رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستانی پاسپورٹ پر اسرائیل جانے کا خواہش مند گرفتار


پاکستان کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات استوار کرنے کا مطالبہ کرنے والے ایک شہری ڈیوڈ آریل (پرانا نام خلیل الرحمٰن) کو سیکیورٹی اداروں نے حراست میں لے لیا ہے۔

مذکورہ شخص نے اپنے مطالبے کے حق میں ایک ماہ سے اسلام آباد کے نیشنل پریس کلب کے سامنے احتجاجی کیمپ لگایا ہوا تھا۔

ڈیوڈ کا مطالبہ تھا کہ وہ پاکستانی پاسپورٹ پر اسرائیل کا سفر کرنا چاہتے ہیں۔ لہذٰا پاکستان کو اپنے پاسپورٹ پر سے اسرائیل سے متعلق تحریر ختم کرنی چاہیے۔

خیال رہے کہ پاکستان اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتا۔ لہذٰا سفارتی تعلقات نہ ہونے کے باعث اس کے پاسپورٹ پر درج ہے کہ یہ پاسپورٹ اسرائیل کے سفر کے لیے کارآمد نہیں ہے۔

اس سے قبل کراچی کے ایک نوحوان محمد فیصل خالد عرف فیشل نے خود کو یہودی رجسٹرڈ کرایا تھا۔

اسلام آباد پریس کلب کے سامنے نصب ڈیوڈ آریل کے خیمے پر اسرائیل کا پرچم بھی چسپاں تھا۔

ڈیوڈ آریل کا دعویٰ ہے کہ پاکستان میں ہزاروں ایسے افراد ہیں جو اپنے مقدس مقامات کی زیارت کے لئے اسرائیل جانا چاہتے ہیں۔

ان کا مطالبہ ہے کہ جیسے پاکستانی مسلمان اپنے مقدس مقامات کی زیارات کے لیے مکہ، مدینہ جاتے ہیں۔ ایسے ہی 'زائنسٹ' کو بھی یروشلم جانے کی اجازت ہونی چاہیے۔

ڈیوڈ گزشتہ ایک ماہ سے اسلام آباد پریس کلب کے باہر خیمہ لگا کر بیٹھے تھے۔
ڈیوڈ گزشتہ ایک ماہ سے اسلام آباد پریس کلب کے باہر خیمہ لگا کر بیٹھے تھے۔

سوشل میڈیا پر ڈیوڈ آریل کے بیانات اور مطالبات پر عوامی ردعمل سامنے آنے کے بعد پولیس نے انہیں اپنی تحویل میں لے لیا ہے۔

پولیس کی جانب سے حراست میں لیے جانے سے پہلے ایک مذہبی جماعت سے وابستہ کچھ نوجوانوں نے ان کے کیمپ پر حملہ بھی کیا اور خیمے پر چسپاں اسرائیلی پرچم پھاڑ دیا۔

سینیٹ کی داخلہ امور کمیٹی کے چیئرمین رحمٰن ملک نے اس معاملے کا نوٹس لیا اور اسلام آباد پولیس حکام سے معاملے کی تحقیقات کر کے آگاہ کرنے کی ہدایات جاری کیں۔

رحمٰن ملک نے ٹوئٹر پر ایک صارف کی جانب سے اسلام آباد میں اسرائیل کا پرچم لگانے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ کیسے ہو گیا؟

ڈیوڈ آریل کا پاسپورٹ کیوں بلاک ہے؟

ڈیوڈ آریل نے تین ماہ قبل وزارتِ خارجہ سے درخواست کی تھی کہ ان کے پاسپورٹ سے اسرائیل کے حوالے سے تحریر حذف کی جائے تاکہ وہ پاکستانی پاسپورٹ پر اسرائیل کا سفر کر سکیں۔

ان کی درخواست پر وزارتِ خارجہ نے ان کا پاسپورٹ ضبط کر لیا جس پر وہ گزشتہ ماہ سے پریس کلب کے سامنے احتجاج کر رہے ہیں۔

ڈیوڈ آریل کا کہنا ہے کہ بہت سے پاکستانی پاسپورٹ کے بغیر اسرائیل کا سفر کرتے ہیں لیکن وہ چاہتے ہیں کہ اپنے پاکستانی پاسپورٹ پر یروشلم جائیں۔

اس سے قبل انہوں نے اپنا نام تبدیل کرنے کی بھی درخواست دی تھی اور قومی شناختی کارڈ پر اپنا نام خلیل الرحمٰن سے ڈیوڈ آریل تحریر کرایا تھا۔

ڈیوڈ آریل کا انٹرویو کرنے والے صحافی بلال ڈار کہتے ہیں کہ پاکستان میں بعض لوگ یہ سوچ رکھتے ہیں کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم ہونے چاہئیں۔ لیکن اس کے لیے عوامی سطح پر احتجاج ان کے لیے حیران کن تھا اور اسی بنا پر انہوں نے ڈیوڈ سے بات چیت کی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی معاشرے میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے بات کرنا نہ صرف معیوب سمجھا جاتا ہے بلکہ عوامی سطح پر یہ ناپسندیدہ ترین موضوع ہے۔

بلال ڈار کہتے ہیں کہ ڈیوڈ آریل کا انٹرویو کرنے پر انہیں بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر حکومتی سطح پر اسرائیل کے ساتھ تعلقات استوار کرنے پر بات ہوسکتی ہے تو عوامی سطح پر بھی اس پہ سخت ردعمل نہیں آنا چاہیے۔

ڈیوڈ آریل کون ہے ؟

فیصل آباد کے ایک مذہبی گھرانے سے تعلق رکھنے والے ڈیوڈ آریل کو مولانا خلیل الرحمن کے نام سے جانا جاتا تھا۔

ان کے والد مولانا قاری محمد یاسین فیصل آباد میں مدرسہ دار القران کے نام سے دینی تعلیم دیتے ہیں۔

ڈیوڈ آریل خود بھی عالم تھے تاہم 2013 میں انہوں نے مبینہ طور پر 'پاکستان اسرائیل الائنس' نامی تنظیم میں شمولیت اختیار کی۔ وہ گزشتہ سات سال سے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات استوار کرنے کی مہم چلا رہے ہیں۔

واضح رہے ڈیوڈ آریل کا خاندان باقاعدہ طور پر ان کے کاموں سے اعلان لاتعلقی کرچکا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG