رسائی کے لنکس

logo-print

ٹرمپ کی جاسوسی کی تجویز نہیں دی تھی: ڈپٹی اٹارنی جنرل


ڈپٹی اٹارنی جنرل روڈ روزنسٹین (فائل فوٹو)

نیویارک ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ روڈ روزنسٹین نے ایک اجلاس میں یہ پیشکش بھی کی تھی کہ وہ وائٹ ہاؤس کے دورے کے دوران اپنے ساتھ خفیہ آلات لے جائیں گے تاکہ صدر کی گفتگو کو ریکارڈ کیا جاسکے۔

امریکی حکومت کے ایک اعلیٰ اہلکار نے اس خبر کی تردید کی ہے کہ انہوں نے حکام کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اقتدار سے نکالنے کے لیے 25 ویں آئینی ترمیم کا سہارا لینے اور ان کی گفتگو ریکارڈ کرنے کا مشورہ دیا تھا۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے جمعے کو اپنی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ ڈپٹی اٹارنی جنرل روڈ روزنسٹین نے 2017ء میں 'ایف بی آئی' کے اس وقت کے سربراہ جیمز کومی کی برطرفی کے بعد مختلف اجلاسوں میں صدر ٹرمپ کو عہدے سے ہٹانے کی تجویز پیش کی تھی۔

اخبار نے ان اجلاسوں میں شریک بعض افراد اور ایف بی آئی کے ڈپٹی ڈائریکٹر اینڈریو مکابی کے تحریر کردہ میموز کی بنیاد پر یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ روڈ روزنسٹین نے ایک اجلاس میں یہ پیشکش بھی کی تھی کہ وہ وائٹ ہاؤس کے دورے کے دوران اپنے ساتھ خفیہ آلات لے جائیں گے تاکہ صدر کی گفتگو کو ریکارڈ کیا جاسکے۔

اخبار کے مطابق روزنسٹین کا خیال تھا کہ بعد ازاں اس گفتگو کو منظرِ عام پر لا کر اس بارے میں رائے عامہ ہموار کی جاسکے گی کہ ٹرمپ حکومت کے معاملات کتنے خراب چل رہے ہیں۔

روڈ روزنسٹین نے 'نیویارک ٹائمز' کے ان دعووں کو غلط اور حقائق کے برخلاف قرار دیتے ہوئے مسترد کیا ہے۔

ایف بی آئی کے سابق ڈپٹی ڈائریکٹر اینڈریو مکابی جنہیں رواں سال مارچ میں اٹارنی جنرل جیف سیشنز نے ان کے عہدے سے برطرف کردیا تھا (فائل فوٹو)
ایف بی آئی کے سابق ڈپٹی ڈائریکٹر اینڈریو مکابی جنہیں رواں سال مارچ میں اٹارنی جنرل جیف سیشنز نے ان کے عہدے سے برطرف کردیا تھا (فائل فوٹو)

​اخبار کی خبر کے ردِ عمل میں ہفتے کو اپنے ایک بیان میں ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا ہے کہ یہ خبر دینے والے ذرائع یقیناً امریکی محکمۂ انصاف کے مخالف ہیں اور اپنا ذاتی ایجنڈے کا آگے بڑھانا چاہتے ہیں۔

ڈپٹی اٹارنی جنرل نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا ہے کہ وہ یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ ان کے خیال میں صدر ٹرمپ کے خلاف 25 ویں آئینی ترمیم کے تحت کارروائی کرنے کا کوئی جواز موجودنہیں۔

امریکی آئین کی 25 ویں ترمیم میں کسی بھی موجودہ صدر کو اس کے عہدے سے ہٹانے کا طریقۂ کار بیان کیا گیا ہے۔

آئینی ترمیم میں کہا گیا ہے کہ نائب صدر اور کابینہ کے ارکان کی اکثریت صدر کو "اپنی ذمہ داریاں اور اختیارات استعمال کرنے کے ناقابل" قرار دے کر عہدے سے برخاست کرسکتی ہے۔

روزنسٹین کے ساتھ ایک اجلاس میں شریک ایک اعلیٰ اہلکار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ ڈپٹی اٹارنی جنرل نے 25 ویں آئینی ترمیم سے متعلق بات "طنزیہ" انداز میں کہی تھی اور انہوں نے اس اجلاس میں صدر کی گفتگو ریکارڈ کرنے کا کوئی ارادہ ظاہر نہیں کیا تھا۔

نیویارک ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ روزنسٹین کو جیمز کومی کی برطرفی کے بعد 'ایف بی آئی' کے نئے سربراہ کے تقرر کے طریقۂ کار پر سخت تحفظات تھے.
نیویارک ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ روزنسٹین کو جیمز کومی کی برطرفی کے بعد 'ایف بی آئی' کے نئے سربراہ کے تقرر کے طریقۂ کار پر سخت تحفظات تھے.

​نیویارک ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ روزنسٹین کو جیمز کومی کی برطرفی کے بعد 'ایف بی آئی' کے نئے سربراہ کے تقرر کے طریقۂ کار پر سخت تحفظات تھے اور انہوں ڈپٹی ڈائریکٹر اینڈریو مکابی کو بھی مشورہ دیا تھا کہ وہ صدر ٹرمپ کے ساتھ اپنی بات چیت کو ریکارڈ کرنے کی کوشش کریں۔

'نیویارک ٹائمز' کے مطابق ان اجلاسوں میں ہونے والی یہ ساری گفتگو ایف بی آئی کے اس وقت کے ڈپٹی ڈائریکٹراینڈریو مکابی نے اپنے میموز میں درج کی تھی جو اخبار کے بقول اس نے اپنے ذرائع سے حاصل کرلی ہے۔

واضح رہے کہ ان اجلاسوں کے وقت اینڈریو مکابی ایف بی آئی کے عبوری ڈائریکٹر کے طور پر فرائض انجام دے رہے تھے۔

مکابی کو رواں سال مارچ میں اٹارنی جنرل جیف سیشنز نے ان کے عہدے سے اس وقت برطرف کردیا تھا جب ان کی ریٹائرمنٹ میں صرف 26 گھنٹے رہ گئے تھے۔

روڈ روزنسٹین نے ہی رابرٹ مولر کو امریکی محکمۂ انصاف کی جانب سے 2016ء کے صدارتی انتخابات میں مبینہ روسی مداخلت اور صدر ٹرمپ کی انتخابی مہم کے روسی حکام کےساتھ مبینہ روابط کی تحقیقات کی ذمہ داری سونپی تھی اور بطور ڈپٹی اٹارنی جنرل وہی ان تحقیقات کی نگرانی کر رہے ہیں۔

صدر ٹرمپ ماضی میں کئی بار روڈ روزنسٹین اور ان کے باس اٹارنی جنرل جیف سیشنز کو سرِ عام کڑی تنقید کا نشانہ بنا چکے ہیں۔
صدر ٹرمپ ماضی میں کئی بار روڈ روزنسٹین اور ان کے باس اٹارنی جنرل جیف سیشنز کو سرِ عام کڑی تنقید کا نشانہ بنا چکے ہیں۔

​ان تحقیقات کے باعث صدر ٹرمپ خاصے برہم ہیں اور وہ ماضی میں کئی بار براہِ راست روڈ روزنسٹین اور ان کے باس اٹارنی جنرل جیف سیشنز کو کڑی تنقید کا نشانہ بنا چکے ہیں۔

امکان ہے کہ نیویارک ٹائمز کی اس خبر کے بعد روزنسٹین کے متعلق صدر کا غصہ مزید بڑھے گا اور بعض ڈیموکریٹ ارکانِ کانگریس نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا ہے کہ اس خبر کی بنیاد پر صدر ٹرمپ روزنسٹین کو ان کے عہدے سے فارغ بھی کرسکتے ہیں۔

وائٹ ہاؤس نے تاحال نیویارک ٹائمز کی رپورٹ پر کوئی ردِ عمل ظاہرنہیں کیا ہے جب کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے بھی اس معاملے پر تاحال خاموشی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG