رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستان میں عدم استحکام سے متعلق خدشات درست نہیں: سرتاج


مشیر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان گزشتہ تین دہائیوں سے شدت پسندی کا شکار رہا ہے، جس کی وجہ سے دنیا بھر میں پاکستان کا تشخص خراب اور ملک عدم استحکام کا شکار ہوا۔ تاہم، موجودہ حکومت نے سیکورٹی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے داخلی اور خارجی سطح پر ’بہت سے فیصلہ کُن اقدامات‘ کیے ہیں

پاکستانی مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ امریکی صدر کے آئندہ کئی دہائیوں تک پاکستان کے عدم استحکام کا شکار ہونے سے متعلق خدشات درست نہیں۔

سرتاج عزیز پاکستان کے ایوانِ بالا، سینیٹ میں پیر کو صدر براک اوباما کے بیان پر سینیٹر مشاہد حسین سید کی جانب سے پیش کردہ تحریک التوا کا جواب دے رہے تھے۔

مشیر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان گزشتہ تین دہائیوں سے شدت پسندی کا شکار رہا ہے، جس کی وجہ سے دنیا بھر میں پاکستان کا تشخص خراب اور ملک عدم استحکام کا شکار ہوا۔ تاہم، موجودہ حکومت نے سیکورٹی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے داخلی اور خارجی سطح پر بہت سے فیصلہ کُن اقدامات کیے ہیں۔

سرتاج عزیز نے کہا کہ امریکی صدر کے خدشات درست نہیں۔ بقول اُن کے، ’امریکا اور اس کے اتحادی ممالک کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے، خطے میں عدم استحکام رہا ہے‘۔

چیئرمین سینیٹ، رضا ربانی کی زیر صدارت میں ہونے والے اجلاس میں مشیر خارجہ کا کہنا تھا کہ صدر علاقائی عدم استحکام کے سلسلے میں امریکا اور اس کے اتحادیوں کے کردار کا جائزہ لیں۔

سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ دوسرے ملکوں کے معاملات میں عدم مداخلت کی پالیسی سے افغانستان اور بھارت کے ساتھ تعلقات بہتر ہوئے ہیں، جبکہ قبائلی علاقوں میں آپریشن ’ضرب عضب‘ اور کراچی میں جرائم پیشہ افراد کے خلاف آپریشن سے ملک میں سیکورٹی کی مجموعی صورتحال بہتر ہوئی ہے۔

صدر اوباما نے 12 جنوری کو اسٹیٹ آف دی یونین سے خطاب میں کہا تھا کہ شدت پسندی کی وجہ سے پاکستان دہائیوں تک عدم استحکام کا شکار رہے گا۔

XS
SM
MD
LG