رسائی کے لنکس

logo-print

’تحریکیں تب کامیاب ہوتی ہیں جب چولہے ٹھنڈے پڑتے ہیں‘


فائل فوٹو

پاکستان میں حزبِ اختلاف کی سیاسی جماعتیں 25 جولائی کا دن یومِ سیاہ کے طور پر منانا چاہتی ہیں۔

حزبِ اختلاف کی سیاسی جماعتوں کا مؤقف ہے کہ 2018 کے عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی ہوئی ہے جس کے خلاف وہ یوم سیاہ منائیں گے۔

اپوزیشن جماعتوں کے مشترکہ بیانیے کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کی موجودہ حکومت عوام کے ووٹوں سے نہیں آئی بلکہ اُسے اسٹیبلشمنٹ نے سلیکٹ کیا ہے۔

تجزیہ کار حزبِ اختلاف کی سیاسی جماعتوں بالخصوص پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے اِس بیانیے سے قدرے اتفاق تو کرتے ہیں لیکن اُن کے نزدیک اپوزیشن جماعتوں کو تھوڑا صبر سے کام لینا چاہیے۔

سینئر صحافی اور تجزیہ کار سُہیل وڑائچ سمجھتے ہیں کہ اپوزیشن جماعتوں کا یہ فیصلہ وقت سے پہلے ہے۔

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے سُہیل وڑائچ نے کہا ہے کہ متحدہ اپوزیشن کا یہ رد عمل بہت جلدی اور وقت سے پہلے ہے۔ ستمبر یا اکتوبر کے بعد مہنگائی اور روزمرہ اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ اور دیگر عوامل زیادہ اثر انداز ہوسکیں گے۔

سہیل وڑائچ نے مزید بتایا ہے کہ ابھی دونوں بڑی سیاسی جماعتیں ملاقاتیں کریں گی لیکن انہیں عوامی حمایت نہیں ملے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ دباؤ صرف مہنگائی سے بڑھ رہا ہے. مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی صورت حال کا زیادہ اثر ہو رہا ہے۔ آج تک دنیا میں جتنی بھی تحریکیں چلتی رہی ہیں وہ تب کامیاب ہوئی ہیں جب گھر کا چولہا ٹھنڈا ہو جاتا ہے۔ کوئی کسی کے لیے جان نہیں دیتا ماسوائے اُس کی اپنی جان پر بن جائے۔

سہیل وڑائچ کے مطابق ’تحریک تب چلتی ہے جب لوگوں کی جان پر بن جائے، جس دن جان پر بن آئے گی لوگ باہر نکل آئیں گے‘۔

سینئر صحافی اور تجزیہ کارعارف نظامی سمجھتے ہیں کہ 25 جولائی کو یوم سیاہ منانے سے حزب اختلاف کی سیاسی جماعتوں کو کوئی خاص کامیابی نہیں مل سکے گی۔

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئےعارف نظامی نے کہا کہ برداشت کا مادہ حکومت میں بھی نہیں ہے اور حزب اختلاف کی سیاسی جماعتیں بھی سخت مؤقف اپنائے ہوئے ہیں۔

پیپلز پارٹی اور اپی ایم ایل کی جانب اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سختی دونوں جماعتوں پر ہے لیکن مسلم لیگ (ن) پر زیادہ ہے۔

عارف نظامی نے کہا ہے کہ اپوزیشن ابھی سڑکوں پر آنے کی پوزیشن میں نہیں ہےاور نہ ہی حکومت اپوزیشن کو اس کی اجازت دے گی۔

مریم کیا چاہتی ہیں

مریم نواز اِن دنوں اپنے والد نواز شریف کی تصویر والا کرتا پہن کر عوامی جگہوں پر جاتی ہیں۔ رواں ماہ 19 جولائی کو اسلام آباد کی احتساب عدالت میں پیشی کے موقع پر انہوں نے سیاہ رنگ کا کرتا پہنا جس پر لکھا تھا کہ ’نواز شریف کو رہا کرو‘۔

مریم نواز نے فیصل آباد جلسے میں جو لباس پہنا اس پر ’ووٹ کو عزت دو‘ کے الفاظ درج تھے۔
مریم نواز نے فیصل آباد جلسے میں جو لباس پہنا اس پر ’ووٹ کو عزت دو‘ کے الفاظ درج تھے۔

تجزیہ کار سہیل وڑائچ کا مؤقف ہے کہ مریم اپنے والد کو رہا کرانا چاہتی ہیں اور اِس میں کامیاب ہونے کے لیے ایک لمبی جدوجہد کی ضرورت ہے۔

عارف نظامی کا کہنا ہے کہ مریم نواز اپنی جماعت میں اپنی قیادت کا لوہا منوانا چاہتی ہیں۔ وہ یہ ثابت کرنا چاہتی ہیں کہ وہ ایک مقبول لیڈر ہیں۔

بلاول کیا چاہتے ہیں

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری حکومت پر سخت الفاظ میں تنقید کرتے ہیں لیکن گزشتہ روز بلاول نے ٹوئٹر پر عمران خان کے دورہ امریکہ کے بارے میں نرم مؤقف اختیار کیا۔

تجزیہ کار سہیل وڑائچ کا اس معاملے پر کہنا تھا کہ بلاول اپنی والدہ بے نظیر بھٹو کی طرح مقام بنانا چاہتے ہیں۔ بلاول چاہتے ہیں کہ وہ بھی کبھی حکمران بن سکیں۔

عارف نظامی کی رائے میں بلاول بھٹو کم و بیش وہی چاہتے ہیں جو مریم نواز چاہتی ہیں، لیکن وہاں شہباز شریف کی صورت میں کوئی چچا جان موجود نہیں ہیں۔

واضح رہے کہ 25 جولائی کو یوم سیاہ منانے کا فیصلہ حزبِ اختلاف کی آل پارٹیز کانفرنس میں کیا گیا تھا۔ جس کے تحت تمام اپوزیشن سیاسی جماعتیں پاکستان کے چاروں صوبائی دارالحکومتوں میں حکومت کے خلاف سیاسی قوت کا مظاہرہ کریں گی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG