رسائی کے لنکس

logo-print

ریاض: سعودی ارب پتی معن الصانع کی جائیداد کی نیلامی کا فیصلہ


رٹز کارلٹن ہوٹل، ریاض

سعودی عرب اگلے ماہ سے قرضوں میں دبے، ارب پتی معن الصانع اور اُن کی کمپنی کی جائیداد نیلام کرے گا، تاکہ قرضداروں کے واجب الادا اربوں ریال واپس کیے جا سکیں۔ رائٹرز نے یہ رپورٹ ریاض سےحقائق سے مانوس ذرائع کے حوالے سے جاری کی ہے۔

سنہ 2007میں 'فوربز میگزین' نے صانع کو دنیا کے100 امیر ترین افراد کی فہرست میں شمار کیا تھا، جنھیں قرض واپس نہ کرنے کی بنیاد پر گذشتہ سال گرفتار کیا گیا تھا۔ سنہ 2009 میں اُن کی کمپنی، 'سعد گروپ' قرض نادہندہ قرار پایا تھا۔

اُن کا کیس بیسیوں سعودی کاروباری شخصیات سے علیحدہ ہے جنھیں بدعنوانی کے الزامات پر گذشتہ برس گرفتار کرکے ریاض کے کارلٹن ہوٹل میں زیر حراست رکھا گیا تھا، حالانکہ اُن کے ادارے کے انتظام سے متعلق قرض دینے والوں کی جانب سے اُسی نوعیت کی تشویش پائی جاتی تھی۔

سعودی عرب میں یہ تنازع طویل ترین عرصے سے جاری رہا ہے، قرض دہندگان پچھلے نو برس سے سعد گروپ کا پیچھا کرتے رہے ہیں، جس کی ملکیت ملک کے مشرقی صوبے میں ہے، جب کہ قرضوں کی واپسی کا تقاضہ کیا جاتا رہا ہے۔

'سعد گروپ' کے قرض کے تنازعے کا تصفیہ کرنے کے لیے گذشتہ سال کے آخر میں تین ججوں پر مشتمل 'اتقان الائنس' نے کنسورشیم قائم کیا تھا۔ اس معاملے سے مانوس دو ذرائع کے مطابق، مشرقی صوبے کے ریاض اور جدہ کے شہروں میں پانچ ماہ کے اندر اُن کے اثاثوں کی نیلامی کی جائے گی۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ پہلی نیلامی اکتوبر کے آخر میں الخبر اور دمام میں اُن کمرشل پلاٹوں کی زمین کی ہوگی جنہیں ابھی ہموار نہیں کیا گیا۔ ان میں ایک فارم اور آمدن دینے والی رہائشی عمارات شامل ہیں۔

ایک ذریعے نے بتایا کہ نیلام ہونے پر اس ملکیت سے ایک سے دو ارب ریال، یعنی26 کروڑ 70 لاکھ سے 53 کروڑ 30 لاکھ ڈالر حاصل ہوں گے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG