رسائی کے لنکس

سینئر ڈاکٹروں کا پاکستان میں لاک ڈاؤن سخت کرنے کا مطالبہ


ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ اب کہیں سنجیدہ لاک ڈاؤن نظر نہیں آ رہا۔ ہر جگہ لوگوں کا رش ہے۔ ہم صرف مساجد ہی نہیں ہر جگہ رش نہ لگانے پر زور دے رہے ہیں۔

پاکستان کے سینئر ڈاکٹروں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ کرونا وائرس کی وبا سے بچاؤ کے لیے لاک ڈاؤن میں نرمی کے بجائے اسے مزید سخت کیا جائے۔

کراچی پریس کلب میں انڈس اسپتال کے سربراہ ڈاکٹر عبدالباری، پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے قیصر سجاد، عاطف حفیظ اور دیگر کا پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ملک میں 26 فروری کو کرونا وائرس کا پہلا کیس سامنے آنے کے بعد سندھ میں جزوی لاک ڈاؤن 18 مارچ سے کیا گیا لیکن 14 اپریل کو لاک ڈاؤن میں نرمی کی گئی تو کیسز کی تعداد بڑھنا شروع ہوگئی اور ڈاکٹرز سمیت پیرا میڈیکل عملہ بھی کرونا کا شکار ہونے لگا۔ صرف سندھ میں اب تک 162 ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل اسٹاف کرونا کا سے متاثر ہو چکے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ پانچ دن میں مریضوں میں 40 فی صد اضافہ ہوا ہے۔ یہ خام خیالی ہے کہ ملک میں یہ مرض نہیں ہے۔ ماہرین سمجھتے ہیں کہ کیسز کی تعداد مزید بڑھے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ اب کہیں سنجیدہ لاک ڈاؤن نظر نہیں آ رہا۔ ہر جگہ لوگوں کا رش ہے۔ ہم صرف مساجد ہی نہیں ہر جگہ رش نہ لگانے پر زور دے رہے ہیں۔ لوگ زیادہ جمع ہوں گے تو وبا تیزی سے پھیلے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ لوگ گھروں میں تراویح ادا کریں۔

ڈاکٹروں کے مطابق ہیلتھ ورکرز کا کہنا ہے کہ وہ لوگوں کی غلطیوں کا خمیازہ کیوں بھگتیں۔ طبی عملہ گھر جا کر اپنے بچوں سے نہیں مل پاتا۔

انہوں نے اس خدشہ کا بھی اظہار کیا کہ اگر مریض بڑھ گئے تو مطلوبہ تعداد میں بستر نہیں ہوں گے۔

سینئر ڈاکٹرز کا کہنا تھا کہ اگلے دو یا چار ہفتوں میں کرونا وائرس مزید شدت اختیارکرے گا۔ وائرس سے لڑنے کی صلاحیت نہیں ہے۔ اس سے بچاؤ کا راستہ صرف احتیاط ہے۔

ڈاکٹرز کا کہنا تھا کہ ماہ رمضان میں حتی الامکان احتیاط کی جائے۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر فیاض احمد کا کہنا تھا کہ 16 سے 20 اپریل تک چار روز میں متاثرین کی تعداد میں 40 فی صد اضافہ تک ہوا ہے اور اگر لاک ڈاؤن نہ کیا جاتا تو حالت اور بھی بری ہوتی۔

انہوں نے کہا کہ اگر حکومت نے لاک ڈاؤن کو نرم کیا تو حالات بہت خراب ہوسکتے ہیں۔ ہمارے پاس افرادی قوت اور میڈیکل کی سہولیات مغرب کے معاملے میں بہت کم ہیں۔ اس لیے اگلے چند ہفتے بہت خطرناک ہیں۔

پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری ڈاکٹر قیصر سجاد کا کہنا تھا کہ اب لاک ڈاؤن کے نام پر مذاق ہو رہا ہے۔ ڈاکٹرز ملک بھر میں سخت لاک ڈاؤن کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

انہوں نے علما سے بھی درخواست کی کہ مساجد میں نمازوں کی ادائیگی کے فیصلے پر نظر ثانی کی جائے۔

رمضان میں مساجد میں باجماعت نماز کے فیصلے پر نظر ثانی کی اپیل

چوٹی کے ایک درجن ڈاکٹرز نے حکومت اور تاجر برادری کو ایک بھی خط لکھا ہے جس میں گزارش کی گئی ہے کہ وہ رمضان المبارک میں مساجد میں باجماعت نماز کی ادائیگی کے فیصلے پر نظر ثانی کریں۔ اسی طرح اگلے ایک ماہ ضروری کاروبار کے علاوہ تمام کاروبار بند رکھے جائیں۔

خط میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر ایسا نہ کیا گیا تو اس کا نتیجہ ناقابل تلافی نقصان کی صورت میں نکل سکتا ہے۔

ڈاکٹرز کے خط میں کہا گیا ہے کہ کرونا وائرس سے پیدا شدہ صورت حال تاریخ میں کبھی دیکھنے میں نہیں آئی۔

حکومت اور علمائے کرام کے درمیان ہونے والے معاہدے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ڈاکٹرز کا کہنا تھا کہ مساجد میں زیادہ تر افراد 50 سال سے زائد عمر ہی کے سب سے زیادہ ہوتے ہیں۔ ایسے میں رمضان المبارک میں جب نمازیوں کی تعداد زیادہ ہوتی ہے اس وقت انہیں نماز پڑھنے سے روکنا اور بھی مشکل ہوگا۔

خط کے مطابق سب سے کمزور گروپ میں وائرس کے پھیلاو کو روکنے کے پہلے اور اہم ترین اصول کی واضح خلاف ورزی ہوتی ہوئی نظر آرہی ہے۔ جس سے اس شبہے کو تقویت مل رہی ہے کہ ایسے عمر رسیدہ افراد کو مسجد میں آنے سے روکنا بہت مشکل ہوگا۔

ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ رمضان المبارک میں نمازیوں کی زیادہ تعداد میں حاضری اور نماز تراویح کی طویل مجالس کے نتیجے میں وہاں انارکی پھیل سکتی ہے۔ سماجی فاصلے کے اصولوں کے مطابق مساجد میں باقاعدہ نمازیوں کی محض 20 سے 25 فی صد تعداد ہی سما سکے گی۔ باقی رہ جانے والے احتجاج کر سکتے ہیں جس سے صورت حال مزید خراب ہوگی۔

ان کہنا ہے کہ ایسے میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے نتیجے میں صورت حال گھمبیر ہوسکتی ہے۔ مریضوں کی تعداد میں اضافے کے ساتھ اموات میں بھی اضافہ ہوسکتا ہے۔

'زیادہ لوگوں کے باہر نکلنے سے وائرس کو افزائش کے مواقع ملیں گے'

خط لکھنے والوں میں شامل اور انڈس اسپتال کراچی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر عبدالباری خان نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر یہ صورتحال برقرار رہتی ہے تو ہمارے نظام صحت پر دباو بڑھ سکتا ہے جس کو برداشت کرنے کی صلاحیت ہمارے نظام میں بالکل نہیں۔

ان کے بقول زیادہ تعداد میں لوگوں کے باہر نکلنے سے وائرس کو افزائش کے مواقع ملیں گے اور اس بات کے خدشات ہیں کہ مساجد وائرس کے پھیلنے میں معاون ثابت ہو سکتی ہیں جو علمائے کرام کی ساکھ کو خطرے میں ڈالنے اور قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کا باعث بن سکتا ہے۔

خط لکھنے والے ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ پاکستان کی حیثیت اسلام کے قلعے کی ہے۔ ایسے حالات میں وبا کو کنٹرول نہ کیا گیا تو صورت حال سے ملک کا نقصان، اور عالم اسلام کے زوال کا باعث بن سکتی ہے۔

خط میں اس جانب بھی توجہ مبذول کرائی گئی ہے کہ پاکستانی معاشرے میں بد انتظامی، بے ضابطگی اور قواعد پر عمل پیرا نہ ہونا بنیادی طور پر ایک عام سی بات ہے۔ وعدہ خلافی، غلط بیانی اور امانت میں خیانت معمول ہے۔

ان کے بقول ان عادات کے ہوتے ہوئے یہ تقریباََ ناممکن ہے کہ معاہدے میں طے کی گئی شرائط پر عمل کروایا جاسکے۔

ڈاکٹرز نے حکومت سے کہا ہے کہ حالیہ فیصلے پر نظرثانی کرتے ہوئے مساجد میں صرف پانچ نمازیوں کی اجازت دینے کا فیصلہ ہی برقرار رکھا جائے۔ جو پاکستان، علما اور عوام کے بہترین مفاد میں ہوگا۔

خط میں تاجر برادری سے بھی کہا گیا ہے کہ وہ اس صورت حال میں صبر سے کام لیں۔ بازاروں پر پابندی کو برقرار رکھا جائے۔ غیر ضروری دکانوں اور کاروبار کے بجائے انتہائی ضروری کاروبار جس میں اجناس کی فروخت شامل ہے اسی کی اجازت ہونی چاہیے۔

خط لکھنے والوں میں ڈاکٹر عبدالباری کے علاوہ، ڈاکٹر فیصل محمود، لندن میں مقیم ڈاکٹر خرم خان، ڈاکٹر سعد نیاز، ڈاکٹر حنیف، ڈاکٹر زاہد جمال، ڈاکٹر یحییٰ چاولہ، مدینہ میں مقیم ڈاکٹر فرید شاہ اور مکہ مکرمہ میں موجود ڈاکٹر مغیث کے علاوہ کئی اور ڈاکٹرز بھی شامل ہیں۔

علماء کا موقف

جامعہ بنوریہ عالمیہ کے مہتمم اور شیخ الحدیث مفتی محمد نعیم کا کہنا ہے کہ مساجد کی انتظامیہ کو اس بات کی واضح تلقین کی گئی ہے کہ حکومت اور علما کے معاہدے میں طے کردہ شرائط پر مکمل عمل درآمد کیا جائے۔

ان کے بقول 50 سال سے زائد عمر کے افراد کو مساجد میں نہ آنے دیا جائے۔ مسجد میں صف کے درمیان چھ فٹ کا فاصلہ برقرار رکھا جائے اور اسی طرح مساجد میں نمازیوں کو پابند کیا جائے کہ صرف باجماعت نماز کے علاوہ تمام نمازیں گھروں پر ادا کی جائیں۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو میں مفتی محمد نعیم کا کہنا تھا کہ علما اس حوالے سے حکومت کے ساتھ تعاون پر مکمل تیار ہیں جب کہ مساجد کی انتظامیہ کو یہ واضح کر دیا گیا ہے کہ ان شرائط پر عمل درآمد نہ کرنے کی صورت میں انتظامیہ کو مساجد بند کرنے کا مکمل اختیار ہوگا۔

مفتی محمد نعیم کے خیال میں مساجد میں سماجی فاصلے اور دیگر احتیاطی تدابیر پر عمل کروایا جا رہا ہے لیکن بازاروں میں صورت حال یکسر مختلف ہے اور اس پر عمل نہیں ہو رہا۔

انہوں نے کہا کہ اس طرح کا امتیاز رکھنے پر لوگ مشتعل ہو جاتے ہیں لیکن حکومت کی جانب سے بتائی گئی احتیاطی تدابیر پر مساجد میں مکمل عمل درآمد کے لیے ہر ممکن تعاون کیا جا رہا ہے۔

حکومت کا موقف کیا ہے؟

ادھر وزیر اعظم عمران خان نے گزشتہ روز واضح کیا تھا کہ اگر کرونا وائرس کا پھیلاؤ نہ رک سکا تو حکومت کو مساجد کو بند کرنا پڑ سکتا ہے۔

انہوں نے کہا تھا کہ ایک آزاد مملکت ہونے کے ناطے ہم اپنے شہریوں کو مساجد میں جانے سے نہیں روک سکتے۔ نمازیوں کو زبردستی نماز کی ادائیگی سے نہیں روکا جاسکتا۔ آزاد ملک میں فیصلے مسلط نہیں بلکہ انہیں فیصلوں میں حصے دار بنایا جاتا ہے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت نے علما سے مشاورت کے طویل سلسلے کے بعد 20 نکاتی معاہدہ تیار کیا۔ اس کے باوجود وہ لوگوں سے درخواست کرتے ہیں کہ رمضان میں گھر پر ہی نماز اور دیگر عبادات ادا کریں۔

انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر وائرس کا پھیلاؤ بڑھتا ہے تو حکومت کے پاس نمازوں کی اجتماعی ادائیگی کو روکنے کے سوا کوئی آپشن نہیں ہوگا لیکن کوئی نہیں چاہتا کہ مسجدیں ویران ہوں۔

دوسری جانب اب تک صوبائی حکومتوں نے کوئی ایسی حکمت عملی نہیں بنائی جس سے علما اور وفاقی حکومت کے درمیان ہونے والے معاہدے پر عمل درآمد کیا جا سکے۔

تاہم وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے اپنے ایک بیان میں ایک بار پھر عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ نمازوں کی ادئیگی گھروں پر ہی کریں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG