رسائی کے لنکس

logo-print

انڈونیشیا: کراکاٹاؤ آتش فشاں کا ایک حصہ منہدم


آتش فشاں سے دھویں کے بادل اٹھ رہے ہیں۔ یہ تصویر 23 دسمبر کی لی گئی تھی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اب آٹش فشاں کے ارد گرد فضا میں اتنی راکھ اور کثافت ہے کہ اس کی فضا سے تصویر لینا ممکن نہیں رہا۔

انڈونیشیا کے محکمۂ ارضیات نے جزیرے کے ارد گرد پانچ کلومیٹر تک تمام پروازوں اور بحری جہازوں کے آمد و رفت پر پابندی لگادی ہے۔

انڈونیشیا میں گزشتہ ہفتے سونامی کو جنم دینے والے آتش فشاں انک کراکاٹاؤ کا بڑا حصہ منہدم ہوگیا ہے جس کے بعد حکام نے نزدیکی جزائر کے لوگوں کو ساحل سے کم از کم ایک کلومیٹر دور رہنے کی ہدایت کی ہے۔

جاپان کے خلائی تحقیقات کے ادارے نے سیٹلائٹ کی مدد سے جمع کیے جانے والے راڈار ڈیٹا کو تصاویر میں ڈھالا ہے جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ آتش فشاں پھٹنے کے بعد سے انک کراکاٹاؤ نامی جزیرے کے حجم میں نمایاں کمی آئی ہے۔

آتش فشاں کے اوپر موجود دھویں کے گہرے بادلوں کے باعث سیٹلائٹ کے ذریعے اس کی براہِ راست تصاویر لینا ممکن نہیں جس کے باعث سائنس دان راڈار ڈیٹا کی مدد سے علاقے میں آنے والی جغرافیائی تبدیلیوں کا سراغ لگانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ماہرین کے مطابق نئے ڈیٹا سے ظاہر ہو رہا ہے کہ آتش فشاں پھٹنے کے بعد جزیرے کا جنوب مغربی حصے غائب ہوگیا ہے۔

برطانیہ کی شیفیلڈ یونیورسٹی سے منسلک ماہر ڈیو پیٹلے کا کہنا ہے کہ تازہ ترین ڈیٹا سے اس مفروضے کو تقویت ملتی ہے کہ آتش فشاں کا ایک حصہ منہدم ہونے کی وجہ سے ہی سونامی نے جنم لیا تھا۔

راڈار ڈیٹا کی مدد سے تیار کی جانے والی تصاویر جن میں سے بائیں ہاتھ والی آتش فشاں کے پھٹنے سے پہلے جب کہ دوسری بعد کی ہے۔
راڈار ڈیٹا کی مدد سے تیار کی جانے والی تصاویر جن میں سے بائیں ہاتھ والی آتش فشاں کے پھٹنے سے پہلے جب کہ دوسری بعد کی ہے۔

ہفتے کی شب آنے والی سونامی سے اب تک 430 افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق ہوچکی ہے۔

ڈیو پیٹلے کے مطابق بڑا چیلنج یہ ہے کہ یہ معلوم کیا جائے کہ اس وقت آتش فشاں میں کیا ہو رہا ہے اور آگے کیا ہونے والا ہے۔

انڈونیشیا میں حکام نے خلیجِ سندا میں واقع جزائر پر رہنے والوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ ایک اور سونامی کے خطرے کے پیشِ نظر ساحلی پٹی سے کم از کم ایک کلومیٹر دور رہیں۔

جاپانی خلائی ایجنسی کے ڈیٹا کے مطابق جزیرے کی جانب سے مسلسل ایک ہی طرح کی لہریں سمندر کی طرف بڑھتی دیکھی جاسکتی ہیں جس سے لگتا ہے کہ آتش فشاں کے زیرِ سمندر حصے سے اب بھی لاوا نکل رہا ہے۔

انک کراکاٹاؤ نامی یہ آتش فشاں انڈونیشیا کے بدنامِ زمانہ کراکاٹاؤ آتش فشاں کے پھٹنے کا نتیجے میں وجود میں آیا تھا اور اسی لیے اسے مقامی زبان میں انک کراکاٹوا یعنی 'کراکاٹاؤ کا بچہ' کہا جاتا ہے۔

جزیرے کی بدھ کو ایک بحری جہاز سے لی گئی تصویر
جزیرے کی بدھ کو ایک بحری جہاز سے لی گئی تصویر

کراکاٹاؤ کا آتش فشاں 1883ء میں پھٹا تھا اور اس کے پھٹنے سے پوری دنیا کے ماحول پر اثرات پڑے تھے۔

انک کراکاٹاؤ پہلے پہل 1929ء میں سمندر میں ایک چھوٹے جزیرے کی صورت میں برآمد ہوا تھا جس کے بعد سے اس کے حجم میں مسلسل اضافہ ہو رہا تھا۔

ہفتے کو آتش فشاں پھٹنے سے اس کے زیرِ سمندر حصے میں بڑی لینڈ سلائیڈنگ ہوئی تھی جس کے باعث ماہرین کے مطابق سونامی نے جنم لیا تھا۔

سونامی کی دو سے تین میٹر بلند لہریں انک کراکاٹاؤ کے دونوں اطراف میں واقع انڈونیشی جزائر جاوا اور سماٹرا کے ساحلی علاقوں سے ٹکرائی تھیں۔

آتش فشاں کی مسلسل سرگرمی کے باعث انڈونیشی حکام نے جمعرات کو خطرے کا لیول ایک اور درجے بڑھا دیا ہے اور تمام پروازوں کو انک کراکاٹاؤ کے نزدیک پرواز سے روک دیا ہے۔

انڈونیشیا کے محکمۂ ارضیات نے جزیرے کے ارد گرد پانچ کلومیٹر تک تمام پروازوں اور بحری جہازوں کے آمد و رفت پر پابندی لگادی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ آتش فشاں اب تک پوری طرح نہیں پھٹا ہے اور خدشہ ہے کہ اگر وہ پوری طرح پھٹا تو زیادہ شدید سونامی جنم لے سکتا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG