رسائی کے لنکس

ساجد گوندل گھر پہنچ گئے، اہلیہ کا اغوا کاروں سے متعلق لاعلمی کا اظہار


فائل فوٹو

اسلام آباد سے لاپتا ہونے والے سیکیورٹیز ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کے ایڈیشنل جوائنٹ ڈائریکٹر اور سابق صحافی ساجد گوندل منگل کو بازیاب ہو گئے ہیں۔

ساجد گوندل کی بازیابی ایسے موقع پر ہوئی ہے جب وزیرِ اعظم عمران خان نے ان کی بازیابی کے لیے چند گھنٹے قبل ہی تین رکنی کابینہ کمیٹی کے قیام کا اعلان کیا تھا۔

ساجد گوندل نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے اپنی رہائی کی تصدیق کی اور بعدازاں اُن کی اہلیہ نے بھی تصدیق کی کہ ساجد گوندل کو چھوڑ دیا گیا ہے۔

ساجد گوندل نے اپنے ذاتی ٹوئٹر اکاؤنٹ سے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ وہ واپس آ گئے ہیں۔ انہوں نے اُن تمام افراد کا شکریہ ادا کیا جو ان کے حوالے سے فکر مند تھے۔

ساجد گوندل اپنی رہائی کے بعد شہزاد ٹاؤن میں واقع اپنے گھر پر نہیں آئے بلکہ ان کی اہلیہ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ساجد اپنے آبائی گاؤں سرگودھا کے لیے روانہ ہوئے ہیں اور اب وہ سب بھی سرگودھا جا رہے ہیں۔

سجیلہ ساجد نے کہا ہے کہ وہ ان تمام افراد کی شکر گزار ہیں جنہوں نے ان کے خاوند کی رہائی کے لیے آواز بلند کی اور ان ہی کی کاوشوں کی وجہ سے ساجد کو رہا کیا گیا ہے۔

ساجد کو کس نے اغوا کیا اور کیا واقعات پیش آئے؟ اس بارے میں سجیلہ نے لاعلمی کا اظہار کیا۔

ساجد گوندل کی رہائی کی اطلاعات سامنے آنے کے بعد ہی کہا جارہا تھا کہ وہ اپنے گھر نہیں آئیں گے اور مبینہ طور پر میڈیا سے انہیں دور رکھنے کے لیے آبائی علاقے میں جانے کا کہا گیا تھا۔

ساجد کی رہائی کے بعد ساجد گوندل کی سوشل میڈیا پر مختلف تصاویر بھی سامنے آئی ہیں جن میں وہ بڑھی ہوئی شیو کے ساتھ سفید شرٹ میں ملبوس نظر آ رہے ہیں۔

پولیس حکام نے تصدیق کی کہ ان کی ساجد سے ملاقات ہوئی ہے اور وہ خیریت سے ہیں۔

ایس ای سی پی افسر کی رہائی کے بعد وزیرِ انسانی حقوق شیریں مزاری نے اپنے ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ وزیرِ اعظم نے کابینہ اجلاس میں واضح طور پر کہا تھا کہ یہ ناقابل قبول ہے کہ تمام جرائم کے خلاف قوانین کی موجودگی میں لوگوں کو غائب کردیا جائے۔

اُن کے بقول ساجد گوندل کی گمشدگی کے معاملے پر وزارتِ داخلہ اور آئی جی اسلام آباد کو سخت احکامات دیے گئے تھے۔ ساجد گوندل کا بخیر و عافیت واپس آنا بہت اچھا ہے۔

ایس ای سی پی کے افسر ساجد گوندل تین ستمبر کو اسلام آباد سے لاپتا ہوئے تھے۔ پولیس کو ان کی سرکاری گاڑی چار ستمبر کی صبح شہزاد ٹاؤن میں واقع زرعی تحقیقاتی مرکز کے باہر سے ملی تھی۔

ساجد کی کی اہلیہ کے مطابق تین ستمبر کی شام کو ان کے خاوند گھر سے نکلے اور پھر واپس نہ آئے۔

ساجد گوندل کہ اہلیہ کی درخواست پر اسلام آباد کے تھانہ شہزاد ٹاؤن میں مقدمہ بھی درج کیا گیا۔ اس مقدمے میں نامعلوم افراد کے خلاف ساجد گوندل کو اغوا کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں سماعت

اسلام آباد ہائی کورٹ میں سات ستمبر کو ساجد گوندل کی گمشدگی کی درخواست پر سماعت کے بعد چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ساجد کی بازیابی کے لیے حکومت کو دس روز کی مہلت دی تھی۔

عدالت نے سیکرٹری داخلہ اور آئی جی اسلام آباد پر برہمی کا اظہار کیا تھا۔

چیف جسٹس نے سیکرٹری داخلہ کو ہدایت کی تھی کہ کابینہ اجلاس میں اس معاملہ کو اٹھایا جائے اور وزیرِ اعظم کو اس بارے میں تمام تفصیل بتائی جائے۔

منگل کو کابینہ اجلاس میں سیکرٹری داخلہ یوسف نسیم کھوکھر نے وزیرِ اعظم عمران خان کو اس حوالے سے عدالتی احکامات سے آگاہ کیا جس کے بعد وزیراعظم نے معاون خصوصی شہزاد اکبر، وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری اور سیکرٹری داخلہ پر مشتمل تین رکنی کمیٹی تشکیل دی۔ اس کمیٹی کے قیام کے چند گھنٹوں بعد ہی ساجد گوندل کو رہا کر دیا گیا۔

ساجد گوندل پر کیا الزام تھا؟

ساجد گوندل ایس ای سی پی میں ملازمت سے قبل نجی نیوز چینل 'ڈان' سے وابستہ تھے اور ایک میگزین بھی نکالتے تھے۔ لیکن ایس ای سی پی میں ملازمت اختیار کرنے کے بعد انہوں نے یہ میگزین بند کر دیا تھا۔

حالیہ دنوں میں صحافی احمد نورانی کی طرف سے چیئرمین 'سی پیک اتھارٹی' لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عاصم سلیم باجوہ کے اہلِ خانہ کے بیرونِ ملک اثاثوں سے متعلق ایک خبر شائع ہوئی تھی جس کے بعد ساجد گوندل کے غائب ہونے پر قیاس آرائیاں جاری تھیں کہ اُنہیں اس خبر میں احمد نورانی کی معاونت کرنے پر اغوا کیا گیا ہے۔ تاہم ان کی اہلیہ نے اس کی تردید کی ہے۔

بعض حلقے ساجد کے اغوا کا ذمہ دار ریاستی اداروں کو ٹھیرا رہے ہیں تاہم پاکستان کی حکومت اس کی تردید کر رہی ہے۔

وزیرِ انسانی حقوق شیریں مزاری نے ساجد کی بازیابی کے لیے پولیس کو فوری اقدامات کی ہدایت کی تھی جب کہ انسانی حقوق کی تنظیم 'ایمنسٹی انٹرنیشنل' نے بھی ساجد کے لاپتا ہونے پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔

ساجد گوندل کی رہائی سے چند گھنٹے قبل ایس ای سی پی نے بھی پہلی مرتبہ اپنے افسر کے غائب ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ایک بیان جاری کیا تھا جس میں قانون نافذ کرنے والے اداروں سے ساجد گوندل کو بازیاب کروانے کا کہا تھا۔

اسلام آباد پولیس نے اس معاملے میں ایس ای سی پی کے دیگر ملازمین کو شاملِ تفتیش کرنے کا بھی بتایا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG