رسائی کے لنکس

logo-print

سعودی اعلان کے بعد پاکستان کی اسٹاک مارکیٹ اور روپے کی قدر میں بہتری


سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کو 6 ارب ڈالر کے اعلان کے بعد آج پاکستان کی اسٹاک مارکیٹ تیزی اور روپے کی قدر میں بہتری نظر آئی ہے۔ ماہرین معاشيات کا کہنا ہے کہ سعودی بیل آؤٹ پیکج کے علاوہ پاکستان کو چین، ملائیشیا اور دیگر دوست ممالک سے بھی امداد ملنے کی توقع ہے۔

سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کے لئے 6 ارب ڈالر کے پیکج کے اعلان کے بعد پاکستان کی معاشی صورت حال پر اس کے اثرات آنا شروع ہو گئے ہیں۔ پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں آج کئی روز کی مندی کے بعد بہتری دیکھنے میں آئی ہے اور مارکیٹ کا ہنڈرڈ انڈیکس 1556 پوانٹس اضافے کے بعد 39 ہزار 271 پر بند ہوا۔

ماہر معاشيات مزمل اسلم نے توقع ظاہر کی ہے کہ اسٹاک مارکیٹ میں سعودی فنڈز کے اعلان کے بعد مزید تیزی دیکھنے میں آئے گی۔ پاکستان کو دیگر دوست ممالک سے بھی بیل آؤٹ پیکج ملنے کی توقع ہے جس سے معیشت کو سہارا ملنے کی امید ہے۔

مزمل اسلم کا کہنا تھا کہ اس عمل سے پاکستان کی جانب سے امریکہ کو یہ پیغام ملے گا کہ اس کی امداد پر عائد پابندیوں کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ ایسی صورت حال میں اگر امریکہ نئی حکومت سے مل کر کام کرے گا تو پاکستان کی معاشی مشکلات مزید کم ہو سکتی ہیں۔

معروف بزنس مین عقیل کریم ڈھیڈی کا کہنا ہے وزیر اعظم عمران خان کے مجوزہ دورہ چین کی جانب سے بھی پاکستان کو مزید معاشی امداد ملنے کی توقع ہے۔ سعودی عرب سے آنے والی خبروں سے سرمایہ کاروں کو کچھ اعتماد ملا ہے۔ معروف بزنس مین عقیل کریم ڈیڈھی کے خیال میں اب حکومت کو آئی ایم ایف پروگرام پر جانے کی ضرورت نہیں رہے گی۔

دوسری جانب ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں بھی آج بہتری دیکھنے میں آئی ہے انٹر بینک میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قیمت میں 1 روپیہ 92 پیسے اضافہ ہوا ہے۔ انٹر بینک میں ڈالر 132 روپے 20 پیسے جبکہ اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت 132 روپے 80 پیسے ریکارڈ کی گئی۔

صدر فاریکس ڈیلر ایسوسی ایشن ملک بوستان کے مطابق سعودی امداد پاکستانی معیشت کے لئے سود مند تو ثابت ہوئی ہے مگر اب حکومت کو روپے کی قیمت میں مزید گر واٹ سے گریز کرنا چاہیے۔ ایسا کرنے سے قرضوں کے حجم میں اضافے کے ساتھ برآمدات پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے جو ملکی معیشت کے مفید نہیں۔

پاکستان کی خراب معیشت کی بہتری کے لئے امید کی یہ کرنیں منگل کے روز جاری ہونے والے اعلامیے کے بعد سامنے آئی ہیں۔ اعلامیے کے مطابق پاکستان کے وزیر خزانہ اسد عمر اور سعودی وزیر خزانہ احمد الجدان نے مفاہمت کی یاداشت پر دستخط کئے ہیں۔ جس کے تحت سعودی عرب ایک سال کے لئے ادائیگیوں کے توازن کے لئے 3 ارب ڈالر فراہم کرے گا۔ یہ رقم ملک کے مرکزی بینک، اسٹیٹ بینک آف پاکستان میں جمع کرائی جائے گی۔ دونوں ملکوں کے درمیان اس بات پر بھی اتفاق ہوا ہے کہ سعودی عرب تیل کی درآمد کے لئے تین ارب ڈالر تک کی ایک سال کے لئے مؤخر ادائیگی کی سہولت فراہم کرے گا۔ موخر ادائیگی کا سلسلہ تین سال کے لئے ہوگا۔

ماہرین کے مطابق پاکستان کو معیشت کی بحالی کے لئے بیرونی امداد اور فنڈز کے ساتھ ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے، برآمدات بڑھانے اور معیشت کو دستاویزی بنانے جیسے قلیل اور طویل المدت اقدامات بھی کرنے پڑیں گے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG