رسائی کے لنکس

logo-print

سعودی عرب کے ڈراموں میں اسرائیل سے تعلقات کے 'اشارے'


سعودی عرب میں رمضان میں نشر ہونے والے ڈرامے 'امِّ ہارون' کا ایک سین۔

سعودی عرب میں ماہِ رمضان کے دوران دو ڈرامہ سیریلز نشر کیے جانے پر قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ سعودی عرب اسرائیل کے ساتھ تعلقات استوار کرنا چاہتا ہے۔

ماہِ رمضان میں دیگر ممالک کی طرح سعودی عرب میں بھی ٹی وی چینلز ناظرین کے لیے خصوصی پروگرامز اور ڈرامے نشر کرتے ہیں۔

لیکن اس بار ماہِ رمضان میں دکھائے جانے والے دو سعودی ڈرامہ سیریلز تنازع کا باعث بن گئے ہیں جس کی وجہ سے ملک بھر میں ان ڈراموں پر بحث ہو رہی ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کے مقبول سیٹیلائٹ نیٹ ورک مڈل ایسٹ براڈ کاسٹنگ کارپوریشن (ایم بی سی) سے نشر ہونے والے ان ڈراموں کے نام 'ایگزٹ 7' اور 'امِّ ہارون' ہیں۔

ڈرامہ سیریل 'ایگزٹ 7' میں دکھایا گیا ہے کہ ایک مڈل کلاس فیملی سے تعلق رکھنے والے نوجوان کی آن لائن ویڈیو گیمز کھیلنے کے دوران اتفاقی طور پر ایک اسرائیلی لڑکے سے دوستی ہو جاتی ہے۔

سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان کسی بھی قسم کے سفارتی تعلقات نہیں ہیں۔ اس لیے اس ڈرامے میں سعودی لڑکے کی اسرائیلی نوجوان سے دوستی پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔

اسی ڈرامے کے ایک منظر میں سعودی کرداروں کو سعودی عرب اور اسرائیل کے ساتھ تجارتی تعلقات قائم کرنے کے حق میں اور فلسطینیوں کے خلاف بات کرتے دکھایا گیا ہے جس پر سعودی معاشرے میں خاصی لے دے ہو رہی ہے۔

اسی طرح 'ام ہارون' کی کہانی 1940 کے عشرے میں کویت کے ایک گاؤں میں رہنے والی یہودی کمیونٹی کے گرد گھومتی ہے۔

ڈرامہ سیریل 'ایگزٹ 7' کا ایک منظر
ڈرامہ سیریل 'ایگزٹ 7' کا ایک منظر

بعض لوگوں کا خیال ہے کہ ڈراموں میں اس طرح کے موضوعات سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کے حق میں رائے عامہ ہموار کرنے کی کوشش ہو سکتی ہے۔

دونوں ڈرامے سعودی اثر و رسوخ کے تحت چلنے والے سیٹیلائٹ نیٹ ورک 'ایم بی سی' کی پروڈکشن ہیں جو 2017 سے سعودی حکومت کے مکمل کنٹرول میں ہے۔

ایم بی سی کے ترجمان مازن ہائیک نے 'اے ایف پی' سے بات چیت میں ڈرامے پر ہونے والی تنقید کو مسترد کیا ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ رمضان میں دکھائے جانے والے شوز مشرقِ وسطیٰ کی ٹاپ ریٹنگز میں شامل ہوتے ہیں۔

اُن کے بقول مشرقِ وسطیٰ کو کئی عشروں سے محض خون خرابے، خوف، نفرت اور انتہا پسندی سے جوڑ دیا گیا ہے۔ جن شوز پر ان دنوں بحث ہو رہی ہے اُنہیں پیش کرنے کا مقصد خطے میں رواداری اور بین المذاہب مکالموں کے تاثر کو تقویت دینا ہے۔

یاد رہے کہ ایم بی سی کے بانی ولید الابراہیم کو 2017 میں چند دیگر بڑے تاجروں کے ہمراہ سعودی حکومت نے 'انسداد بدعنوانی مہم' کے دوران دارالحکومت ریاض کے ایک ہوٹل میں قید کر دیا تھا۔

برطانیہ کی 'ایسیکس یونیورسٹی' میں سعودی عرب کی اسرائیل سے متعلق خارجہ پالیسی کے ماہر اور لیکچرار عزیزالغاشیان کا کہنا ہے کہ یہ شوز سعودی عرب کے لیے مفید ہیں۔ ان شوز سے سعودی ریاست کو یہ جاننے میں مدد ملے گی کہ اسرائیل اور فلسطین سے متعلق عوام کا کیا مؤقف ہے۔ ان کے بقول سعودی عرب میں اپنی نوعیت کی یہ پہلی کوشش ہے۔

رواں برس کے آغاز میں سعودی عرب نے پہلی بار فلم فیسٹیول میں 'ہولوکاسٹ' سے متعلق فلم کی اسکریننگ کا اعلان کیا تھا تاہم یہ فیسٹیول کرونا وائرس کی وبا کے باعث منسوخ ہو گیا تھا۔

سعودی عرب اورخلیجی ممالک سے قریبی تعلق رکھنے والے امریکی یہودی راہب مارک شینائر کا کہنا ہے کہ سعودی عرب نے یہ بات تسلیم کرلی ہے کہ خطے میں اسرائیل کا کردار اہم ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ چند سال قبل شہزادہ خالد بن سلمان نے اُنہیں بتایا تھا کہ سعودی عرب جانتا ہے کہ 2030 کے اقتصادی منصوبے کی کامیابی میں اسرائیل کا کلیدی کردار ہو گا۔

اے ایف پی کے مطابق سعودی حکام سے جب اس رپورٹ پر مؤقف لینے کے لیے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے اس پر کسی بھی قسم کا کوئی ردِ عمل ظاہر نہیں کیا۔

رواں برس فروری میں سعودی فرماں روا شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود نے یروشلم کے رہنے والے ایک یہودی راہب ڈیوڈ راسن کی میزبانی کی تھی۔ سعودی عرب کی تاریخ میں یہ پہلا موقع تھا جب سربراہِ مملکت نے کسی یہودی مذہبی رہنما کو خوش آمدید کہا تھا۔

اسرائیلی میڈیا نے سعودی شاہ سلمان اور راہب ڈیوڈ کی ایک ساتھ تصویر شائع کرتے ہوئے اسے انقلابی لمحہ قرار دیا تھا۔ تاہم سعودی عرب کے سرکاری خبر رساں ادارے 'سعودی پریس ایجنسی' نے جو تصویر جاری کی تھی اس میں ڈیوڈ راسن کو نکال دیا گیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG