رسائی کے لنکس

جانے مذہب اس کا قصور تھا، بے راہ روی سے انکار پر ڈٹے رہنا اس کے قتل کی وجہ بنا،یا محض اس لئے کہ وہ ان چیزوں کی حقدار بننا چاہتی تھی جنہیں معاشرہ ابھی تک ہمیں دینے پر رضامند نہیں۔

کراچی کی ٹرانس جینڈر کمیونٹی میں اس بار عیدالاضحی کی خوشیوں میں ایک رنج بھی شامل تھا۔

عید سے صرف تین دن پہلے ایک خواجہ سرا’ چندہ‘ کو سرعام قتل کردیا گیا۔

یہ قتل ایسے موقع پر ہوا ہے جب ایوانوں میں کمیونٹی کے لئے قانون سازی آخری مراحل میں ہے۔

’جینڈر انٹرایکٹیو ایلائنس‘ کی صدر بندیا رانا کا کہنا ہے کہ ’قانون بنتے رہیں گے مگر چندہ تو بے قصور مر گئی، کیا کبھی اسے بھی انصاف مل سکے گا؟۔۔اور ملا تو کب ؟اور کس طرح؟‘

چندہ کو ن تھی؟
چندہ 25 سال کی تھی۔ تعلق عیسائی برادری سے تھا ۔کورنگی ڈھائی نمبر کی رہائشی تھی۔ بہت گہرے اندھیرے سے ہمیشہ ڈرتی تھی، گھر سے نکلنا پسند نہیں تھا۔۔اکیلے تو بالکل بھی نہیں۔ کچھ ہی سال پہلے خواجہ سرائی کے قبیلے میں شامل ہوئی تھی۔ شادی بیاہ کی تقریب میں گانا بجانا کرکے اپنا پیٹ پالتی تھی۔

والد کا نام انور مسیح ہے۔ انہوں نے صحافیوں سے چندہ کی موت اور اس کی زندگی سے متعلق بات کرنا پسند نہیں کیا، بہت کم معلومات شیئر کیں۔ صرف اتنا کہاکہ چندہ آٹھ نو سال پہلے گھر چھوڑ کر چلی گئی تھی۔ انہوں نے چندہ کو تمام آخری رسومات کے ساتھ سپرد خاک کر دیا ہے اور اب وہ اس حوالے سے مزید کسی سے کوئی بات کرنا نہیں چاہتے۔ ‘‘

واقعے کی تفصیلات
کراچی کا پوش علاقہ شہباز کمرشل ایریا، فیز سکس ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارتی، منگل اور بدھ کی درمیان شب اور وقت ساڑھے بارہ بجے ۔ندیم عرف’ چندہ‘ نامی خواجہ سرا اپنی ساتھیوں کے ساتھ آنے والے لمحات سے بے خبر آگے بڑھ رہی تھی کہ اچانک ایک ڈبل کیبن کار میں سے اس پر کوئی انڈے پھینکتا ہےجس سے چندہ کے کپڑے خراب ہو جاتے ہیں۔

چندہ غصے سے لال پیلی ہو جاتی ہے۔ وہ کار میں سوار نوجوانوں پر چلاتی اور بدکلامی کرتی ہے۔ اس کا یہ رویہ فطری تھا لیکن اگلے ہی لمحے جو کچھ ہوا وہ بہت بھیانک اور غیر انسانی تھا۔

کار میں موجود نامعلوم شخص نے چندہ کی بدکلامی پر تعش میں فائر کر دیا۔ گولی بہت تیزی کے ساتھ اپنے نشانے پر لگی۔ چندہ کے سر سے خون بہنے لگا اور وہ زمین پر گر پڑی۔ اس کے دو ساتھی وکی اور سجاد بھی نامعلوم ملزمان کے اقدام سے اس قدر خوف زدہ ہوئے کہ وہاں سے بھاگ کر اپنی جان بچائی۔

کچھ ہی دیر بعد پولیس موقع پر پہنچ گئی اور چندہ کے بے جان جسم کو پوسٹ مارٹم کی غرض سے جناح اسپتال منتقل کر دیا گیا اور خواجہ سراؤں کے جس گروپ سے چندہ کا تعلق تھا وہ بھی اسپتال پہنچ گیا۔

ان میں ’’جینڈر انٹرایکٹیو ایلائنس سندھ‘‘ اور سوشل ویلفیئر ڈپارٹمنٹ کی ترجمان بندیا رانا بھی شامل تھیں جبکہ وکی اور سجاد بھی اسپتال میں قائم مردہ خانے کے باہر موجود تھے۔ انہوں نے ہی پولیس سمیت باقی لوگوں کو واقعے کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔ وہ اس حادثے کے چشم دید گواہ تھے۔

ایس ایس پی انوسٹی گیشن ساؤتھ فیض اللہ کوریجو،درخشاں تھانے کے پولیس افسر ندیم گبول اور ایس ایچ او اورنگ زیب خطاب نے صحافیوں کو بتایا کہ پولیس نے چندہ کے والد انور مسیح کو فون پر واقعے کی اطلاع دی۔ انور مسیح کی مدعیت میں نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ نمبر 440/17 درج کیا گیا اور موقع پر موجود چندہ کے ساتھیوں کا بیان بھی ریکارڈ کرلیا گیا۔

صحافیوں کو اس واقعے کی تفصیلات میں پولیس نے یہ موقف اپنایا کہ قتل کی وجہ محض یہی نہیں ہو سکتی کہ اس پر انڈے پھینکے گئے اور معاملہ بگڑ گیا بلکہ پولیس سے کچھ چھپایا جارہا ہے۔ پولیس تحقیقات کر رہی ہے اور معاملے کی تہہ تک پہنچنے کی کوششیں جاری ہیں تاکہ قتل کی اصل وجوہات کا تعین ہوسکے۔

بندیا رانا کا رنج ، ہر خواجہ سرا کا غم
بندیا رانا نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کے دوران بتایا ’’بے قصور‘ ہونے کی سب سے بڑی سزا ہم لوگ یعنی خواجہ سرا بھگتے ہیں۔ بچپن سے ماں باپ کے پیار کو ترستے ہیں، اوورں کی طرح ہی چاہے جانے کا جذبہ رکھتے ہیں لیکن عمر اسی حسرت میں گزر جاتی ہے۔ پھرخود ہی اپنی خواہشوں کا گلا گھونٹ دیتے ہیں لیکن سمجھتا کوئی نہیں۔‘

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’ـ جس عمر میں بچے باپ کی انگلی پکڑ کر چلنا سیکھتے ہیں ہمیں گھر بار، بستی اور رشتے چھوڑنا پڑتے ہیں۔ نوکری کوئی دیتا نہیں، مذاق سب اڑاتے ہیں، لوگوں کی لاکھ منت سماجت کرو ،بار بار ہاتھ پھیلاؤ تو کھانے کو ملتا ہے۔ کچھ مہینوں سے لگنے لگا تھا حقوق مل جائیں گے، ملک میں ہمارا بھی شمار ہو گا، نوکریاں مل جائیں گی، عزت ہونے لگے گی، ہمارے لئے بھی قانون بنیں گے مگر ابھی تک وہ منزل نہیں آئی۔‘

وہ مزید کہتی ہیں ’’ہماری تو تلاش اب بھی جاری ہے ، ہمیں عزت، احترام ، محبت، روزگار اور سکون کی تلاش ہے۔ چندہ کو بھی انہی سب کی تلاش تھی لیکن وہ سر راہ مار دی گئی۔۔۔ اس کا کیا قصور تھا، بے راہ روی سے انکار پر ڈٹے رہنا اس کے قتل کی وجہ بنا،یا محض اس لئےکہ وہ ان چیزوں کی حقدار بننا چاہتی تھی جنہیں معاشرہ ابھی تک ہمیں دینے پر رضامند نہیں۔۔۔قانون بنتے رہیں گے مگر چندہ تو بے قصور ماری گئی، کیا کبھی اسے بھی انصاف مل سکے گا؟‘

بندیا رانا نے مقامی میڈیاکو جاری اپنے ایک ویڈیو بیان میں کہا ہے کہ ’چندہ ٹارگٹ کلنگ کا شکار ہوئی ہے ۔جس طرح شہر میں ٹریفک پولیس اہلکاروں اور عہدیداروں کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا جارہا ہے، اسی طرح چندہ کی موت بھی ٹارگٹ کلنگ کا نتیجہ ہوسکتی ہے۔ ‘

خواجہ سراؤں کے حقوق کے لئے سرگرداں اور جینڈر انٹرایکٹیو ایلائنس کی صدر بندیا رانا کا مطالبہ ہے کہ چندہ کے قاتلوں کا فوری سراغ لگایا جائے، ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے تاکہ آج جو چندہ کے ساتھ ہوا ہے وہ کسی دوسرے کے ساتھ نہ ہو۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG