رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستان اسٹیل مل ملازمین کی برطرفی اور نجکاری ہی مسئلے کا حل ہے؟


(فائل فوٹو)

حکومتِ پاکستان کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے پاکستان کے سب سے بڑے صنعتی یونٹ پاکستان اسٹیل ملز کے تمام ملازمین کو فارغ کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس پر عمل درآمد وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد ممکن ہو سکے گا۔

لیکن اسٹیل مل کے ملازمین نے حکومتی فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا ہے جس کی سماعت نو جون کو ہو گی۔

فیصلے کے تحت ملز میں کام کرنے والے تمام 9350 ملازمین کو فارغ کردیا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے ملازمین کی واجب الادا رقوم کی ادائیگی کے لیے 20 ارب روپے جاری کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔

اسٹیل مل ملازمین کی تنظیم کا دعویٰ ہے کہ حکومت اسٹیل مل کی نجکاری کے بغیر بھی اسے چلانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ لہذٰا ملازمین کو بے روزگار کرنا مسئلے کا حل نہیں ہے۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کو اسٹیل مل کے اثاثے فروخت کرنے کے بجائے صرف انتظامی کنٹرول نجی شعبے کے حوالے کرنا چاہیے تاکہ ملازمین کے روزگار کا تحفظ ہو سکے۔

جمعرات کو اقتصادی رابطہ کمیٹی کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق ملازمین کو فارغ کرنے کا فیصلہ سپریم کورٹ کے احکامات اور آبزرویشنز کی روشنی میں کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان اسٹیل ملز میں 2015 سے پیداوار مکمل طور پر بند ہے جب کہ خراب معاشی صورتِ حال کے باعث 2013 سے حکومت کی جانب سے ملازمین کو تنخواہوں اور دیگر مراعات کی مد میں اب تک 55 ارب روپے سے زائد کی رقم ادا کی جا چکی ہے۔

کراچی: پی آئی اے کی نجکاری کے خلاف ملازمین کا احتجاج
please wait

No media source currently available

0:00 0:08:43 0:00

پاکستان اسٹیل مل 2008 تک آپریشنل منافع میں تھی جس کے بعد اب 12 سالوں میں خسارہ 300 ارب روپے تک جا پہنچا ہے۔ مل کے ذمے 230 ارب روپے کے قرضے بھی الگ سے واجب الادا ہیں۔

اس کے علاوہ ڈیلرز، ریٹیلرز اور ملازمین کے واجبات بھی 85 ارب روپے سے زائد ہو چکے ہیں۔ اس سے قبل حکومت رواں برس جنوری میں یہ اعلان کرچکی تھی کہ اسٹیل ملز سمیت چھ دیگر اداروں کی نجکاری کی جائے گی۔

'نجکاری کے بغیر بھی مل کی بحالی ممکن ہے'

پاکستان اسٹیل مل کارپوریشن اسٹیک ہولڈرز گروپ کے کنونیئر ممریزخان کی جانب سے وزیر اعظم کو لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ اسٹیل ملز کو پہنچنے والے نقصانات کا جائزہ لینے کے لیے معاشی ماہرین پر مشتمل کمیٹی بنائی جائے۔

گروپ کنونیئر کا کہنا ہے کہ نجکاری کے بغیر بھی اسٹیل مل کو اپنے پاؤں پر دوبارہ کھڑا کیا جا سکتا ہے۔ لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ اہل افراد کو دوبارہ تعینات کیا جائے اور جن لوگوں نے اسٹیل مل میں لوٹ مار کا بازار گرم کیے رکھا، اُنہیں انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔

ممریزخان کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت نے بھی نجکاری کی ماضی میں ہونے والی ناکام کوششوں سے سبق نہیں سیکھا۔ ماضی کی حکومتوں کے دوران ادارے کو جان بوجھ کر تباہ کیا گیا۔ ان کے بقول تباہی کی بنیادی وجہ کرپشن، بد انتظامی اور ملازمین کی بھرمار ہے۔

ممریز خان کہتے ہیں کہ سینیٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی نے چیئرمین اسٹیل ملز کو ادارے کی بحالی کے لیے منصوبہ پیش کرنے کا کہا تھا، لیکن اس پر کوئی عمل درآمد نہیں ہوا۔

'پبلک، پرائیوٹ پارٹنر شپ سے اسٹیل مل کی بحالی ممکن ہے'

ماہر اقتصادیات ڈاکٹر قیصر بنگالی کا کہنا ہے کہ اگر دیکھا جائے تو پاکستان میں سرکاری اداروں کی نجکاری کا تجربہ زیادہ اچھا ثابت نہیں ہوا۔

اُن کے بقول 90 کی دہائی میں پاکستان میں جہاں کئی سرکاری اداروں کی نجکاری کی گئی تو ان میں سے اکثر بند ہو گئے تھے۔ اس سے ملک میں صنعتیں کم ہوئیں اور جن اداروں کی نجکاری کی گئی ان کی زمینیں فروخت کر کے وہاں ہاؤسنگ اسکیمز بنائی گئیں۔

ڈاکٹر قیصر بنگالی کہتے ہیں کہ بہت سے لوگوں کی نظریں اب پاکستان اسٹیل مل کی قیمتی زمین پر ہے جو وہ کوڑیوں کے دام خرید کر اسے ہاؤسنگ اسکیمز میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ کرپشن اور بد انتظامی کا یہ حل نہیں کہ آپ پورا ادارہ ہی فروخت کر دیں۔ لہذٰا حکومت کو چاہیے کہ اثاثے فروخت کرنے کے بجائے صرف اس کا انتظامی کنٹرول نجی شعبے کے حوالے کرے۔

نجکاری کا معاہدہ ایسا ہونا چاہیے کہ نجی شعبہ منافع کا کچھ حصہ حکومت کو بھی دے جس سے حکومت کو بھی آمدنی ہو اور لوگوں کا روزگار بھی برقرار رہے۔

ڈاکٹر قیصر بنگالی کے بقول نہ صرف پاکستانی بلکہ غیر ملکی کمپنیاں بھی اسٹیل مل میں دلچسپی کا اظہار کر رہی ہیں۔

'مل کی نجکاری ہو رہی ہے اثاثوں کی ںہیں'

وفاقی وزیر برائے صنعت و پیداوار حماد اظہر کا کہنا ہے کہ اسٹیل مل ایک سفید ہاتھی بن چکا ہے۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی کی جانب سے ملازمین کو نوکریوں سے برخاست کرنے کے بعد اس کی نجکاری کی جائے گی۔

ان کے بقول 2008 سے مختلف حکومتوں نے ادارے کو 90 ارب روپے کے بیل آوٹ پیکج اور دیگر اسپورٹ فراہم کی۔ تحریک انصاف کی حکومت آنے کے بعد اسٹیل مل کا خسارہ 176 ارب روپے ہو چکا تھا۔

حماد اظہر کا کہنا تھا کہ مل کے ذمے واجب الادا قرضہ 210 ارب روپے سے بھی بڑھ گیا تھا۔ دن بدن اس پر سود کی مد میں اضافی اخراجات تھے۔ اسی طرح 70 کروڑ روپے ماہانہ حکومت کو تنخواہوں اور سود کی مد میں ادا کرنا پڑتے تھے۔

ان کا کہنا ہے کہ اسٹیل ملز کے ملازمین گزشتہ کئی سالوں سے کام نہیں کر رہے۔ اس لیے انہیں 23 لاکھ روپے فی کس کا پیکج دینے کے بعد فارغ کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ایک وقت ایسا تھا جب اسٹیل ملز کے پاس ملازمین کی تعداد 30 ہزار تھی جن میں سے بیشتر کے ریٹائر ہو جانے کے بعد اب ملازمین کی کل تعداد 9 ہزار کے لگ بھگ رہ گئی ہے۔

لیکن اُن کے بقول ایک بند مل کے ملازمین کی تنخواہوں اور واجبات کی ادائیگی کے لئے بھی حکومت کو اربوں روپے خرچ کرنا پڑ رہے تھے جس پر سپریم کورٹ نے بھی تعجب کا اظہار کیا تھا۔

حماد اظہر نے اس بات سے اتفاق کیا کہ حکومتوں کی جانب سے بارہا امداد اور بیل آوٹ پیکج کے بغیر اسٹیل مل کی بحالی کو ممکن نہ بنانا اس کے ملازمین کا قصور نہیں بلکہ اس کی وجہ بدانتظامی اور کرپشن رہی ہے۔

حماد اظہر کا کہنا تھا کہ 15 کمپنیوں نے اسٹیل مل کی نجکاری میں دلچپسی کا اظہار کیا ہے۔ البتہ اُنہوں نے واضح کیا کہ صرف اسٹیل مل کے آپریشنز کی ہی نجکاری کی جائے گی۔

اقتدار میں آنے سے قبل پاکستان تحریک انصاف اسٹیل مل سمیت دیگر خسارے میں رہنے والے سرکاری اداروں کی نجکاری کی مخالف رہی ہے۔ لیکن اب موجودہ حکومت خود نجکاری کے لیے پرتول رہی ہے جس پر مل ملازمین احتجاج کر رہے ہیں۔

خیال رہے کہ اس سے قبل 2006 میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے اسٹیل مل کی نجکاری کو کالعدم قرار دے دیا تھا۔ اس وقت سابق فوجی سربراہ جنرل پرویز مشرف ملک کے صدر اور شوکت عزیز وزیر اعظم تھے۔

حکومتی فیصلے کو عدالت میں چیلنج کر دیا گیا تھا جس پر اس وقت کے چیف جسٹس افتحار محمد چوہدری کی سربراہی میں نو رکنی بینچ نے حکومتی فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا تھا۔

سپریم کورٹ آف پاکستان کے سابق چیف جسٹس افتحار محمد چوہدری (فائل فوٹو)
سپریم کورٹ آف پاکستان کے سابق چیف جسٹس افتحار محمد چوہدری (فائل فوٹو)

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ گو کہ حکومت سرکاری اداروں کی نجکاری کے فیصلے میں آزاد ہے، لیکن اس سے قبل چاروں صوبوں پر مشتمل مشترکہ مفادات کونسل سے مشاورت ضروری ہے۔

بعض ماہرین کا خیال تھا کہ یہی وہ فیصلہ تھا جس پر حکومت افتحار محمد چوہدری سے ناراض تھی جس کے بعد مارچ 2007 میں اُن کے خلاف ریفرنس دائر کر دیا گیا۔

واضح رہے کہ حکومت نے 21 ارب 68 کروڑ روپے کے عوض اسٹیل ملز کو عارف حبیب کنسورشیم کو فروخت کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ کنسورشیم کو ملز کے 75 فی صد حصص، چار ہزار ایکڑ سے زائد زمین اور 100 کلو میٹر سے زائد کی پکی سڑکیں، 70 کلو میٹر ریلوے ٹریک اور 165 میگاواٹ پاور پلانٹ سمیت دیگر اثاثے بھی حوالے کرنے کا فیصلہ ہوا تھا۔

پاکستان اسٹیل مل کا قیام دو جولائی 1973 میں عمل میں لایا گیا تھا۔ اس کے قیام میں روس نے پاکستان کی مدد کی تھی۔

ابتداً اس کی سالانہ پیداوار 22 لاکھ ٹن رکھی گئی تھی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں اسٹیل کی ضروت 90 لاکھ ٹن سالانہ ہے۔ اسٹیل مل میں بدانتظامی اور کرپشن کو نجی اسٹیل ملز کی اجارہ داری کا شاخسانہ بھی قرار دیا جاتا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG