رسائی کے لنکس

اسٹیل مل کی نجکاری کے خلاف ملازمین کا احتجاج کیا رخ اختیار کرے گا؟


فائل فوٹو

ملک کے بڑے سرکاری صنعتی اداروں میں سے ایک پاکستان اسٹیل مل گزشتہ پانچ سال سے بند پڑی ہے۔ پانچ سال سے پیداوار نہ ہونے کے باوجود یہاں کام کرنے والے ملازمین کی تنخواہوں کی مد میں 35 ارب روپے ادا کیے جا چکے ہیں۔ جب کہ ریٹائرڈ ملازمین کے بقایاجات کی مد میں 20 ارب روپے واجب الادا ہیں۔

اسی طرح مل پر قرضوں کا حجم بڑھ کر 230 ارب روپے ہو چکا ہے۔ جب کہ 200 ارب کا خسارہ اس کے علاوہ ہے۔

حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ماہانہ 75 کروڑ روپے ملازمین کی تنخواہوں اور ریٹائرڈ ملازمین کے بقایاجات کی مد میں ادا کیے جاتے ہیں۔ 2015 سے قبل حکومت نے ادارے کے استحکام کے لیے 92 ارب روپے کا بیل آؤٹ پیکج بھی دیا لیکن مل مستقل نقصان ہی میں رہی۔

ایسے میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت نے اسٹیل مل کو نجی شعبے کے حوالے کرنے کے ساتھ یہاں کام کرنے والے 9 ہزار 350 ملازمین کو نکالنے کا فیصلہ کیا ہے۔

حکومتی فیصلے کے تحت پہلے مرحلے میں 4 ہزار 500 ملازمین کو فارغ کیا گیا ہے۔ ان ملازمین میں گروپ ون، ٹو، تھری اور فور کے علاوہ جونئیر افسران شامل ہیں۔

اس کے علاوہ فنانس ڈائریکٹوریٹ میں کام کرنے والے جونئیر افسران، اسسٹنٹ مینیجرز، ڈپٹی مینیجرز، سینئیر مینیجرز اور مینیجرز بھی شامل ہیں۔

ترجمان پاکستان اسٹیل مل کے مطابق فارغ کیے گئے تمام ملازمین کے انفرادی خط بذریعہ ڈاک ان کے رہائشی پتوں پر ارسال کیے گئے ہیں۔

'بند مل پر 75 کروڑ روپے ماہانہ خرچ کرنے کا کوئی جواز نہیں'

وفاقی وزیر برائے صنعت حماد اظہر نے اسٹیل مل کی نجکاری کی وجوہات پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان کے سرکاری کاروباری اداروں کے نقصانات 2000 ہزار ارب روپے سالانہ سے تجاوز کر چکے ہیں۔ جو پاکستان کے دفاعی بجٹ سے بھی زیادہ ہیں۔

'معیشت کی بہتری کے لیے اخراجات کم کرنا ہوں گے'
please wait

No media source currently available

0:00 0:03:28 0:00

ان کا کہنا تھا کہ معیشت کو چلانے کے لیے اسٹیل مل جیسے اداروں سے متعلق ایسے مشکل فیصلے کرنے پڑیں گے۔

ان کے خیال میں کابینہ نے اسٹیل مل کی نجکاری سے متعلق درست فیصلہ کیا ہے۔

حماد اظہر کے مطابق ایک بند مل کے لیے 75 کروڑ روپے ماہانہ دینے کا کوئی جواز نہیں بنتا۔ تاہم قواعد کے مطابق ملازمین کو ان کا حق ادا کیا جا رہا ہے جو اوسطاََ 23 لاکھ روپے فی ملازم بنتا ہے۔ اسی طرح 2013 سے قبل پینشنرز کے بقایاجات جو 24 ارب روپے تھے وہ بھی ادا کیے گئے ہیں۔

حماد اظہر کا کہنا تھا کہ نجکاری کے عمل میں اسٹیل مل کی کوئی زمین فروخت نہیں ہو رہی۔ بلکہ 19 ہزار ایکڑ زمین میں سے 1300 ایکڑ زمین کے لیز ایگریمنٹ کے متعلق سوچا جا رہا ہے۔ اور لیز ایگریمنٹ کا مقصد بھی پاکستان اسٹیل مل کو آپریٹ کرنے کے لیے کیا جارہا ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ شفاف طریقے کے ساتھ ملک کی نجکاری کے قوانین کے تحت اس کی بڈنگ کی جائے گی جس میں دنیا کے تمام سرمایہ کاروں کو برابر موقع فراہم کیا جائے گا اور اس میں کوشش کی جائے گی کہ کوئی بین الاقوامی پرائیویٹ انویسٹر حکومت کے ساتھ مل کر شراکت قائم کرے جو نئی ٹیکنالوجی کے ذریعے مل کو چلائے۔

انہوں نے اس بات سے اتفاق کیا کہ حکومت جب تجارتی اور کاروباری اداروں کا انتظام چلاتی ہے تو معاملات خراب ہوتے ہیں اور اس کی مثالیں اسٹیل مل کے علاوہ دیگر ادارے بھی ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ پرائیوٹائزیشن کمشن مستقبل میں اسٹیل مل چلانے کے لیے خد و خال طے کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے دورِ حکومت میں بورڈ آف ڈائریکٹرز کی سفارشات کے بر خلاف 4700 ملازمین کو مستقل کیا گیا۔ پھر 700 آسامیاں قوانین کے برخلاف پیدا کر کے ان پر بھرتیاں کی گئیں اور 2500 ورکرز کو آفیسر کا گریڈ دیا گیا۔

ان کے بقول سیاسی بھرتیوں، اوور اسٹافنگ، پرانی ٹیکنالوجی کے استعمال اور پھر نا اہل لوگوں کی وجہ سے اسٹیل مل منافع سے نقصان کی جانب گئی۔

'اچھی ملازمتیں معیشت بہتر ہونے سے پیدا ہوتی ہیں'
please wait

No media source currently available

0:00 0:06:13 0:00

حماد اظہر کے مطابق حکومتیں بڑے فیصلے کرنے سے کتراتی رہیں، لیکن اب وقت آ گیا ہے کہ اس بارے میں درست فیصلہ کیا جائے۔ نجکاری کا فیصلہ بر وقت نہ کرنے سے ترقیاتی اسکیمز میں پیسہ لگنے کی بجائے مزید کئی سو ارب روپے مل کو کھڑا کرنے میں جھونکنے پڑیں گے اور اس سے معیشت کو نقصان پہنچے گا۔

'حکومت ادارہ چلانے کی بجائے اثاثے بیچنے پر مصر ہے'

ملازمین حکومت کے اس فیصلے کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔

انہوں نے فیصلے کے خلاف کراچی میں ریلوے ٹریک کو ٹرینوں اور نیشنل ہائی وے کو ٹریفک کے لیے بند کر کے اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا۔

احتجاج کی وجہ سے ملک بھر کے لیے ریل گاڑیوں کی آمد و رفت بُری طرح متاثر ہوئی۔

احتجاج کرنے والے ملازمین کا مؤقف ہے کہ انہیں سنے بغیر نوکری سے برخاست کر دیا گیا ہے، جو انسانی حقوق اور حکومت کے مروجہ قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

اسٹیل مل کی لیبر یونین کے جنرل سیکرٹری سلیم گل نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اسٹیل مل کو بعض شخصیات کو نوازنے کے لیے نجی شعبے کے حوالے کرنا چاہتی ہے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ اس کے پیچھے حکومت میں چھپی اسٹیل کا کاروبار کرنے والا مافیا ہے، جو جان بوجھ کر اس مل کو فروخت کر کے اسے ہتھیانا چاہتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اسٹیل مل کو اب بھی اپنے پیروں پر کھڑا کیا جا سکتا ہے لیکن حکومت ادارہ چلانے کی بجائے اس قومی اثاثے کو اونے پونے داموں بیچنے پر تُلی ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت کو محض زبانی دعوؤں کی بجائے ان لوگوں کا احتساب کرنا چاہیے جو ماضی میں اسٹیل مل کو نقصان پہنچاتے رہے جس سے یہ مل تباہ ہوتے ہوتے بند ہو گئی۔

اس سوال پر کہ اسٹیل مل پانچ سال بند رہنے پر کیوں احتجاج نہیں کیا گیا؟ سلیم گل کا کہنا تھا کہ ایسا بالکل نہیں ہے بلکہ انہوں نے صدر، وزیرِ اعظم، وزارتِ صنعت و پیداوار حتیٰ کہ چیف آف آرمی اسٹاف اور دیگر کو بھی خطوط لکھے اور انہیں اس جانب توجہ دینے کو کہا اور یہ بھی مطالبہ کیا کہ اسٹیل مل کی تباہی کے ذمہ دار افراد کا تعین کر کے ان کا احتساب کیا جائے۔

پاکستانی خواتین کے لئے معاشی مواقعوں میں اضافے کا پروگرام
please wait

No media source currently available

0:00 0:02:21 0:00

ان کے خیال میں اس میں ملازمین کا کوئی قصور نہیں ہے۔ اس سے پہلے اسٹیل مل میں 14 ہزار سے زائد افراد کام کر رہے تھے۔ مل اس وقت بھی منافع میں تھی تو آج کم مزدوروں کے ساتھ کیسے یہ نقصان میں جا سکتی ہے۔

'کابینہ نے نجکاری کی منظوری دے کر آئین کی خلاف ورزی کی'

دوسری جانب حزبِ اختلاف کی بڑی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) بھی ملازمین کے مؤقف کی تائید کرتے ہوئے اسٹیل مل کی نجکاری کی مخالفت کر رہی ہے۔

پیپلز پارٹی کے سینیٹر رضا ربانی کے بقول وفاقی کابینہ نے اس ادارے کی نجکاری کی اجازت دے کر آئین کی خلاف ورزی کی۔

رضا ربانی کہتے ہیں کہ وہ ادارے جو وفاقی قوانین کے تحت کام کر رہے ہیں، وہ آئین کی فیڈرل لیجسلیٹو لسٹ پارٹ ٹو میں شمار ہوتے ہیں۔ اس فہرست پر آئین کے آرٹیکل 154 کا اطلاق ہوتا ہے اور اس کے تحت یہ ادارے مشترکہ مفادات کونسل کے دائرہ کار میں آتے ہیں اور وہی اس کے مستقبل کے بارے میں کوئی فیصلہ کر سکتے ہیں۔

لیکن سینیٹر رضا ربانی نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس ہی نہیں بلاتی، جہاں اس سے متعلق ایجنڈا زیرِ غور لایا جائے اور اس طرح حکومت اجلاس نہ بُلا کر بھی آئین کی خلاف ورزی کی مرتکب ہو رہی ہے۔

رضا ربانی نے حکومت کی نجکاری سے متعلق پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے اسے مزدور دشمن قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت سرمایہ دارانہ نظام کو بڑھا رہی ہے۔ اس حکومت نے پارلیمان کو اعتماد میں لیے بغیر صرف آئی ایم ایف سے سمجھوتے کیے جس کے تحت اب کئی قومی اداروں کی نجکاری کی جا رہی ہے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ ان اداروں سے مزدوروں کو نکال کر حکومت اپنے حواریوں کو سونپے گی۔

رضا ربانی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اسٹیل مل سے ملازمین کی برطرفی کا فیصلہ فوری واپس لیا جائے۔

تاہم حکومت ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے یہ مؤقف رکھتی ہے کہ اسٹیل مل سفید ہاتھی میں تبدیل ہو چکی ہے۔ ملازمین کو نوکریوں سے برطرف کرنے کے بعد اس کی نجکاری کی جائے گی کیوں کہ یہ قومی خزانے پر بوجھ بن چکی ہے۔

واضح رہے کہ پرویز مشرف کے دورحکومت میں اسٹیل مل کی نجکاری کا فیصلہ کیا گیا تو اسے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا تھا۔ اس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سبربراہی میں نو رکنی بینچ نے نجکاری کے حکومتی فیصلے کو کالعدم قرار دیا تھا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ حکومت کو اگرچہ نجکاری سے متعلق فیصلے کرنے میں مکمل آزادی تو ہے مگر اسٹیل مل ایک قومی اثاثہ ہے۔ اس کی نجکاری کے لیے چاروں صوبوں پر مشتمل مشترکہ مفادات کونسل سے رہنمائی لی جائے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG