رسائی کے لنکس

لاک ڈاؤن: کسی کے لیے زحمت اور کسی کے لیے رحمت کا باعث


لاک ڈاؤن بیشتر افراد کے لیے زحمت ہے لیکن بعض افراد نے اسے اپنے لیے رحمت بنا لیا ہے۔ (فائل فوٹو)

'ہر طرف مایوسی ہے، گھر میں کھانے کے لیے کچھ نہیں ہے۔ ایسے حالات میں بچوں کو کیسے دیکھیں۔ ان کی بھوک، پیاس کیسے برداشت کریں؟ ایک غریب شخص اپنے بچوں کی بھوک دیکھ کر نہ سو سکتا ہے، نہ بیٹھ سکتا ہے اور نہ ہی کچھ کر سکتا ہے۔ اب یہی حل ہے کہ بچوں کو لے کر بھیگ مانگنے کے لیے سڑک پر بیٹھ جاؤں۔'

یہ جذبات ہیں توفیق احمد کے جو لاہور کے ایک ریستوران میں بطور ویٹر کام کرتے تھے۔ روزانہ ملنے والی اجرت پر توفیق کا گزر بسر تھا لیکن لاک ڈاؤن کے باعث ریستوران کی بندش نے اُنہیں کنگال کر دیا ہے۔

کرونا وائرس کے پیشِ نظر جاری لاک ڈاؤن میں ریستوران انڈسٹری سے وابستہ توفیق احمد جیسے لاکھوں افراد بے روزگار ہو چکے ہیں۔

پاکستان میں ریستورانوں کی نمائندہ تنظیم 'آل پاکستان ریسٹورنٹس ایسوسی ایشن' کے کنوینر اطہر چاؤلہ کے مطابق لاک ڈاؤن کی وجہ سے پاکستان بھر میں قائم ایک لاکھ سے زائد ریستوران بند ہیں۔ ان ریستورانوں میں کام کرنے والے تقریباً 22 لاکھ افراد مشکلات کا شکار ہیں۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے توفیق احمد نے کہا کہ "خاندان کا اکلوتا کمانے والا جو مہینے میں صرف 14 سے 15 ہزار روپے کماتا ہو، اگر وہ بھی بے روزگار ہوجائے تو یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ اس کے گھر میں کیا حالات ہوں گے۔"

توفیق احمد کے بقول انہیں نہیں معلوم کہ وہ بجلی، گیس اور پانی کے بلز کہاں سے ادا کریں گے۔ بچوں کی فیسیں اور گھر کا کرایہ کیسے دیں گے؟

توفیق کے ایک اور ساتھی محمد عمران جٹ نے کہا کہ اگر لاک ڈاؤن میں مزید توسیع کی گئی تو وہ بھوک سے مر جائیں گے۔

محمد عمران کا کہنا تھا کہ ان کے بچے بھی ہیں اور والدین ضعیف ہیں۔ اس صورتِ حال میں ہم کیا کریں گے؟ کچھ پتا نہیں۔

احساس پروگرام سے مالی مدد

لاک ڈاؤن سے بے روزگار ہونے والے محمد عمران کا کہنا تھا کہ انہوں نے حکومت کی طرف سے اعلان کردہ احساس پروگرام کے تحت مالی مدد حاصل کرنے کے لیے میسج کیا تھا۔ جس کا جواب آیا کہ اُنہیں جانچ پڑتال کے بعد مطلع کیا جائے گا۔ لیکن اتنے دن گزر جانے کے بعد بھی کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

محمد عمران
محمد عمران

توفیق احمد کا کہنا تھا کہ چوں کہ ان کا تعلق صوبہ خیبر پختونخوا سے ہے اور ان کا شناختی کارڈ بھی وہیں کا ہے، اس لیے انہوں نے احساس پروگرام کے تحت حکومتی امداد حاصل کرنے کے لیے میسج ہی نہیں کیا۔

توفیق نے مزید کہا کہ وہ لاہور میں پھنس چکے ہیں۔ اب ایسے حالات بھی نہیں ہیں کہ وہ بچوں کو لے کر اپنے آبائی علاقے ہی منتقل ہو جائیں۔

لاک ڈاؤن آفت نہیں، رحمت

لاک ڈاؤن کی وجہ سے جہاں ایک طرف ریستوران بند ہیں۔ وہیں گھروں میں کھانا ڈیلیور کرنے کا کام بڑھ رہا ہے۔ کھانا ڈیلیور کرنے والی ایک معروف آن لائن سروس 'فوڈ پانڈا' سے منسلک شہریار نے بتایا کہ عام حالات کی نسبت لاک ڈاؤن میں ان کا کام زیادہ اچھا چل رہا ہے۔

شہریار کا کہنا تھا "ہماری شفٹ چار گھنٹے کی ہوتی ہے۔ عام دنوں میں اس دورانیے میں سات، آٹھ آرڈرز ڈیلیور کرتے تھے۔ لیکن لاک ڈاؤن کی وجہ سے کام میں تیزی آئی ہے اور اب ہم 15، 16 آرڈرز ڈیلیور کر رہے ہیں جس کی وجہ سے ہماری آمدنی میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔"

ایک اور ڈیلیوری بوائے انیس شکیل کا کہنا تھا کہ لاک ڈاؤن کا انہیں کافی فائدہ ہوا ہے۔ پہلے وہ 10، 12 ہزار روپے کماتے تھے لیکن اب 15، 16 ہزار روپے ماہانہ کما رہے ہیں۔

انیس شکیل
انیس شکیل

'آل پاکستان ریسٹورنٹس ایسوسی ایشن' کے کنوینر اطہر چاؤلہ کے مطابق پاکستان میں ریستوران انڈسٹری ملک کی دوسری بڑی صنعت ہے جس کی سالانہ آمدنی ایک سے ڈیڑھ کھرب کے درمیان ہے۔ ان کے بقول لاک ڈاؤن کے باعث اس وقت تقریباً پوری صنعت بند ہے۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے اطہر چاؤلہ نے کہا کہ ان کی تنظیم سے منسلک ریستوران مالکان نے ورکرز کو مارچ کی تنخواہیں دی ہیں اور پوری کوشش کر رہے ہیں کہ اپریل کی تنخواہیں بھی دی جائیں۔ لیکن یہ ادائیگی ریستوران مالکان کی جیبوں سے ہو گی۔

اطہر چاؤلہ نے بتایا کہ حکومت کی طرف سے اگرچہ ڈیلیوری کی اجازت دی گئی ہے۔ لیکن ڈیلیوری کے کاروبار کا ریستوران انڈسٹری میں صرف 15 فی صد حصہ ہے جو ڈوبتے کو تنکے کا سہارا کی مصداق ہے۔

انہوں نے کہا کہ لاک ڈاؤن کے دوران پورے پاکستان کے شاپنگ مالز بند ہیں جن میں قائم ریستورانوں سے ڈیلیوری بھی نہیں کی جا رہی۔ اُن کے بقول پاکستان کے 80 سے 90 فی صد بڑے ریستورانوں میں ڈائن اِن کی سہولت ہے اور یہی ان کی کمائی کا بڑا ذریعہ ہے۔ لہٰذا ڈیلیوری کی اجازت ملنے کے باوجود وہ اب بھی بند ہیں۔

توفیق احمد لاہور کے ایک ریستوران میں کام کرتے تھے جو لاک ڈاؤن کی وجہ سے اب بے روزگار ہیں۔
توفیق احمد لاہور کے ایک ریستوران میں کام کرتے تھے جو لاک ڈاؤن کی وجہ سے اب بے روزگار ہیں۔

ریستوران انڈسٹری سے منسلک دیگر انڈسٹریز

اطہر چاؤلہ نے حکومت سے ریستوران انڈسٹری کو صنعت کا درجہ دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ پاکستان کی دوسری بڑی انڈسٹری ہے جس کے ساتھ 30 سے 40 دیگر صنعتیں بھی منسلک ہیں۔

اُن کے بقول ریستوران انڈسٹری کا 99 فی صد دار و مدار مقامی طور پر تیار کردہ اشیا پر ہوتا ہے۔ ڈیڑھ کھرب کے حجم کی اس انڈسٹری کا کم از کم 50 فی صد دوسری صنعتوں کو بھی جاتا ہے جن میں مصالحہ جات، دودھ اور متعدد دیگر صنعتیں شامل ہیں۔ جب کہ کرائے، بلز اور دیگر چیزیں علیحدہ ہیں۔

حکومت سے مطالبات

کرونا وائرس کے باعث کیے گئے لاک ڈاؤن سے پیدا ہونے والی صورتِ حال کے پیشِ نظر اطہر چاؤلہ نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ حکومت ایک آرڈیننس جاری کرے اور ریستوران مالکان کے اگلے تین ماہ کے کرائے معاف کرائے جائیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کو رواں مالی سال کے لیے ریستورانوں کا سالانہ انکم ٹیکس صفر کر دینا چاہیے۔ کیوں کہ اگر اگلے دو، تین ماہ میں کاروبار معمول پر نہیں آتا تو ریستوران مالکان سالانہ ٹیکس ادا ہی نہیں کر سکیں گے۔

اُن کا مزید کہنا تھا کہ موجودہ صورتِ حال میں بجلی اور گیس کے بلوں میں بھی رعایت دی جانی چاہیے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG