رسائی کے لنکس

logo-print

آسیہ بی بی سے متعلق تحریکِ لبیک کے بیان کا نوٹس لینے کا مطالبہ


تحریکِ لبیک کے سربراہ خادم رضوی دیگر رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کر رہے ہیں۔ (فائل فوٹو)

تحریکِ لبیک نے سپریم کورٹ اور حکومت کو متنبہ کیا تھا کہ اگر توہینِ مذہب کے مقدمے میں قید آسیہ بی بی کی سزا کے خلاف اپیل منظور کی گئی تو ایسا کرنے والوں کو معاف نہیں کیا جائے گا۔

انسانی حقوق کے کارکنوں نے پاکستان کی ایک مذہبی و سیاسی جماعت کے اس بیان پر تشویش کا اظہار کیا ہے جس میں جماعت نے سپریم کورٹ اور حکومت کو متنبہ کیا تھا کہ اگر توہینِ مذہب کے مقدمے میں قید آسیہ بی بی کی سزا کے خلاف اپیل منظور کی گئی تو ایسا کرنے والوں کو معاف نہیں کیا جائے گا۔

'تحریکِ لبیک یا رسول اللہ' کی طرف سے یہ انتباہ سوشل میڈیا ہر جاری ہونے والے ایک بیان میں دیا گیا ہے۔

یہ بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب رواں ہفتے ہی عدالتِ عظمیٰ نے آسیہ بی بی کی سزائے موت کے خلاف اپیل کی سماعت مکمل کر کے فیصلہ محفوظ کیا ہے۔

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں تحریکِ لبیک کے رہنما محمد افضل قادری نے کہا ہے کہ اگر آسیہ بی بی کی سزا کو ختم کر کے انہیں رہا کیا جاتا ہے تو ججوں اور دیگر ذمہ داروں کے خلاف راست اقدام کیا جائے گا اور ملک بھر میں اس معاملے پر سخت احتجاج ہوگا۔

واضح رہے کہ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں عدالت عظمیٰ کے تین رکنی بینچ نے پیر کو سزا کے خلاف آسیہ بی بی کی درخواست پر ان کے وکیل اور استغاثہ کے دلائل سننے کے بعد مقدمے کا فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔ لیکن عدالت نے یہ نہیں بتایا کہ فیصلہ کب سنایا جائے گا۔

چیف جسٹس ثاقب نثار نے آسیہ بی بی کی اپیل کی سماعت کے دورا ن کہا تھا کہ عدالت نے اس مقدمہ کا فیصلہ صرف شواہد کی بنیاد پر کرنا ہے۔ عدالت نے میڈیا کو بھی اس مقدمے پر کسی قسم کے تبصرے سے روک دیا تھا۔

سپریم کورٹ کی واضح ہدایت کی باوجود تحریکِ لبیک کی طرف سے آسیہ بی بی کی سزا بحال رکھنے کے مطالبے پر انسانی حقوق کے کارکنوں کی طرف سے سخت تشویش کا اظہار اور حکومت اور عدلیہ سے اس بیان کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

انسانی حقوق کے مؤقر ادارے 'ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان' کی سابق چیئرپرسن زہرہ یوسف نے بدھ کو وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جب آسیہ بی بی کا مقدمہ عدالت میں ہے تو اس قسم کے بیانات پر نہ صرف حکومت بلکہ عدالت کو بھی نوٹس لینا چاہیے جو ان کے بقول معاشرے کے محروم طبقات میں عدم تحفظ کا احساس بڑھانے کا سبب بنتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایسے بیانات حکومت اور عدلیہ پر دباؤ بڑھانے کی کوشش ہیں اگرچہ ان کے بقول ماضی میں ایسی کوششیں کامیاب نہیں ہو سکی ہیں۔

انہوں نے سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قتل کے جرم میں سزائے موت پانے والے ممتاز قادری کا حوالہ بھی دیا جسے ملک کے بعض مذہبی حلقوں کے احتجاج کے باوجود پھانسی دے دی گئی تھی۔

پنجاب کے سابق گورنر سلمان تاثیر نے نومبر 2010ء میں آسیہ بی بی سے جیل میں ملاقات کے بعد توہینِ مذہب کے قانون کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے اس میں ترمیم کی بات کی تھی جس کے بعد ان کے سرکاری محافظ ممتاز قادری نے انہیں گولی مار کر قتل کر دیا تھا۔

ممتاز قادری کو اسلام آباد کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے سلمان تاثیر کے قتل کے مقدمے میں سزائے موت سنائی تھی جس کے خلاف سپریم کورٹ میں دائر اپیل مسترد ہونے کے بعد ممتاز قادری کو فروری 2016ء میں پھانسی دے دی گئی تھی۔

آسیہ بی بی کا تعلق مسیحی برداری سے ہے اور انہیں 2010ء میں توہینِ مذہب کا الزام ثابت ہونے پر ایک ذیلی عدالت نے موت کی سزا سنائی تھی جس کو بعد ازاں لاہور ہائی کورٹ نے بھی برقرار رکھا تھا۔

آسیہ بی بی پر الزام ہے کہ وہ جون 2009ء میں پنجاب کے ضلع شیخوپورہ میں واقع اپنے گاؤں کی خواتین کے ساتھ بحث و تکرار کے دوران پیغبرِ اسلام اور اسلام کی توہین کی مرتکب ہوئی تھیں۔ لیکن وہ اس الزام سے انکار کرتی ہیں۔

آسیہ بی بی کے خلاف توہینِ مذہب کا مقدمہ درج ہونے کے بعد سے وہ جیل ہی میں قید ہیں۔

پاکستان میں توہینِ مذہب ایک انتہائی حساس معاملہ ہے اور ماضی میں اس سے متعلق قانون کے مبینہ طور پر غط استعمال کے واقعات منظرِ عام پر آنے کے بعد انسانی حقوق کی تنظیمیں اس قانون کے خاتمے یا پھر اس کا غلط استعمال روکنے کا مطالبہ کرتی رہی ہیں۔

البتہ مذہبی حلقے اس قانون میں کسی بھی قسم کی ترمیم کے خلاف ہیں۔

پاکستان میں متعدد افرد کو توہینِ مذہب کے جرم میں ملک کی ذیلی عدالتیں سزائے موت سنا چکی ہیں لیکن اب تک ان میں سے کسی بھی مجرم کی سزا پر عمل درآمد نہیں ہوا ہے کیونکہ ان میں سے بیشتر افراد کی سزاؤں کے خلاف اپیلیں اعلیٰ عدالتوں میں زیرِ سماعت ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG