رسائی کے لنکس

logo-print

رواں برس حج ہو گا یا نہیں؟ سعودی عرب پر فیصلے کے لیے دباؤ میں اضافہ


کئی مسلم ملکوں نے رواں برس حج کے لیے عازمین نہ بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔ (فائل فوٹو)

مسلم ممالک کی جانب سے سعودی عرب پر مسلسل دباؤ بڑھتا جا رہا ہے کہ وہ فوری فیصلہ کرے کہ رواں برس جج ہو گا یا نہیں؟ البتہ سعودی حکام کا کہنا ہے کہ اس بارے میں جلد اعلان کر دیا جائے گا۔

دنیا کے سب سے زیادہ مسلم آبادی والے ملک انڈونیشیا نے دو جون کو یہ کہہ کر حج اجتماع سے سبک دوشی کا اعلان کیا تھا کہ سعودی عرب حج کے انعقاد سے متعلق واضح طور پر آگاہ کرنے میں ناکام رہا ہے۔

انڈونیشین وزیر برائے مذہبی امور فخر الرازی نے کہا تھا کہ رواں برس حج کی منسوخی کا فیصلہ مشکل تھا اور انہوں نے یہ فیصلہ مجبوری میں کیا ہے۔

اسی طرح ملائیشیا، سینیگال اور سنگاپور بھی کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے باعث رواں برس عازمین کو سعودی عرب نہ بھیجنے کا فیصلہ کر چکے ہیں۔

خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کے مطابق جنوبی ایشیا کے کئی ممالک کی حکومتوں نے بھی سعودی عرب کے حج انتظامات کے ذمہ داران سے رابطہ کرکے حج کے انعقاد سے متعلق وضاحت مانگی ہے۔

رواں برس جولائی کے آخر سے شروع ہونے والے حج کے انعقاد سے متعلق اب تک سعودی عرب کی جانب سے کوئی واضح فیصلہ سامنے نہیں آیا ہے جس پر ان ملکوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔

رابطہ کرنے والے ملکوں کے حکام کے مطابق سعودی عرب اب تک حج کی منسوخی یا بعض پابندیوں کے ساتھ حج کے اجتماع کے انعقاد سے متعلق فیصلے پر سوچ بچار کر رہا ہے۔

سعودی حکام نے بھی 'اے ایف پی' کو بتایا ہے کہ حج کے انعقاد کے حوالے سے فیصلہ جلد کر لیا جائے گا اور اس کا اعلان بھی جلد ہو گا۔ تاہم انہوں نے فیصلے کے اعلان سے متعلق کوئی حتمی تاریخ نہیں دی ہے۔

مصر، ترکی، لبنان سمیت کئی مسلم اور بڑی مسلم آبادیوں والے غیر مسلم ملکوں نے کہا ہے کہ وہ سعودی عرب کے فیصلے کے منتظر ہیں۔

کئی مسلم ملکوں کے حکام کا کہنا ہے کہ اگر سعودی عرب نے حج کے ایام کے قریب یہ اعلان کیا کہ وہ مکمل حج کے لیے تیار ہے تو بہت سے ملک اس پوزیشن میں نہیں ہوں گے کہ وہ اس کا حصہ بن سکیں۔

ایشیا کے بعض مسلم ممالک کے حکام کا کہنا ہے کہ انٹرنیشنل فلائٹس کی بندش کی وجہ سے سعودی حکومت حج کے اجتماع کو محدود کر سکتی ہے یا یہ بھی ممکن ہے کہ موجودہ حالات میں صرف مقامی افراد کو ہی حج کی اجازت دے دی جائے۔

اگر سعودی عرب نے رواں برس حج کی منسوخی کا اعلان کیا تو 1932 میں مملکت کے قیام کے بعد یہ پہلا واقعہ ہو گا۔

اس سے قبل 16-2015 میں بعض افریقی ملکوں میں ایبولا وائرس کے پھیلاؤ کے دوران بھی سعودی حکام نے حج انتظامات معمول کے مطابق انجام دیے تھے۔

​کرونا وائرس سے سعودی عرب میں اب تک ایک ہزار سے زیادہ افراد ہلاک اور ایک لاکھ 30 ہزار سے زائد متاثر ہو چکے ہیں۔ تاہم حکام نے مئی کے آخری ہفتے سے ملک گیر لاک ڈاؤن اور دیگر پابندیوں میں نرمی کرنا شروع کر دی ہے۔

کئی حلقے مسلم رہنماؤں پر زور دے رہے ہیں کہ کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے خطرے کے پیشِ نظر وہ رواں برس حج کو منسوخ کر دیں۔

یاد رہے کہ دنیا بھر سے ہر سال 20 لاکھ سے زائد عازمین حج کی ادائیگی کے لیے سعودی عرب میں جمع ہوتے ہیں۔

سعودی حکام نے مارچ میں مسلم ممالک کو مشورہ دیا تھا کہ کرونا وائرس کے پھیلاؤ کی وجہ سے حج کے انتظامات نہ کریں اور اس سلسلے میں ہوٹلوں کی بکنگ بھی نہ کی جائے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG