رسائی کے لنکس

logo-print

روسی ایتھلیٹس کے خلاف ’ڈوپنگ‘ کا الزام، تحقیقات کا اعلان


روسی ایتھلیٹس پر ان دنوں ڈوپنگ کے الزام میں عالمی مقابلوں میں حصہ لینے پر پائندی عائد ہے،جبکہ روسی حکام کا خیال ہے کہ اس کا اطلاق صرف ان ایتھلیٹس پر ہونا چاہئے جو قصوروار پائے جائیں

روسی صدر ولادیمیر پوتن نے ایتھلیٹس کی جانب سے مصنوعی طور پر کارکردگی بڑھانے والی ادویات کے استعمال، یعنی ’ڈوپنگ‘ کی تحقیقات کا اعلان کیا ہے۔

روسی ایتھلیٹس پر ان دنوں ڈوپنگ کے الزام میں عالمی مقابلوں میں حصہ لینے پر پائندی عائد ہے،جبکہ روسی حکام کا خیال ہے کہ اس کا اطلاق صرف ان ایتھلیٹس پر ہونا چاہئے جو قصوروار پائے جائیں۔

صدر پوتن نے اس اسکنڈل پر پہلی بار زبان کھولی ہے اور کھیل کے منتظیمن سے کہا ہے کہ وہ اپنی توجہ کھیلوں پرمرکوز رکھیں۔ انھوں نے کہا کہ روس اپنے طور پر تحقیقات کے بعد صورتحال کو واضح کرنا چاہے گا۔ انھوں نے بین الااقوامی اداروں سے تعاون پر بھی زور دیا۔

پوتن کا یہ بیان روس کے روئے میں تبدیلی کی غمازی کررہا ہے ، ابتدائی ردعمل میں روس نے عالمی انٹی ڈوپنگ ایجنسی کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے اسے ملک کے خلاف سازش قرار دیا تھا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق، روسی ایتھلیٹس پر برازیل میں ہونے والے آئندہ سمر اولمپک میں حصہ لینے پر پابندی عائد ہوسکتی ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ اس مسئلے پر عوامی تشویش روسی روئیے میں تبدیلی کی وجہ بنی۔

کھیلوں کے روسی وزیر نے جو کہ خود بھی عالمی فٹبال فیڈریشن فیفا کی جانب سے احتساب کا شکار ہیں یقین دلایا ہے کہ کھلاڑیوں میں منشیات کے استعمال کی جانچ کے نظام کو بہتر بنایا جائے گا اور ایسے کسی عمل کو مجرمانہ فعل تصور کیا جائے گا۔

ماہرین کا خیال ہے کہ ڈوپنگ کے مسئلے پر روس کو مالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

XS
SM
MD
LG