رسائی کے لنکس

logo-print

روہنگیا اقلیت سے اظہار یکجہتی، امریکہ میں مظاہرے


حال ہی میں، صدر اوباما نے روہنگیا مسلمانوں کی حالت زار پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’میانمار میں ان مسلمانوں کے ساتھ مناسب برتاؤ نہیں ہو رہا، جس کے نتیجے میں وہ ملک چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں‘

واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے سامنے اور نیویارک کے ٹائم اسکوائر پر مسلمان کمیونٹی نے برما کے روہنگیا مسلمانوں کی حمایت میں احتجاجی مظاہرہ کیا۔

مظاہرین نے پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے اور برما میں مسلمان برادری کے خلاف اکثریتی آبادی کی مبینہ کارروائیوں کےخلاف نعرے بلند کیے۔

نیویارک میں اس احتجاجی مظاہرے کا اہتمام ’برونکس مسلم کونسل‘ نے ’مائنریٹی ویمن بزنس کونسل‘ کے تعاون سے کیا تھا، اس مظاہرے میں پاکستانی اور بنگلہ دیشی مظاہرین کی تعداد زیادہ تھی۔

برما کے معاملے پر، مقررین نے امریکی حکومت سے مداخلت کی اپیل کی، تاکہ ان کے بقول، ’روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی کی روک تھام ہوسکے‘۔

واشنگٹن میں اس احتجاجی مظاہرے کی اپیل ’پاکستانی امریکن کمیونٹی‘ نے کی تھی۔ مظاہرین کئی گنھٹوں تک وائٹ ہاؤس کے سامنے ہاتھوں میں پلے کارڈ اٹھائے، روہنگیا مسلمانوں کی حمایت میں نعرے بازی کرتے رہے۔

پاکستانی امریکن کمیونٹی کی رہنماؤں جنید بشیر، میاں وسیم، محسن اعوان اور دیگر نے امریکی حکومت سے اپیل کی وہ برما میں مسلم اقلیت کے تحفظ کے لئے موثر اقدامات کرے۔

حال ہی میں صدر اوباما نے بھی روہنگیا مسلمانوں کی حالت زار پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ میانمار میں ان مسلمانوں کے ساتھ مناسب برتاؤ نہیں ہو رہا، جس کے نتیجے میں وہ ملک چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں، ساتھ ہی انھوں نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر روہنگیائی لوگوں کے لئے ایک کروڑ ڈالر امداد کا اعلان بھی کیا تھا۔

XS
SM
MD
LG