کو اپنی حفاظت کے نہیں بلکہ بھوک کے لالے پڑے ہوں، تو عجیب سی کیفیت کا شکار ہو جاتی تھی۔

'سب کچھ تو بند ہے، سواری کہاں سے آئے گی'
please wait

No media source currently available

0:00 0:01:59 0:00

میں سوچتی کہ میں یہ ماسک کیسے پہن سکتی ہوں جب کہ ہمیں بھی اپنی جان کی فکر ہے اور انہیں بھی۔ ہمیں بیماری کا خوف ہے اور انہیں روزگار کا۔ ایک ہی ملک میں بسنے والوں کے لیے زندگی کا معیار مختلف کیوں ہے۔

ایک مرتبہ مکہ کالونی کی چورنگی پر بیٹھے مزدوروں کی تصویریں بنانی تھیں۔ میں گاڑی روک کر ڈگی سے کیمرہ نکالنے ہی لگی تھی کہ مزدوروں کا جتھا گاڑی کی طرف لپکا اور ہر طرف لنگر ہے، لنگر ہے صدائیں سنائی دینے لگیں۔ میں شرمندہ سی ہو گئی، یوں لگا کہ شاید ہم نے ان کی امید توڑ دی ہو۔

لاک ڈاؤن میں نرمی سے ایک دن پہلے رپورٹنگ کے دوران ایک جگہ کسی کام سے کھڑے تھے تو ہمارے ساتھ ہی ایک شخص نے اپنی موٹر سائیکل روک دی۔ بائیک کی حالت بھی خستہ تھی اور اس پر بیٹھے میاں بیوی اور تین بچے بھی بے حال لگ رہے تھے۔

اس سے پہلے کہ ہم ان سے کچھ پوچھتے، بائیک پر بیٹھے شخص نے ہلکی سی آواز میں کہا کہ "باجی ہم مسلمان ہو گئے ہیں، روزہ رکھا ہوا ہے، بچوں نے افطاری کرنی ہے تو کچھ راشن دلوا دیں۔"

اس شخص کی بات نے دل و دماغ کو بوجھل کر دیا۔ جب اسے کہا کہ بھائی مدد انسانیت کے نام پر کی جاتی ہے مذہب کے نام پر نہیں۔ ابھی اتنا برا وقت نہیں آیا کہ پاکستان میں کسی کو پیٹ بھرنے کے لیے مذہب بدلنا پڑے۔ اس کے باوجود وہ بضد رہا کہ اس نے اور اس کی بیوی نے اپنی مرضی سے اسلام قبول کیا ہے۔ لیکن ساتھ یہ بھی بتا گیا کہ گھر میں راشن تو دور سونے کو چارپائی بھی نہیں ہے۔

اس شخص کا کہنا تھا کہ حالات بگڑنے سے پہلے بھٹہ چوک پر دیگر مزدوروں کے ساتھ بیٹھ جاتا تھا تو کوئی نہ کوئی مزدوری مل جاتی تھی۔ لیکن اب کوئی کام نہیں بلکہ صرف بھوک ہی بھوک ہے۔

اس شخص کی بات سے خیال آیا کہ ابھی چند روز قبل رپورٹنگ کے سلسلے میں ایک جگہ جانا ہوا تو وہاں ایک ادھیڑ عمر شخص کیمرے میں بات کرنے کی ضد کرنے لگا۔ اس کا دل رکھنے کے لیے مائیک آگے کیا تو وہ کہنے لگا کہ ساری زندگی پاکستان میں گزار دی۔ اپنی محنت کر کے کمایا اور ملک کی معیشت میں بھی حصہ ڈالا۔ لیکن اب کہیں راشن لینے جاؤ تو شناختی کارڈ پر مسیحی لکھا دیکھ کر کہتے ہیں کہ آپ چلے جاؤ، اس میں آپ کا حصہ نہیں۔

اس شخص نے مجھ سے سوال کیا کہ مجھے بتاؤ کیا ہم پاکستانی نہیں یا انسان نہیں؟

حکومت کی جانب سے لاک ڈاؤن میں نرمی کا اعلان کیا گیا تو یہ سوچ کر ڈر لگا کہ اب تو لوگ بالکل بھی پرواہ نہیں کریں گے۔ دوسری طرف خوشی بھی ہوئی کہ اب کم از کم لاک ڈاؤن کی وجہ سے کوئی شخص کسی دوسرے انسان کے آگے ہاتھ پھیلانے پر مجبور نہیں ہو گا۔

اب چوں کہ صبح سے شام پانچ بجے تک لاہور کی رونقیں لوٹ آئی ہیں تو امید ہے کہ یہ شہر اب اس کے اپنوں کو سنبھال ہی لے گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG