رسائی کے لنکس

logo-print

چیئرمین سینیٹ سنجرانی کے خلاف عدم اعتماد کی قرارداد جمع


چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی، فائل فوٹو

پاکستان کی سینیٹ میں موجود اپوزیشن جماعتوں نے چیئرمین کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کرواتے ہوئے سینیٹ کا اجلاس فوری بلانے کی درخواست کی ہے۔ تاہم, نئے چیئرمین سینیٹ کے امیدوار پر اپوزیشن جماعتیں تاحال کسی اتفاق پر نہیں پہنچ سکیں۔

ایوان بالا کے چیئرمین کو ہٹانے کا فیصلہ 26 جون کو اپوزیشن کی کثیر الجماعتی کانفرنس میں مشترکہ طور پر کیا گیا تھا۔

پاکستان کی پارلیمنٹ میں اہم سیاسی پیش رفت میں مشترکہ اپوزیشن نے حکومتی حمایت یافتہ چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کو ہٹانے کے لیے تحریک عدم اعتماد سینیٹ سیکرٹریٹ میں جمع کرا دی ہے۔

تحریک عدم اعتماد کی قرارداد اپوزیشن جماعتوں کے 38 اراکین کے دستخطوں کے ساتھ جمع کرائی گئی ہے۔ راجہ ظفر الحق، شیری رحمان، عبدلغفور حیدری، میر کبیر شاہی اور دیگر ارکانِ سینیٹ نے یہ قرارداد منگل کو سینیٹ کے سیکرٹری کے پاس جمع کرائی، جب کہ مشترکہ اپوزیشن نے نئے چیئرمین سینیٹ کے امیدوار پر اتفاق رائے کے لیے رہبر کمیٹی کا اجلاس جمعرات کو ہلایا ہے۔

تحریک عدم اعتماد سے قبل پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں مشترکہ اپوزیشن کا اجلاس ہوا جس کی صدارت سینیٹ میں قائد حزب اختلاف راجہ ظفر الحق نے کی۔ اجلاس میں مشترکہ اپوزیشن کی جماعتوں کے اراکین سینیٹ نے شرکت کی۔ تاہم، جماعت اسلامی اور آزاد حیثیت میں رہنے والی بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل کا کوئی رکن شریک نہیں ہوا۔

مشترکہ اپوزیشن کے اجلاس میں چیئرمین سینیٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے لیے حکمت عملی اپنائی گئی۔

تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کے لیے اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے سینیٹ اجلاس بلانے کے لیے ریکوزیشن بھی جمع کرائی گئی ہے۔ سینیٹ قواعد کے مطابق تحریک عدم اعتماد آنے کے بعد 14 دنوں کے اندر اس تحریک پر ووٹنگ کرانا لازمی ہوتا ہے۔

تاہم، ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت عدم اعتماد کی تحریک کو التواء میں ڈالنے کے لیے قانونی راستوں کا جائزہ لے رہی ہے۔

عدم اعتماد کی قرارداد جمع کرانے کے بعد اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے عہدے سے مستعفی ہو جائیں، کیونکہ جن جماعتوں نے انہیں ووٹ دیا تھا وہ اب نیا چیئرمین سینیٹ لانا چاہتی ہیں۔

سینیٹ میں اس وقت کل 103 اراکین ہیں اور چیئرمین سینیٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد منظور کرانے کے لیے اپوزیشن جماعتوں کو 53 سینٹرز کی حمایت درکار ہو گی۔

اگر سینیٹ میں جماعتوں کی عددی صورت حال کا جائزہ لیا جائے تو اس وقت پیپلز پارٹی کے 20، مسلم لیگ (ن) 16، نیشنل پارٹی پانچ اور جمعیت علما اسلام چار ارکان ہیں، جب کہ 29 آزاد اراکین سینیٹ میں سے زیادہ تر کا تعلق مسلم لیگ ن سے ہے۔

خیال رہے کہ 2018 کے سینیٹ انتخابات میں مسلم لیگ ن کے سینیٹ امیدواروں کو انتخابی قواعد کی بنا پر آزاد حیثیت سے انتخاب میں حصہ لینا پڑا تھا۔

اس کے علاوہ پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے 2 اراکین اور عوامی نیشنل پارٹی کے ایک رکن کے ساتھ اپوزیشن اتحاد کو 66 اراکین سینیٹ کی حمایت حاصل ہے، جب کہ ان کے مقابلے میں حکمران اتحاد کو سینیٹ میں 38 اراکین کی حمایت دستیاب ہے۔

حکومتی جماعت تحریک انصاف نے آزاد حیثیت میں منتخب صادق سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی مخالفت کی ہے۔ حکومتی رہنماؤں کا دعویٰ ہے کہ اپوزیشن اپنی عدم اعتماد کی تحریک میں کامیاب نہیں ہو سکے گی۔

پارلیمانی صحافی صدیق ساجد کہتے ہیں کہ حکومت کے دعوے اور چیئرمین سینیٹ کا تاحال مستعفی نہ ہونا ظاہر کرتا ہے کہ وزیر اعظم عمران ان معاملات کو ہارس ٹریڈنگ کے ذریعے حل کرنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں عددی اکثریت کو ثابت کرنا اپوزیشن جماعتوں کے لیے آسان نہیں ہو گا اور خفیہ رائے شماری کے باعث نتائج توقع سے مختلف بھی سامنے آ سکتے ہیں۔

خیال رہے کہ موجودہ چیئرمین صادق سنجرانی نے گزشتہ برس مارچ میں پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کی حمایت سے 57 ووٹ حاصل کیے تھے جب کہ ان کے مدمقابل مسلم لیگ (ن) کے راجا ظفر الحق کو 46 ووٹ ملے تھے۔

حیران کن طور پر 2018 کے سینیٹ انتخابات کے بعد مسلم لیگ ن نے پیپلز پارٹی کے سابق چیئرمین سینیٹ رضا ربانی کو دوبارہ منتخب کرنے کے لیے مدد کی پیشکش کی تھی۔ تاہم، آصف علی زرداری نے اسے قبول کرنے کی بجائے تحریک انصاف سے ہاتھ ملا لیا تھا۔

سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ پیپلز پارٹی نے اسٹیبلشمینٹ کی حمایت حاصل کرنے کے لیے صادق سنجرانی کی بطور چیئرمین سینیٹ حمایت کی تھی۔ تاہم، اب وہ انہیں ہٹا کہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مفاہمت کے راستے جدا ہو گئے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG