رسائی کے لنکس

سعودی عرب کی فضائیہ کے مطابق یمن سے فائر کیے جانے والے ان میزائلوں کا ہدف ریاض اور سعودی عرب کے تین دیگر شہر تھے لیکن ان میزائلوں کو فضا میں ہی نشانہ بنا کر تباہ کردیا گیا۔

یمن میں سرگرم حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی عرب پر داغے جانے والے سات بیلسٹک میزائلوں کو سعودی حکام نے مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے تاہم ان میزائلوں کے ٹکڑے لگنے سے ایک شخص ہلاک اور دو زخمی ہو گئے ہیں۔

سعودی ذرائع ابلاغ کے مطابق اتوار کی شب دارالحکومت ریاض میں ان میزائلوں سے ہلاک اور زخمی ہونے والوں کا تعلق مصر سے ہے۔

سعودی عرب کی فضائیہ کے مطابق یمن میں حوثی باغیون کے زیرِ قبضہ علاقے سے فائر کیے جانے والے ان میزائلوں کا ہدف ریاض اور سعودی عرب کے تین دیگر شہر تھے لیکن ان میزائلوں کو فضا میں ہی نشانہ بنا کر تباہ کردیا گیا۔

عینی شاہدین کے مطابق اُنھوں نے زور دار دھماکوں کی آوزیں سنیں اور آسمان پر شعلے دیکھے۔

اس سے قبل بھی حوثی باغی سعودی سرزمین پر میزائل داغتے رہے ہیں اور گزشتہ سال ایک ایسے ہی میزائل حملے کا ہدف ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کو بنایا گیا تھا۔

اس میزائل کے بارے میں اقوامِ متحدہ کے ماہرین کا کہنا تھا کہ وہ ایرانی ساخت کا میزائل تھا۔

ایران حوثی باغیوں کی حمایت کا تو اعتراف کرتا ہے لیکن تہران باغیوں کو اسلحے کی فراہمی کی تردید کرتا آیا ہے۔

تازہ میزائل حملہ ایسے وقت کیا گیا ہے جب حوثی باغیوں کے خلاف سعودی عرب کی قیادت میں قائم اتحاد کے قیام کو تین سال ہو گئے ہیں۔

حوثی باغیوں نے 2014ء میں یمن کے دارالحکومت صنعا پر قبضہ کر لیا تھا جس کے بعد یمن کے منتخب صدر اور ان کے ساتھیوں کو کچھ عرصے کے لیے سعودی عرب میں پناہ لینآ پڑی تھی۔

اُدھر پاکستان کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں سعودی عرب پر میزائل حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اس مؤقف کو دہرایا ہے کہ سعودی عرب کی جغرافیائی سالمیت اور حرمین کے خلاف کسی بھی خطرے میں پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہو گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG