رسائی کے لنکس

logo-print

سمندری طوفان 'سیلی' امریکی ساحل سے ٹکرا گیا، شدید بارشوں کی پیش گوئی


الاباما میں پولیس کی ایک گاڑی ہری کین سیلی کی شدید بارش کے دوران سٹرک سے گزر رہی ہے۔ 16 ستمبر 2020

سمندری طوفان 'سیلی' بدھ کی صبح امریکی ریاست الاباما کے ساحلی قصبوں سے ٹکرا گیا۔ اپنے ساتھ تند و تیز ہوائیں اور شدید بارشیں لانے والے طوفان کے متعلق موسمیات کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ وہ خلیجی ساحل کے کئی علاقوں میں بڑے پیمانے پر تباہی اور سیلاب لا سکتا ہے۔

سیلی میں ہواؤں کی رفتار 165 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے اور طوفانوں کی درجہ بندی میں اس وقت وہ دوسری کیٹیگری پر ہے۔ ماہرین سمندری طوفانوں کو اس کی شدت کے لحاظ سے پانچ درجوں میں تقسیم کرتے ہیں۔

نیشنل ہری کین سینٹر نے مسی سپی اور الاباما کے سرحدی علاقوں اور شمالی فلوریڈا کے رہائشیوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ طوفان کا رخ شمال مشرق کی جانب ہے اور وہ بڑے پیمانے پر تباہی لا سکتا ہے۔

ماہرین نے پیش گوئی کی ہے کہ ان علاقوں میں بدھ کے روز 20 سے 30 سینٹی میٹر تک بارش ہو سکتی ہے، جب کہ بعض علاقوں میں یہ طوفان 88 سینٹی میٹر تک مینہ برسا سکتا ہے، جس سے علاقے میں تباہ کن سیلاب آ سکتے ہیں۔

ہری کین سیلی کی سیٹلائٹ سے لی جانے والی ایک تصویر۔ طوفان اس وقت خلیج میکسیکو پر سے گزر رہا ہے۔ 15 ستمبر 2020
ہری کین سیلی کی سیٹلائٹ سے لی جانے والی ایک تصویر۔ طوفان اس وقت خلیج میکسیکو پر سے گزر رہا ہے۔ 15 ستمبر 2020

موسمیات کے محکمے کے ایک اعلان میں کہا گیا ہے کہ ریاست ورجینیا کے شمالی حصے اور نارتھ اور ساؤتھ کیرولائنا کے کئی حصوں میں بھی شدید بارشیں ہو سکتی ہیں۔

ماہرین نے انتباہ کیا ہے کہ ہری کین سیلی کے باعث فلوریڈا، جنوبی الاباما اور جنوب مغربی جارجیا کے کئی علاقوں میں دن بھر بگولے چل سکتے ہیں۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز لوزیانا، مسی سپی اور الاباما کے علاقوں میں ایمرجنسی کا اعلان کیا تھا۔ انہوں نے اپنی ایک ٹوئٹ میں وہاں کے رہائشیوں سے کہا ہے کہ وہ اس سلسلے میں مقامی اور ریاستی عہدے داروں کے اعلانات پر دھیان دیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG