رسائی کے لنکس

logo-print

روسی تاریخ کی سب سے بڑی فوجی مشقوں کا اعلان


روسی صدر ولادی میر پوٹن اور وزیر دفاع سرگی شوئیگو یوم بحریہ کی پریڈ کے موقع پر۔ فائل

مشقوں میں چین اور منگولیا کی فوجیں بھی حصہ لیں گی۔ واسٹوک 2018 سے موسوم یہ مشقیں روسی افواج کے مرکزی اور مشرقی علاقوں میں منعقد ہوں گی جن میں تین لاکھ فوجی، ایک ہزار جہاز، دو روسی بحری بیڑے اور اُن سے ملحقہ تمام ہوائی یونٹ شریک ہوں گے

روس نے آئندہ ماہ سوویت یونین کے خاتمے کے بعد سے اب تک کی سب سے بڑی فوجی مشقیں منعقد کرنے کا اعلان کیا ہے۔

روس کے وزیر دفاع سرگی شوئیگو نے آج منگل کے روز ان مشقوں کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ان میں چین اور منگولیا کی فوجیں بھی حصہ لیں گی۔ واسٹوک 2018 سے موسوم یہ مشقیں روسی افواج کے مرکزی اور مشرقی علاقوں میں منعقد ہوں گی جن میں تین لاکھ فوجی، ایک ہزار جہاز، دو روسی بحری بیڑے اور اُن سے ملحقہ تمام ہوائی یونٹ شریک ہوں گے۔

یہ بڑے پیمانے کی فوجی مشقیں ایسے وقت منعقد ہو رہی ہیں جب مغربی ممالک اور روس کے درمیان شدید کشیدگی پائی جاتی ہے اور روس اپنی مغربی سرحد سے متصل علاقوں میں نیٹو فوجوں کے اجتماع پر تنقید کرتا رہا ہے۔

نیٹو کا کہنا ہے کہ اُس نے یہ فوجی اجتماع 2014 میں یوکرین کے شہر کرائمیا پر قبضہ کرنے کے اقدام کے بعد ممکنہ روسی جارحیت کی روک تھام کی خاطر کیا ہے۔

11 سے 15 ستمبر تک منعقد ہونے والی مجوزہ روسی فوجی مشقوں سے ممکنہ طور پر جاپان کی پریشانی میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔ جاپان پہلے ہی مشرق بعید میں روسی فوجوں کے اجتماع پر پریشانی کا اظہار کر چکا ہے۔ روس نے رد عمل میں کہا تھا کہ اُس کا یہ اقدام جاپان کی طرف سے امریکی ساخت کے ایجز میزائل نظام کی تنصیب کے جواب میں کیا گیا ہے۔

روسی فوجی مشقوں کے دوران ہی جاپانی وزیر اعظم شنزو آبے روسی شہر ولادی واسٹک میں ایک فورم میں شرکت کریں گے۔

اُدھر جاپانی وزارت خارجہ کے ایک اہلکار کا کہنا ہے کہ جاپان روس اور چین کے درمیان فوجی تعاون کی بدلتی ہوئی صورت حال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔

روسی وزیر دفاع شائیگو نے روسی شہر خاکیشیا کے دورے کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئیندہ ماہ ہونے والی فوجی مشقیں 1981 میں سوویت فوجی مشقوں زاپیڈ۔81 کے بعد سے سب سے بڑی فوجی مشقیں ہوں گی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG