رسائی کے لنکس

سپریم کورٹ آسیہ بی بی کی اپیل کی سماعت آج کرے گی


آسیہ بی بی (فائل فوٹو)

سپریم کورٹ کی طرف سے پنجاب کے ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل اور آسیہ بی بی کے وکیل سیف الملوک کو بھی اپیل کی سماعت کی موقع پر حاضر ہونے کا نوٹس جاری کردیا گیا ہے۔

پاکستان کی عدالتِ عظمیٰ توہینِ مذہب کے مقدمے میں گزشتہ کئی برسوں سے جیل میں قید مسیحی خاتون آسیہ بی بی کی سزائے موت کے خلاف اپیل کی سماعت پیر کو کر ے گی۔

سپریم کورٹ کی طرف سے آئندہ ہفتے کے دوران مقدمات کی سماعت سے متعلق جاری کی جانے والی سپلیمنٹری کاز لسٹ کے مطابق سپریم کورٹ کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں عدالت کا تین رکنی بینچ آسیہ بی بی کی اپیل کی سماعت پیر 8 اکتوبر کو کرے گا۔

بینچ میں جسٹس آصف سعید کھوسہ اور جسٹس مظہر عالم خان میاں خیل بھی میں شامل ہوں گے۔

سپریم کورٹ کی طرف سے پنجاب کے ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل اور آسیہ بی بی کے وکیل سیف الملوک کو بھی اپیل کی سماعت کی موقع پر حاضر ہونے کا نوٹس جاری کردیا گیا ہے۔

آسیہ بی بی کے وکیل سیف الملوک نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں تصدیق کی ہے کہ سپریم کورٹ آسیہ بی بی کی اپیل پر سماعت پیر کو ہی کرے گی۔

مسیحی برداری کے ایک رہنما شاہد معراج نے ہفتے کو وائس آف امریکہ سے گفتگو میں سپریم کورٹ کی طرف سے آسیہ کی اپیل سماعت پیر کو کرنے کے معاملے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ وہ توقع کرتے ہیں کہ آسیہ کو انصاف ملے گا۔

آسیہ بی بی کا تعلق مسیحی برداری سے ہے اور انہیں 2010ء میں توہینِ مذہب کے الزام پر ایک مقامی عدالت نے موت کی سزا سنائی تھی۔ ان کی سزا کو بعد ازں لاہور ہائی کورٹ نے بھی برقرار رکھا تھا۔

آسیہ بی بی پر الزام تھا کہ وہ جون 2009ء میں پنجاب کے ضلع شیخوپورہ میں واقع اپنے گاؤں کی خواتین کے ساتھ بحث و تکرار کے دوران پیغبرِ اسلام اور اسلام کی توہین کی مرتکب ہوئی تھیں۔

تاہم آسیہ اس الزام سے انکار کرتی آئی ہیں۔ آسیہ بی بی کے خلاف توہینِ مذہب کا مقدمہ درج ہونے کے بعد سے وہ جیل ہی میں قید ہیں۔

پاکستان میں توہینِ مذہب ایک حساس معاملہ ہے اور بعض اوقات اس الزام کا سامنا کرنے والے افراد کو مشتعل افراد کے ہاتھوں سنگین اور مہلک صورتِ حال کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔

انسانی حقوق کے مؤقر غیر سرکاری ادارے 'ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان' کے سربراہ مہدی حسن نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بات کئی بار میڈیا اور دیگر حلقوں میں زیرِ بحث آ چکی ہے کہ توہینِ مذہب سے متعلق قوانین کا غلط استعمال ہوتا ہے اور ان میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔

تاہم ان کے بقول مذہبی حلقوں کی اثر و رسوخ اور دباؤ کی وجہ سے ایسا نہیں اب تک ایسا نہیں ہو سکا ہے۔

مہدی حسن نے مزید کہا، "جب سے یہ قانون بنا ہے اس وقت سے لے کر اب تک تقریباً 1100 افراد کے خلاف اس قانون کے تحت مقدمات درج کیے گئے ہیں جن میں ایک بڑی تعداد مسلمانوں کی ہے۔ یہ خیال کیا جاتا ہے کہ مسلمان اپنے مذہب یا کسی مذہبی شخصییت کی توہین سوچ بھی نہیں سکتے ہیں۔ اس وجہ سے بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اس قانون کے غلط استعمال کو روکنا ضروری ہے۔"

دوسری طرف پاکستان کے مذہبی حلقوں کی اکثریت اس قانون میں کسی بھی قسم کی ترمیم کے خلاف ہے اور وہ اس قانون کے غلط استعمال کو روکنے پر اتفاق تو کرتے ہیں لیکن اس قانون میں کسی بھی طرح کی تبدیلی کے حق میں نہیں ہیں۔

پاکستان کی اسلامی نظریاتی کونسل کی رکن قاری حنیف جالندھری نے اتوار کو وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ توہینِ مذہب ایک حساس معاملہ ہے اور مذہب اور مذہبی شخصیات کی توہین کی روک تھام کے لیے دنیا کے دیگر ملکوں میں بھی ایسے قوانین موجود ہیں۔

"میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ قانون بالکل درست ہے اور اس نوعیت کے قوانین دیگر ممالک میں اوردیگر مذاہب میں بھی موجود ہیں۔ البتہ اس کا جو غلط استعمال ہے، وہ غلط ہے۔ اس کو ضرور روکا جانا چاہیے اور اس کے لیے ہمارے ملک کے قوانین میں ایسے ضابطے موجود ہیں کہ اس کے غلط استعمال کو روکا جا سکتا ہے۔"

تاہم انہوں نے کہا کہ اگر اس کے غلط استعمال کو جواز بنا کر اس قانون کے صحیح استعمال پر بھی کوئی پابندی عائد کی جائے گی تو اس کی وجہ سے لوگ قانون کو ہاتھ میں لے کرخود فیصلہ کرنے لگ جائیں گے جو ملک اور معاشرے میں انتشار کا باعث بن سکتا ہے۔

پاکستان میں آسیہ بی بی سمیت متعدد افرد کو توہینِ مذہب کے جرم میں ملک کی ذیلی عدالتیں سزائے موت سنا چکی ہیں۔ لیکن دلچسپ امر یہ ہے کہ اب تک ان میں سے کسی بھی مجرم کی سزا پر عمل درآمد نہیں ہوا ہے کیونکہ ان کی ان سزاؤں کے خلاف اپیلیں اعلیٰ عدالتوں میں زیرِ سماعت ہیں۔

آسیہ بی بی کے مقدمے کا عالمی سطح پر اس لیے بھی زیادہ تذکرہ ہوتا رہا ہے کیونکہ پنجاب کے سابق گورنر سلمان تاثیر نے نومبر 2010ء میں آسیہ بی بی سے جیل میں ملاقات کے بعد توہینِ مذہب کے قانون کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے اس میں ترمیم کی بات کی تھی جس کے بعد ان کے سرکاری محافظ ممتاز قادری نے انہیں گولی مار کر قتل کر دیا تھا۔

ممتاز قادری کو اسلام آباد کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے سلمان تاثیر کے قتل کے مقدمے میں سزائے موت سنائی تھی جس کے خلاف سپریم کورٹ میں دائر اپیل مسترد ہونے کے بعد ممتاز قادری کو فروری 2016ء میں پھانسی دے دی گئی تھی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG