رسائی کے لنکس

logo-print

سیاسی و مذہبی قیدیوں کو فوری رہا کیا جائے، امریکہ کا روس سے مطالبہ


روسی فیڈریشن کی حکومت کی جانب سے سیاسی اور مذہبی بنیادوں پر اب تک 150 سے زائد افراد کو قید کیے جانے پر امریکہ نے اظہار تشویش کیا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان نے کہا ہے کہ اِن افراد کا تعلق انسانی حقوق کی تنظیموں سے بتایا جاتا ہے۔

ہیدر نوئرٹ نے پیر کو جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا ہے کہ ''ہمیں یوکرین کے چار قیدیوں کی حالت پر خصوصی تشویش ہے، جنھیں ناحق قید رکھا گیا ہے، جو اس وقت بھوک ہڑتال پر ہیں؛ جن کے نام اولے سینسوف، ستانسلو خلق، اولے سکندر شمکوف اور ولودیمیر بلوخ ہیں''۔

ساتھ ہی، خاتون ترجمان نے کہا کہ اسی طرح، ہمیں ایوب تتیف کے معاملے پر یریشانی لاحق ہے، جو انسانی حقوق کے کارکن ہیں جن کے خلاف منشیات کے من گھڑت الزامات عائد ہیں اور جن کے مقدمے چلائے جانے سے قبل حراستی میعاد میں اضافہ کیا گیا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ روسی حکام نے پُرامن مذہبی رسوم کی ادائگی کی پرواہ کیے بغیر جیہووا کے عینی شاہد، ڈینس کرسٹنسن کو مئی 2017ء سے حراست میں لے رکھا ہے۔ 'چرچ آف سائنٹولوجی' کے راہنمائوں کو جون 2017ء سے مقدمہ چلائے بغیر زیر حراست رکھا گیا ہے، جب کہ ترک دینی عالم، سعید نرسی کے درجن سے زائد مسلمان معتقدین کو قید کیا گیا ہے۔

محکمہ خارجہ نے روس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ تمام قیدی جنھیں سیاسی یا مذہبی طور پر حراست میں رکھا گیا ہے، اُنھیں فوری طور پر رہا کیا جائے اور اختلاف رائے اور پُرامن مذہبی عقائد رکھنے والوں کو دبانے کے لیے قانونی نظام کا استعمال بند کیا جائے۔

ترجمان نے کہا کہ دوسرے مقامات کی طرح، قانون کی رو سے اور بغیر خوف و خطر اپنے حقوق کا اظہار کرنا روسی عوام کا بھی مساوی حق ہے، جس کی پاسداری کی جانی چاہیئے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG