رسائی کے لنکس

logo-print

آصف زرداری اور ان کے بچوں کے اثاثوں کی تفصیلات طلب


فائل فوٹو

پاکستان کی سپریم کورٹ نے سابق صدر آصف علی زرداری، ان کی اہلیہ بے نظیر بھٹو اور ان کے تینوں بچوں کے اثاثوں اور اکاؤنٹس کی تفصیلات طلب کرلی ہیں۔

عدالت نے گزشتہ روز جمع کرائے گئے آصف زرداری کے بیانِ حلفی پر عدم اطمینان کا اظہار بھی کیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ پاکستان سے باہر ان کی کوئی جائیداد نہیں ہے۔

سپریم کورٹ نے یہ ریمارکس بدھ کو قومی مفاہمتی آرڈیننس (این آر او) سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران دیے۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔

عدالت نے آصف زرداری سے گزشتہ 10 سال کے اثاثوں، بچوں اور بے نظیر بھٹو کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات طلب کرلیں۔ عدالت نے تمام تفصیلات بیانِ حلفی کے ساتھ دو ہفتوں میں جمع کرانے کا حکم دیا ہے۔

عدالت نے کہا ہے کہ بتایا جائے کہ 2007ء میں آصف زرداری کے کتنے اثاثے تھے؟ براہِ راست اور بالواسطہ ملکیتی اثاثوں کی تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔ آصف زرداری اگر کسی اثاثے کے ٹرسٹی ہیں تو اس کی تفصیلات بھی پیش کی جائیں۔

سماعت کے دوران جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ آصف زرداری کے بیانِ حلفی سے سوالات پیدا ہوئے ہیں۔ انہوں نے بیانِ حلفی میں مؤقف اپنایا ہے کہ آج کے دن تک ان کے کوئی غیر ملکی اثاثے نہیں ہیں۔

چیف جسٹس نے آصف زرداری کے وکیل فاروق نائیک کو کہا کہ آصف زرداری سے پوچھ کر یہ بھی بتائیں کہ کیا ان کا کوئی سوئس اکاؤنٹ بھی ہے؟

سپریم کورٹ نے سابق صدر پرویز مشرف، سابق اٹارنی جنرل ملک قیوم اور ان کے اہلِ خانہ کے اثاثوں کی تفصیلات بھی طلب کرلیں۔

چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیے کہ کیا پرویز مشرف صرف اپنی تنخواہ سے دبئی میں فلیٹ خرید سکتے تھے؟

عدالت نے پرویز مشرف سے غیر ملکی اثاثوں کی تفصیلات طلب کرتے ہوئے حکم دیا کہ سابق آرمی چیف 10 دن میں اپنی اہلیہ کے اثاثوں کی تفصیلات بھی دیں۔

اس موقع پر پرویز مشرف کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ان کے موئکل کے پاس دبئی میں فلیٹ ہے، ایک اکاؤنٹ میں 92 ہزار درہم ہیں جب کہ جیپ اور مرسڈیز سمیت تین گاڑیاں بھی ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ سنا ہے کہ پرویز مشرف کو سعودی عرب سے تحائف ملے ہیں۔ کیا پرویز مشرف اپنی ساری زندگی کی تنخواہ سے بھی فلیٹ خرید سکتے تھے؟ ان سے کہیں عدالت خود آ کر وضاحت دیں۔

وکیل اختر شاہ نے کہا کہ پرویز مشرف نے پیسے پاکستان سے نہیں کمائے۔ انہوں نے بیرونِ ملک لیکچرز دے کر پیسے کمائے۔

اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ پاکستان میں موجود اثاثوں کی تفصیلات بھی فراہم کریں۔ ذرائع آمدن کی تفصیلات بھی دیں۔ اہلیہ کے اثاثوں کی تفصیلات بھی 10 دن کے اندر جمع کرائیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ کیا لیکچر دینے سے اتنے پیسے ملتے ہیں؟ کیوں نہ میں بھی ریٹائرمنٹ کے بعد لیکچر دوں۔

چیف جسٹس نے سوال کیا کہ چک شہزاد فارم ہاؤس کس کا ہے؟ اس پر وکیل نے جواب دیا کہ چک شہزاد فارم ہاؤس بھی پرویز مشرف کا ہے

دورانِ سماعت چیف جسٹس نے آصف زرداری کا بیانِ حلفی لیک ہونے پر اپنے عملے کو طلب کر لیا۔

آصف زرداری کے وکیل فاروق نائیک نے کہا کہ آصف زرداری نو سال جیل میں رہے مگر کچھ ثابت نہیں ہوا اور تمام مقدمات میں باعزت بری ہوئے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ فی الحال صرف الزامات کا جواب لے رہے ہیں۔ اگر کوئی الزام غلط ہوا تو آصف زرداری کلیئر ہو جائیں گے۔ ہم سیاسی رہنماؤں کے سر سے تہمتیں ختم کرنا چاہتے ہیں۔ عوام کو اپنے لیڈروں کے بارے میں بد اعتمادی نہیں ہونی چاہیے۔

سابق صدر آصف زرداری نے این آر او مقدمے میں اپنا بیانِ حلفی گزشتہ روز سپریم کورٹ میں جمع کرا یا تھا۔

ایک صفحے پر مشتمل بیانِ حلفی آصف علی زرداری کے وکیل فاروق نائیک نے جمع کرایا جس میں کہا گیا ہے کہ وہ حلفیہ کہتے ہیں کہ پاکستان سے باہر ان کی کوئی منقولہ اور غیر منقولہ جائیداد نہیں اور نہ ہی ان کا کوئی بینک اکاؤنٹ پاکستان سے باہر ہے۔

اپنے بیانِ حلفی میں آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ انہوں نے اپنے بیان میں جو بات کی ہے، وہ اس پر قائم ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG