رسائی کے لنکس

ظفر حجازی جمعے کو اپنے وکلا کے ہمراہ اسلام آباد ہائی کورٹ پہنچے تھے لیکن عدالت نے اُن کی درخواست خارج کر دی۔

سکیورٹیز اینڈ ایکیسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کے سربراہ ظفر حجازی کی ضمانت کی درخواست مسترد ہونے کے بعد اُنھیں وفاقی تحقیقاتی ادارے ’ایف آئی اے‘ نے اپنی تحویل میں لے لیا۔

ظفر حجازی نے ایک خصوصی عدالت سے 21 جولائی تک عبوری ضمانت حاصل کر رکھی تھی اور وہ اپنی ضمانت توسیع کے لیے جمعے کو اپنے وکلا کے ہمراہ اسلام آباد ہائی کورٹ پہنچے تھے لیکن عدالت نے اُن کی درخواست خارج کر دی۔

وزیراعظم اور ان کے خاندان کے اثاثوں سے متعلق سپریم کورٹ کے حکم پر تشکیل دی گئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے اپنی کارروائی کے دوران الزام عائد کیا تھا کہ ظفر حجازی نے شریف خاندان کی چودھری شوگر ملز کے ریکارڈ میں ’ٹیمپرنگ‘‘ یا رد و بدل کیا۔

سپریم کورٹ نے اس الزام کی تحقیقات کے لیے ’’ایف آئی اے‘‘ کو حکم دیا تھا کہ ظفر حجازی کو گرفتار کر کے اُن سے پوچھ گچھ کی جائے۔

ظفر حجازی خود پر لگائے گئے الزامات کی تردید کرتے رہے ہیں۔

عدالت کے حکم کے باوجود ظفر حجازی کو اُن کے منصب سے نہیں ہٹایا گیا اور وہ بدستور سکیورٹیز اینڈ ایکیسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کے چیئرمین کے طور پر کام کر رہے ہیں۔

ایس ای سی پی کے چیئرمین کے وکیل نے ضمانت دینے والی عدالت میں یہ موقف اختیار کیا تھا کہ اُن کے موکل علیل ہیں کیوں کہ اُن کے گردوں کی پیوندکاری ہوئی ہے اور اگر اُنھیں گرفتار کر کے جیل بھیجا جاتا ہے تو اُن کی صحت بگڑ سکتی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG