رسائی کے لنکس

پنجاب اسمبلی میں احمدیوں کے خلاف قرارداد کی منظوری، معاملہ ہے کیا؟


(فائل فوٹو)

پاکستان کے صوبے پنجاب کی اسمبلی نے احمدیوں کو اقلیتی کمیشن میں شامل نہ کرنے کے فیصلے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے 'تحفظِ ختمِ نبوت و ناموسِ رسالت' سے متعلق ایک قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی ہے۔

قرارداد کے متن میں کہا گیا ہے کہ اگر قادیانی جماعت کے سربراہ یہ تسلیم کر لیں کہ وہ غیر مسلم ہیں تو اُنہیں اقلیتی کمیشن میں شامل کر لیا جائے۔

قرارداد حکمراں اتحاد میں شامل مسلم لیگ (ق) کے رکن پنجاب اسمبلی اور صوبائی وزیر معدنیات حافظ عمار یاسر نے منگل کو اسمبلی میں پیش کی۔

قرارداد میں کہا گیا ہے کہ ختمِ نبوت کا معاملہ ایک ریڈ لائن ہے جسے کسی کو عبور کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

حافظ عمار یاسر نے قرارداد کا متن پڑھتے ہوئے کہا کہ پیغمبرِ اسلام اللہ کے آخری نبی تھے اور جو یہ ایمان نہیں رکھتا وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے۔

قرارداد میں قادیانیوں کو اقلیتی کمیشن میں شامل نہ کرنے کے فیصلے پر وفاقی حکومت کو خراج تحسین پیش کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ قادیانی نہ تو آئینِ پاکستان کو مانتے ہیں اور نہ ہی اپنے آپ کو غیر مسلم اقلیت تسلیم کرتے ہیں۔

قرارداد میں کہا گیا ہے کہ پنجاب اسمبلی کا ایوان وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ ختمِ نبوت کے معاملے کو بار بار اُچھالنے والے سازشی عناصر کو بے نقاب کر کے قرار واقعی سزا دی جائے۔

قرارداد میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ہندو، سکھ اور عیسائی برادری کے اقلیتی کمیشن میں شامل ہونے پر کبھی اعتراض نہیں کیا گیا کیوں کہ وہ خود کو غیر مسلم تسلیم کرتے ہیں۔ البتہ قادیانی ختمِ نبوت کے منکر اور خود کو مسلمان کہتے ہیں۔ لہذٰا اُنہیں کسی طور کمیشن میں شامل نہیں کیا جا سکتا۔

خیال رہے کہ چند روز قبل پاکستان میں اقلیتی کمیشن میں قادیانی رکن کو مبینہ طور پر شامل کرنے کے معاملے پر مذہبی حلقوں کی جانب سے سخت ردِ عمل سامنے آیا تھا۔

بعدازاں وفاقی وزیر مذہبی اُمور نور الحق قادری نے وضاحت کی تھی کہ کسی قادیانی کو اقلیتی کمیشن میں شامل کرنے کا فیصلہ نہیں ہوا تھا۔ البتہ چند وزرا نے اُنہیں شامل کرنے کی حمایت کی تھی۔

حافظ عمار یاسر کی جانب سے قرارداد پیش کیے جانے کے بعد اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویزالٰہی نے کہا کہ ہم سب ناموسِ رسالت کے محافظ ہیں۔

اسپیکر پنجاب اسمبلی کا کہنا تھا کہ وفاقی کابینہ نے طے کیا ہے کہ جب تک قادیانیوں کے سربراہ تسلیم نہیں کرتے کہ وہ غیر مسلم ہیں تب تک وہ اقلیتی کمیشن میں شامل نہیں ہو سکتے۔

چوہدری پرویز الہی نے کہا کہ اس قرارداد کی منظوری میں ہمار اتحاد نظر آنا چاہیے۔ کوئی اس میں رخنہ ڈالنے کی کوشش نہ کرے۔

بعدازاں مذکورہ قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی گئی۔

قرارداد کے متن میں نسبتاً سخت زبان کے استعمال پر پاکستان میں جماعت احمدیہ کے ترجمان سلیم الدین نے اسے افسوس ناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اِس موقع پر اِس طرح کی قرارداد منظور کرنا بلا جواز ہے۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے جماعت احمدیہ پاکستان کے ترجمان نے کہا کہ اگر حکومتی سطح پر اتنے بڑے ایوانوں میں یہ بات اُٹھے گی تو آپ سمجھ سکتے ہیں کہ معاشرے میں اِس کے کیا اثرات ہوں گے۔

سلیم الدین نے کہا کہ یہ بات شروع اُس وقت ہوئی جب اقلیتی کمیشن کے حوالے سے بات ہو رہی تھی۔

اُن کے بقول پہلے حکومت نے ایک موقف اپنایا پھر یوٹرن لے لیا، حالانکہ اس معاملے سے اُن کی جماعت کا کوئی تعلق نہیں تھا۔ جماعت نے اس ضمن میں حکومت کو کوئی تجویز نہیں دی تھی۔

سلیم الدین کا کہنا تھا کہ اُن کی جماعت کسی اقلیتی کمیشن کا حصہ نہیں بنے گی۔ اُن کا کہنا تھا کہ پنجاب کے ایک وزیر نے غیر ضروری طور پر اس معاملے کو اُچھال کر غلط رنگ دینے کی کوشش کی ہے جس پر اُنہیں افسوس ہے۔

پاکستان میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر مہدی حسن کی رائے میں پاکستان میں موجودہ حکومت کے سربراہ سیاسی طور پر زیادہ تجربہ کار نہیں ہیں اور اسی لیے اس طرح کے معاملات سر اٹھا رہے ہیں۔

ڈاکٹر مہدی حسن کے بقول عمران خان سیاست اور قومی معاملات میں بار بار مذہب کے حوالے دیتے ہیں۔ لہذٰا اس کا اثر اُن کی جماعت اور حکومت پر بھی پڑتا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ قادیانیوں کے لیے پاکستان میں کوئی جگہ نہیں ہے۔

ڈاکٹر مہدی حسن کے بقول پاکستان مذہب کی بنیاد پر قائم ہونے والی ریاست ہے۔ لہذٰا اس میں مذہبی ذہن رکھنے والے افراد کا اثر و رسوخ ہے۔ اگرچہ الیکشن میں اُنہیں کامیابی نہیں ملی لیکن پھر بھی وہ طاقت رکھتے ہیں۔ لہذٰا حکومت کا رویہ ہمیشہ معذرت خواہانہ ہوتا ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ قادیانیوں کے ساتھ پاکستان میں بہت زیادتیاں ہوئی ہیں۔ ان پر دہشت گرد حملے ہوئے اور اب بہت سے قادیانی ملک چھوڑ کر جا چکے ہیں۔ جو رہ گئے ہیں ان کی زندگی بھی بہت مشکل ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG