رسائی کے لنکس

logo-print

عازمین فی الحال حج کی منصوبہ بندی نہ کریں: سعودی عرب


کرونا وائرس کے سبب عالمی سطح پر غیر واضح صورت حال پر سعودی وزیر نے کہا ہے کہ سعودی عرب میں حج کے انتظامات کرنے والوں سے فی الحال کسی بھی قسم کا معاہدہ نہ کریں۔ (فائل فوٹو)

سعودی عرب نے دنیا بھر میں عازمین پر زور دیا ہے کہ وہ فی الحال حج کی ادائیگی کے حوالے سے منصوبہ بندی نہ کریں۔

دنیا بھر میں کرونا وائرس کی وبا کے سبب سعودی عرب کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے رواں برس حج ادا کرنے کے خواہش مند 20 لاکھ مسلمانوں کو تجویز دی کہ وہ یہ مذہبی فریضہ ادا کرنے کا ارادہ فی الحال مؤخر کر دیں۔

امریکی خبر رساں ادارے 'ایسوسی ایٹڈ پریس' کے مطابق سعودی عہدیدار کی مسلمانوں کو تجویز دینے کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ کرونا کی وبا کے سبب فریضہ حج کو محدود کیا جا سکتا ہے۔

سعودی عرب نے فروری میں کرونا وائرس پھیلنے کے خدشات کے پیشِ نظر عمرہ زائرین کے ملک میں داخلے پر پابندی عائد کر دی تھی۔ بعدازاں مارچ کے پہلے ہفتے میں غیر ملکیوں کے بعد سعودی شہریوں پر بھی عمرے کی ادائیگی پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔

ادائیگی عمرہ پر پابندی کے محض تین روز قبل سعودی عرب کے اہم کاروباری شہر اور دارالحکومت ریاض میں کرونا وائرس کا پہلا کیس سامنے آیا تھا۔

فائل فوٹو
فائل فوٹو

سعودی عرب میں کرونا وائرس کے اب تک 1560 سے زائد کیسز سامنے آئے ہیں جب کہ وبا سے 10 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے۔

سعودی عرب کے وزیر برائے حج و عمرہ محمد صالح بن طاہر بنتن نے سرکاری ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی حکومت کو تمام مسلمانوں اور اپنے شہریوں کی صحت عزیز ہے۔

اُن کا مزید کہنا تھا کہ اسی وجہ سے ہم دنیا بھر کے مسلمانوں سے درخواست کر رہے ہیں کہ وہ حج کے حوالے سے سعودی عرب میں اس مذہبی فریضے کے انتظامات کرنے والوں (یعنی حج آپریٹرز) سے فی الحال کسی بھی قسم کا معاہدہ نہ کریں۔

وزیر برائے حج و عمرہ نے مسجد الحرام میں ٹی وی سے گفتگو کی۔ جس وقت وہ گفتگو کر رہے تھے اس وقت مسجد الحرام میں لوگ نہیں تھے جہاں عمومی طور پر ہزاروں افراد ہر وقت موجود رہتے ہیں۔

محمد صالح بن طاہر بنتن نے کہا کہ سعودی شاہی حکومت مکہ میں 1200 ایسے زائرین کا خیال رکھ رہی ہے جو عالمی سطح پر لاک ڈاؤن کے باعث اپنے ملکوں کو واپس نہیں لوٹ سکے تھے۔

اُن کا مزید کہنا تھا کہ ان زائرین کو مکہ کے ہوٹلوں میں قرنطینہ میں رکھا گیا ہے۔

رواں برس جولائی کے اختتام میں حج ادا کیا جانا ہے تاہم اس حوالے سے سعودی حکومت نے کوئی واضح اعلان نہیں کیا ہے۔ (فائل فوٹو)
رواں برس جولائی کے اختتام میں حج ادا کیا جانا ہے تاہم اس حوالے سے سعودی حکومت نے کوئی واضح اعلان نہیں کیا ہے۔ (فائل فوٹو)

قبل ازیں محمد صالح بن طاہر بنتن نے سعودی سرکاری خبر رساں ادارے 'سعودی پریس ایجنسی' سے گفتگو میں کہا تھا کہ دنیا بھر میں مسلمان کو حج کے حوالے سے منصوبہ بندی کرتے ہوئے تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔

انہوں نے جولائی کے اختتام میں سعودی عرب میں زائرین کی آمد کی اجازت دیے جانے کا امکان ظاہر کیا تھا۔

'اے پی' کے مطابق سعودی شاہ سلمان بن عبد العزیز السعود پہلے ہی اعلان کر چکے ہیں کہ سعودی عرب میں کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کے علاج کے تمام اخراجات حکومت برداشت کرے گی۔ ان میں سعودی شہری، زائرین، سیاح، غیر ملکی شہری یا غیر قانونی طور پر سعودی عرب میں مقیم افراد سب شامل ہیں۔

واضح رہے کہ مسلمان سال بھر عمرہ ادائیگی کر سکتے ہیں۔ تاہم حج کی ادائیگی کے دنوں میں عمرہ نہیں کیا جاتا۔ حج پر مسلمانوں کے مقدس شہر میں 20 لاکھ سے زائد افراد دنیا بھر سے آتے ہیں۔

رواں برس جولائی کے اختتام میں حج ادا کیا جانا ہے تاہم اس حوالے سے سعودی حکومت نے کوئی واضح اعلان نہیں کیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG