رسائی کے لنکس

logo-print

کرپشن کے مبینہ الزامات پر سعودی عرب کے دو اعلیٰ ترین حکام فارغ


فائل فوٹو

سعودی شاہی خاندان سے تعلق رکھنے والے دو سینئر ترین عہدیداروں کو کرپشن کے الزام میں عہدوں سے فارغ کر دیا گیا ہے۔

سعودی عرب کے سرکاری میڈیا کے مطابق جوائنٹ فورسز کے کمانڈر شہزادہ فہد بن ترکی اور اُن کے صاحبزادے عبدالعزیز بن فہد کے خلاف کرپشن الزامات کی تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

عبدالعزیز بن فہد شمالی الجوف ریجن کے ڈپٹی امیر کے عہدے پر تعینات تھے جب کہ اُن کے والد شہزادہ فہد پڑوسی ملک یمن میں ایران نواز حوثی باغیوں کے خلاف کارروائی کے لیے سعودی اتحادی فورسز کے کمانڈر کی حیثیت سے خدمات انجام دے چکے ہیں۔

سعودی عرب میں کرپشن کے خلاف کارروائی کا آغاز کرنے والے شہزادہ محمد بن سلمان کی ہدایت پر مطلق بن سالم کو معزول شہزادہ فہد کی جگہ تعینات کر دیا گیا ہے۔

سعودی فرماں روا شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی جانب سے جاری فرمان کے مطابق وزارتِ دفاع کے کئی افسران اور سول ملازمین کے خلاف بھی کرپشن کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہے۔

سعودی عرب میں اعلیٰ حکام کے خلاف حالیہ کریک ڈاؤن کو مملکت سے کرپشن کے خاتمے کے لیے قرار دیا جا رہا ہے۔ تاہم ناقدین بدعنوانی کے خلاف شہزادہ محمد بن سلمان کی اس مہم کو اختیارات پر قبضہ جمانے کی کوشش قرار دیتے ہیں۔

سعودی عرب میں کرپشن کے خلاف کریک ڈاون
please wait

No media source currently available

0:00 0:02:46 0:00

گزشتہ ماہ بھی سیاحتی منصوبے میں کرپشن کے الزامات پر کئی افسران کو عہدوں سے ہٹایا گیا تھا جن میں سینئر سیکیورٹی کمانڈر بھی شامل تھے۔

انسانی حقوق کی تنظیموں نے رواں برس مارچ میں 298 افراد کی گرفتاری پر خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ملزمان کو ممکنہ طور پر 'غیر منصفانہ قانونی' کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

سعودی عرب میں بدعنوانی کے خلاف مہم 2017 میں اس وقت سامنے آئی تھی جب شاہی خاندان سے تعلق رکھنے والے افراد سمیت وزیروں اور کاروباری شخصیات کو دارالحکومت ریاض کے ایک لگژری ہوٹل میں قید کر دیا گیا تھا۔

بعدازاں کئی ہفتوں کے بعد بیشتر افراد کو مالی تصفیے پر رضا مندی کے بعد رہا کر دیا گیا تھا۔

حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے گرفتار افراد سے 400 ارب سعودی ریال سے زیادہ کی رقم برآمد کی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG