رسائی کے لنکس

logo-print

تھر کے بچوں کی اموات ایک بار پھر شہ سرخیوں میں


صوبائی سکریٹری صحت کے مطابق، تھرپارکر کے سرکاری اسپتالوں سے حاصل کردہ اعداد و شمار کے مطابق، رواں ماہ کے 12 روز میں اب تک 17 بچے انتقال کرچکے ہیں، جب کہ دیگر صحتیاب ہوکر اسپتالوں سے جا چکے ہیں، جس کے بعد حکومت کی جانب سے ’ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کا اعلان سامنے آیا ہے‘

کراچی: صوبہ سندھ کا ضلع تھرپارکر گزشتہ کئی برسوں سے بچوں کی اموات کے باعث ذرائع ابلاغ کی شہ سرخیوں کی زینت بنا رہا ہے، وہیں 2016ء کا آغاز بھی تھرپارکر کے نومولود بچوں کے لئے کچھ اچھا، یا یوں کہا جائے کہ بہتری کا سال ثابت ہوتا دکھائی نہیں دے رہا۔

رواں ماہ کے آغاز سے ہی، بتایا جاتا ہے کہ تھرپارکر میں نومولود بچوں کی اموات کی خبریں مسلسل سامنے آ رہی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ درجنوں نومولود بچے ہلاک ہوئے ہیں۔

سندھ کے صوبائی سیکرٹری صحت، سعید منگنیجو نے وائس آف امریکہ کو صورت حال کے حوالےسے بتایا کہ ’ضلع تھرپارکر کے سرکاری اسپتالوں سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق، ماہ جنوری کے 12 روز میں اب تک 17 بچے فوت ہو چکے ہیں۔

بقول اُن کے، ’یہ وہ اعداد و شمار ہیں جو سرکاری اسپتالوں سے حاصل کئےگئے ہیں، جبکہ رواں ماہ کے آغاز پر درجنوں بچے اسپتال داخل کرائَے گئے تھے جسمیں سے کئی بچے صحتیاب ہوئے ہیں۔‘

انھوں نے بتایا کہ ’وقت سے قبل پیدائش، یعنی پری مچیور ڈلیوریاں، کم عمر مائیں، ماں کی کمزور صحت سے بچے کے وزن میں کمی یا کمزوری ان بچوں کی پیدائش میں پیچیدگیاں ان اموات کی بڑی وجہ ہیں‘۔

سیکرٹری صحت کا کہنا تھا کہ ’تھر سندھ کا وہ ضلع ہے جہاں ہر سال جب بھی بارش کم ہوتی ہے یا نہیں ہوتی تو قحط سالی کے اثرات باسیوں اور فصلوں سے لےکر ان کی غذائیت پر پڑتے ہیں، جس کی وجہ سے حاملہ ماؤں کی خوراک میں کمی اسکے بچے پر بھی اثرانداز ہوتی ہے‘۔

تھر میں صحت کے شعبے میں حکومتی اقدامات کے حوالے سے کئےگئے ایک سوال کے جواب میں سیکرٹری صحت نے بتایا کہ ’حکومت سندھ تھرپارکر میں نیوٹریشن کا پروگرام جاری رکھے ہوئے ہے، جبکہ سرکاری اسپتالوں میں سہولیات کی فراہمی ممکن بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔حکومت سندھ اس بات کی کوشاں ہے کہ اموات میں کمی لائی جائے، جس سلسلے میں اقدامات کا فیصلہ ہوا ہے‘۔

سرکاری سطح پر صوبائی محکمہٴ صحت کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ 'تھرپارکر میں بچوں کی اموات کی کوئی ایک وجہ نہیں۔ بلکہ، مختلف معاشرتی پہلو قرا دئے گئے ہیں۔ صوبائی محکمہ صحت سندھ کی جانب سے بچوں کی اموات، ماؤں کی کمزور صحت، کم عمری کی شادیاں، بچوں میں وقفہ نا ہونا، کمزور بچوں کی پیدائش، جسے عام زبان میں ’مال نیوٹریشن‘ کہا جاتا ہے بتائی گئی ہے۔

ہلاکتون کے اعداد و شمار میں تضاد

بتایا جاتا ہے کہ تھر کی موجودہ صورتحال غذائی قلت اور سہولیات کی کمی کے سبب پیش آرہی ہے۔ اموات کے حوالے سے، ذرائع ابلاغ میں آنے والی خبروں اور سرکاری اعداد و شمار میں تضاد سامنے آ رہا ہے۔ سرکاری اطلاعات کے مطابق، 12 دںوں کے اندر صرف 17 بچے فوت ہوئے ہیں، جبکہ ذرائع ابلاغ پر نشر ہونے والی خبروں اور غیر مصدقہ اعداد و شمار کے مطابق اموات کی کل تعداد 30 سے تجاوز کر گئی ہے۔

کئی اسپتالوں میں درجنوں بچے داخل

موجودہ اطلاعات کے مطابق تھرپارکر کے مختلف حصوں، ننگرپارکر، مٹھی، چھاچھرو، ڈیپلو اور دیگرکے کئِ اسپتالوں میں علاج و معالجے کی غرض سے درجنوں نومولود زیر علاج ہیں۔

تھر میں ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرنے کا فیصلہ

تھر میں بچوں کی اموات کے بعد صوبہ سندھ کی حکومت کی جانب سے تھرپارکر میں ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرنے کا اعلان سامنے آیا ہے۔ حکومت سندھ کی جانب سے تھر کے باسیوں میں قحط سالی سے متاثرہ افراد میں گندم تقسیم کرنے اور اسپتالوں سے دور رہائشی علاقوں میں موبائل ڈسپینسریاں اور طبی عملہ بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

XS
SM
MD
LG