رسائی کے لنکس

logo-print

خطرناک اور حیران کن کام کرنے والا روبوٹک ڈاگ 'اسپاٹ'


ربوٹک ڈاگ 'سپاٹ'

دنیا میں سب سے زیادہ پالا جانے والا جانور کتا ہے۔ صرف امریکہ میں 2017 کے سروے کے مطابق تقریباً 9 کروڑ پالتو کتے موجود تھے، جو گھروں سے لے کر تجارتی اور سیکیورٹی اداروں تک میں، ہر جگہ اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ اور اب اس میں ایک نئی قسم کے کتے شامل ہونے جا رہے ہیں، جن کا نام ہے اسپاٹ۔

اسپاٹ کی پہلی نسل پیلے رنگ کے ایک بڑے کتے کی ہے۔ تاہم اس کتے کا سر اور دم نہیں ہے۔ اس کی کالے رنگ کی ٹانگیں بھی عجیب انداز میں مڑی ہوئی ہیں۔ پہلی نظر میں ایسے لگتا ہے کہ جیسے کسی بچے نے اسے لیگو سے بنایا ہے۔ تاہم اسے کسی بچے نے نہیں، بلکہ سائنس دانوں اور آئی ٹی کے ماہرین کی ایک ٹیم نے طویل ریسرچ اور تجربات سے گزرنے کے بعد تیار کیا ہے۔ اور اسے کتے کی شکل اس لیے دی ہے کیونکہ کتا امریکہ بھر کا ایک پسندیدہ پالتو جانور ہے۔

یہ ایک مشینی بلکہ روبوٹک کتا ہے۔ اس میں بہت سے سینسر لگے ہیں۔ وہ بہت سے ایسے کام کر سکتا ہے جو کسی کتے کے بس میں نہیں ہیں۔ بلکہ وہ ایسی خدمات بھی سرانجام دینے کی صلاحیت رکھتا ہے، جسے کرنا انسان کے لیے خطرے سے خالی نہیں ہوتا۔ وہ ناہموار زمین پر آسانی سے چل سکتا ہے۔ گرنے کے بعد دوبارہ اٹھ کر اپنا کام شروع کر سکتا ہے۔ طاقت ور اتنا ہے کہ ٹرک تک کھینچ سکتا ہے۔

اسپاٹ ایک روبوٹک مکینیکل کتا ہے۔ اسے گھروں میں پالنے اور بچوں کے لیے کھیلنے کے لیے نہیں بلکہ کاروباروں اداروں اور کارخانوں میں استعمال کرنے کے لیے تخلیق کیا گیا ہے۔

اسپاٹ دروازہ کھول سکتا ہے، سیڑھیاں چڑھ سکتا ہے۔ اس کے سامنے کی جانب ایک کرین نما سر نصب ہے جس پر کیمرے اور سینسر لگے ہیں۔ وہ اپنا سر ضرورت کے مطابق اوپر اٹھا کر ریک، شیلف اور الماری میں جھانک سکتا ہے۔ وہاں رکھی چیزوں کو شناخت کر سکتا ہے اور اگر وہاں سے کوئی چیز اٹھانے کے لیے کہا جائے تو اٹھا کر وہاں پہنچا سکتا ہے جس کی اسے کمانڈ دی گئی ہو۔

روبوٹک کتا، سپاٹ، ایک روبوٹ ساز کمپنی بوسٹن ڈائنامکس نے تیار کیا ہے۔ کمپنی کے سائنس دان اور انجینئر اس پراجیکٹ پر پانچ سال سے کام کر رہے تھے۔

اسپاٹ کے متعلق جاری کی جانے والی ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ شگاف اور گڑھوں کو پھلانگ کر گزر جاتا ہے۔ اور بڑی آسانی کے ساتھ سیڑھیاں چڑھ جاتا ہے۔

بوسٹن ڈائنامکس کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ روبوٹک ڈاگ اسپاٹ کی اس نئی قسم ایکسپلورر کو اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ یہ وہاں بھی جا سکے جہاں دوسرے روبوٹ جانے سے قاصر رہتے ہیں اور وہ خدمات سرانجام دے سکے جو دوسرے روبوٹ نہیں کر پاتے۔ یہ کاروباری اداروں کے لیے بنایا گیا ہے اور اسے کئی طرح کے ایسے کام سونپے جا سکتے ہیں جن کے لیے ملازم رکھنے کی ضرورت پڑتی ہے۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ اسپاٹ کو تجارتی اور صنعتی اداروں میں کام کرنے والے پروفیشنلز کی مدد کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ آپ اسے ریموٹ کے ساتھ کنٹرول کر سکتے ہیں اور اپنی ضرورت کے مطابق کام لے سکتے ہیں۔

اسپاٹ اس وقت 100 سے زیادہ کاروباروں میں استعمال کیا جا رہا ہے۔ یہ تعمیراتی شعبے میں کام کی رفتار ریکارڈ کرنے اور خطرناک ماحول کی صورت حال پر نظر رکھنے کا کام خوش اسلوبی سے کر رہا ہے۔ اس سے ان جوہری ری ایکٹروں کی نگرانی کا کام بھی لیا جا رہا ہے، جو استعمال میں نہیں ہیں یا کسی وجہ سے وہاں کام رکا ہوا ہے۔ جب کہ سنگاپور میں یہ سماجی فاصلہ قائم رکھنے کے احکامات پر عمل درآمد کرانے کا کام کر رہا ہے۔ خلائی تحقیق کے امریکی ادارے ناسا میں بھی اس سے مختلف پراجیکٹس پر کام لیا جا رہا ہے۔

روبوٹک کتا فی الحال کافی مہنگا ہے۔ بوسٹن ڈائنامکس نے اس کی ابتدائی قیمت 74500 ڈالر مقرر کی ہے۔ لیکن اگر آپ اس سے ایڈوانس قسم کے کام لینا چاہتے ہیں، جس کے لیے اضافی چیزیں نصب کرنے کی ضرورت ہو تو اس کے لیے مزید رقم ادا کرنی پڑے گی۔

ایک ہزار ڈالر ایڈوانس کے ساتھ اسپاٹ کا آرڈر بک کرایا جا سکتا ہے۔ جب کہ ڈلیوری تقریباً چھ سے آٹھ ہفتوں میں مل جاتی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG