رسائی کے لنکس

صحافی مطیع اللہ جان گھر واپس پہنچ گئے


مطیع اللہ جان سپریم کورٹ پہچنے تو ان کے ساتھیوں نے اُن کے حق میں نعرے بازی کی۔

سینئر صحافی مطیع اللہ جان کے نامعلوم اغوا کار اُنہیں راولپنڈی سے 30 کلو میٹر دور فتح جنگ کے مقام پر گاڑی سے باہر نکال کر چلے گئے اور وہ اپنے گھر واپس پہنچ گئے ہیں۔

اسلام آباد کے سیکٹر جی سکس تھری سے منگل کی صبح اغوا ہونے والے سینئر صحافی مطیع اللہ جان 12 گھنٹوں کے بعد اپنے گھر واپس پہنچے۔

نامعلوم افراد نے اُنہیں اسلام آباد سے اغوا کیا اور اس کے بعد انہیں ایک کمرے میں بند کر دیا۔ شام کے وقت اغوا کار انہیں گاڑی میں لے کر مختلف سڑکوں پر گھماتے رہے اور رات گئے ان کے بھائی شاہد عباسی کو فتح جنگ کے قریب آنے کا کہا اور ایک پولیس چیک پوسٹ کے قریب انہیں ان کے بھائی کے حوالے کر دیا۔

اس بارے میں مطیع اللہ جان سے رہائی کے بعد ملنے والے ان کے صحافی دوست اعزاز سید نے ان کی رہائی کی تصدیق کی اور کہا کہ ان کی رہائی کے بعد ہماری ملاقات ہوئی ہے اور وہ بالکل ٹھیک ہیں۔ اغوا کاروں نے ان پر کسی قسم کا تشدد نہیں کیا۔

اس اغوا کا کیا مقصد تھا اور انہیں کیوں اغوا کیا گیا؟ اعزاز سید نے کہا کہ اس بارے میں مطیع اللہ جان ہی بہتر بتا سکتے ہیں۔ فی الحال انہوں نے اس بارے میں کوئی بات نہیں کی کہ اغوا کاروں کا کیا منصوبہ تھا اور انہیں اغوا کیوں کیا گیا اور پھر رہا کیوں کیا گیا۔

اس سے قبل، سوشل میڈیا پر مطیع اللہ جان کو زبردستی ایک گاڑی میں بٹھا کر لے جانے کی ویڈیوز بھی گردش کر رہی ہیں۔

مطیع اللہ جان کے اہلِ خانہ اور وفاقی وزیرِ اطلاعات سینیٹر شبلی فراز نے مطیع اللہ جان کے اغوا کی تصدیق کی تھی۔

منگل کو اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس کے دوران سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ انہوں نے اس معاملے پر وزیرِ داخلہ اعجاز شاہ سے بھی رابطہ کیا ہے۔

اس سے قبل آبپارہ تھانے میں مطیع اللہ جان کے اغوا کی ایف آئی آر درج کرائی گئی تھی۔

ایف آئی آر
ایف آئی آر

شبلی فراز کا کہنا تھا کہ حکومت مطیع اللہ جان کا سراغ لگانے کی پوری کوشش کرے گی۔

مطیع اللہ جان پاکستان میں ریاستی اداروں بالخصوص فوج کی سیاست میں مداخلت پر کڑی تنقید کرتے رہے ہیں۔ چند روز قبل ججز سے متعلق ایک ٹوئٹ پر مطیع اللہ جان کو سپریم کورٹ نے توہینِ عدالت کا نوٹس بھی جاری کیا تھا اور اس نوٹس کی سماعت کے سلسلے میں انہیں بدھ کو عدالت میں پیش ہونا تھا۔

دریں اثنا اسلام آباد ہائی کورٹ نے مطیع اللہ جان کے اغوا پر سیکریٹری داخلہ اور اسلام آباد کے چیف کمشنر اور آئی جی پولیس کو نوٹس جاری کر دیے ہیں۔

عدالت نے حکم دیا ہے کہ مطیع اللہ جان کا سراغ نہ ملنے کی صورت میں تینوں حکام بدھ کو عدالت میں پیش ہوں۔

مطیع اللہ جان کی بازیابی کے لیے ان کے بھائی شاہد اکبر عباسی نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی جس میں انہوں نے وزارتِ داخلہ، دفاع اور پولیس کو فریق بنایا ہے۔ درخواست میں پاکستان کی خفیہ ایجنسی انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے ڈائریکٹر جنرل کو بھی فریق بنایا گیا ہے۔

مطیع اللہ جان کی اہلیہ کنیز صغریٰ نے وائس آف امریکہ کی گیتی آرا کو بتایا ہے کہ ان کے شوہر دن 11 بجے کے قریب اُنہیں لینے اسکول آئے تھے۔ وہ اُنہیں کال کرتی رہیں لیکن اُن سے رابطہ نہیں ہو رہا تھا جس کے بعد اسکول کے گارڈ نے بتایا کہ اُن کی گاڑی تو ڈیڑھ، دو گھنٹے سے باہر کھڑی ہے۔

مطیع اللہ جان کے اغوا کار کون تھے؟
please wait

No media source currently available

0:00 0:04:01 0:00

اُن کے بقول جب وہ اسکول سے باہر آئیں تو مطیع کی گاڑی کھلی ہوئی تھی جس میں ان کا ایک موبائل فون بھی موجود تھا۔ اس پر اُنہوں نے اپنے دیور سے رابطہ کیا جنہوں نے اُنہیں پولیس کو کال کرنے کا کہا۔

مطیع اللہ جان کی اہلیہ کا مزید کہنا تھا کہ اُن کے شوہر پر اس سے قبل بھی دو مرتبہ حملے ہو چکے ہیں۔ چند روز قبل جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سے متعلق کیس کے فیصلے پر اُنہوں نے ایک ٹوئٹ کی تھی جسے اسلام آباد ہائی کورٹ نے نظر انداز کر دیا تھا، لیکن سپریم کورٹ نے اُنہیں توہینِ عدالت کا نوٹس جاری کیا تھا۔

مطیع اللہ جان کے بھائی ایڈوکیٹ شاہد اکبر عباسی نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ دو گاڑیوں میں سادہ کپڑوں میں ملبوس اور کالی وردیوں میں جدید اسلحے سے لیس افراد نے مطیع اللہ جان کو اغوا کیا۔

اُنہوں نے کہا کہ ایک سفید ڈبل کیبن گاڑی بھی اس کارروائی میں استعمال ہوئی ہے جس پر پولیس لائٹ نصب تھی لیکن اس کے دروازوں پر پولیس درج نہیں تھا۔ لہذٰا یہ تعین نہیں ہو سکتا کہ اُنہیں کس نے اغوا کیا۔

شاہد اکبر نے مزید بتایا کہ ان افراد نے زبردستی مطیع اللہ جان کو گاڑی سے نکالا اور اپنے ساتھ لے گئے۔ اُنہوں نے بتایا کہ مطیع اللہ جان نے اپنا ایک فون اسکول کے اندر اُچھالا لیکن مطیع اللہ جان کو اغوا کرنے والوں میں شامل ایک شخص اسکول کے اندر آ کر وہ فون بھی ساتھ لے گیا۔

اُنہوں نے بتایا کہ مقامی پولیس نے تاحال مطیع اللہ جان کو گرفتار کرنے کی تصدیق نہیں کی ہے۔

مطیع اللہ کے ٹوئٹر ہینڈل سے اُن کے بیٹے نے ایک ٹوئٹ کی ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ اُن کے والد کو دن دیہاڑے اسلام آباد کے دل سے اغوا کر لیا گیا ہے۔

مطیع اللہ جان کے بھائی نے چیف جسٹس آف پاکستان سے اپیل کی کہ وہ اس معاملے کا ازخود نوٹس لے کر اُن کی بازیابی یقینی بنائیں۔

کئی وفاقی وزرا سمیت حزبِ اختلاف کی جماعتوں کے رہنماؤں، صحافیوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے مطیع اللہ جان کے لاپتا ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکام سے اُن کی فوری بازیابی کا مطالبہ کیا ہے۔

انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی مطیع اللہ جان کی پراسرار گمشدگی پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ انہیں ماضی میں بھی اپنی صحافت کی وجہ سے جسمانی تشدد کا سامنا رہا ہے۔

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے بھی مطیع اللہ جان کے لاپتا ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکام سے اُن کی فوری بازیابی کا مطالبہ کیا ہے۔

سوشل میڈیا پر مطیع اللہ جان کے پراسرار طور پر غائب ہونے پر تبصروں کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا ہے۔ #BringBackMatiullah کا ہیش ٹیگ پاکستان میں ٹاپ ٹرینڈ کر رہا ہے۔

سوشل میڈیا پر وہ ویڈیو بھی شیئر ہو رہی ہے جس میں مطیع اللہ جان کے اغوا کے مناظر دیکھے جا سکتے ہیں۔ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مطیع اللہ کو نامعلوم افراد زبردستی گاڑی میں بٹھا کر اپنے ساتھ لے جاتے ہیں۔

وفاقی وزیر فواد چوہدری نے مطیع اللہ جان کے اغوا کو پریشان کن قرار دیا۔

ایک ٹوئٹ میں فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ مجھے امید ہے اسلام آباد پولیس اور سیکیورٹی ادارے مطیع اللہ جان کی بازیابی کے لیے اقدامات کریں گے۔

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے بھی مطیع اللہ جان کے اغوا کی مذمت کی۔

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ایک سینئر صحافی کا غائب کر دیا جانا قابل مذمت اور شدید خدشات کو جنم دینے والا واقعہ ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت کا ذرائع ابلاغ کی آزادی کو سلب کرنا اور اختلاف رکھنے والی آوازوں کو خاموش کرانا شرمناک عمل ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر مطیع اللہ جانب کو اگر کچھ بھی ہوتا ہے تو اس کے ذمہ دار وزیرِ اعظم عمران خان ہوں گے۔

پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھی مطیع اللہ جان کے مبینہ اغوا کی مذمت کی ہے۔

بلاول بھٹو کا کہنا ہے کہ حکومت مطیع اللہ جان کی بحفاظت بازیابی یقینی بنائے۔

سینئر سیاست دان افراسیاب خٹک کا کہنا ہے اسلام آباد میں سپریم کورٹ، پارلیمنٹ اور میڈیا جیسے جمہوری اداروں کی موجودگی میں یہ اقدام شرمناک ہے۔

مطیع اللہ جان ماضی میں کئی قومی اخبارات اور ٹی وی چینلز سے وابستہ رہے ہیں۔ اُنہوں نے اپنا یوٹیوب چینل قائم کر رکھا ہے جس میں وہ سپریم کورٹ، سیاست اور دیگر ریاستی اُمور سے متعلقہ پروگرام پیش کرتے ہیں۔

مطیع اللہ جان اس سے قبل وقت ٹی وی، ڈان نیوز، رائٹرز اور پاکستان کے سرکاری ٹی وی پی ٹی وی سے بھی وابستہ رہے ہیں۔

یاد رہے کہ پاکستانی فوج کے سابق ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے 2018 میں ایک پریس کانفرنس میں ریاست مخالف پروپیگنڈا کرنے والے صحافیوں کی فہرست پیش کی تھی جس میں مطیع اللہ جان کا نام بھی شامل تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG