رسائی کے لنکس

لاہور میں خواتین کے لیے الگ عدالت قائم


لاہور ہائی کورٹ (فائل فوٹو)

چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے کہا کہ ایسی عدالتیں پورے صوبے میں بنائی جائیں گی جبکہ بچوں سے متعلق معاملات کے لیے بھی الگ کورٹ بنانے پرغور کیا جارہا ہے۔

خواتین کو ہراساں کرنے کے مقدمات ہوں یا خواتین کسی اہم مقدمے میں شہادت قلم بند کرانا چاہیں، ان کے لیے اب الگ عدالت کام کرے گی۔

چیف جسٹں لاہور ہائي کورٹ جسٹس منصور علی شاہ نے پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں خواتین کے لیے الگ عدالت کا افتتاح کردیا ہے۔

منگل کو ہونے والی افتتاحی تقریب سے خطاب میں چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے کہا کہ خواتین پر تشدد ہوتا ہے لیکن اسے سامنے نہيں لايا جاتا۔

انہوں نے کہا کہ اس عدالت کے قیام کا مقصد انہیں مکمل پرائیویسی کے ساتھ قانونی تحفظ فراہم کرنا ہے۔

چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے کہا کہ ایسی عدالتیں پورے صوبے میں بنائی جائیں گی جبکہ بچوں سے متعلق معاملات کے لیے بھی الگ کورٹ بنانے پرغور کیا جارہا ہے۔

مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والي خواتين نے خواتین کے لیے مخصوص عدالت کے قیام کو اپنے ليے بہت فائدہ مند قرار ديا ہے۔

خواتین کہتی ہیں ان کے لیے الگ عدالت سے دوسری عدالتوں پر مقدمات کا دباؤ کم ہو گا اور خواتین کو بھی تحفظ کا احساس ہو گا۔

لاہور کے علاقے گلبرگ کی رہائشی ثمینہ رمضان نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ خواتین پہلے سے زیادہ خود مختار ہورہی ہیں اور الگ عدالت میں وہ نہ صرف اپنے حق کے لیے بات کرسکیں گی بلکہ اپنے خلاف ہونے والی زیادتیوں پر بھی آواز اٹھا سکیں گی۔

لاہور ہی کے علاقے کیولری گراونڈ کی رہائشی عالیہ سلطان نے خواتین کے لیے الگ عدالت کے قیام کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ عام طور پر خواتین پر تشدد ہوتا ہے یا کسی کو ہراساں کیا جاتا ہے تو وہ کسی کو آسانی سے بتا بھی نہیں سکتیں۔

ماہرِ قانون اور لاہور ہائی کورٹ کی سابق جج جسٹس ریٹائرڈ ناصرہ اقبال نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے لاہور ہائی کورٹ کے اس اقدام کو سراہا۔

جسٹس ناصرہ اقبال نے کہا کہ خواتین کی الگ عدالت کے قیام سے انصاف کی فراہمی میں تیزی آئے گی اور خواتین کسی بھی مقدمے میں بلا خوف گواہی دے سکیں گی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG