رسائی کے لنکس

logo-print

ڈاکٹر شاہد مسعود کی ضمانت منسوخ، گرفتاری کے لیے چھاپے


اسلام آباد میں ایف آئی اے کیسز کے لیے قائم عدالت کے اسپیشل جج سینٹرل نے پاکستان ٹیلی ویژن کرپشن کیس میں نجی چینل نیوز ون کے اینکر پرسن اور سابق ایم ڈی پی ٹی وی ڈاکٹر شاہد مسعود کو گرفتار کرنے کا حکم دے دیا۔

پی ٹی وی کرپشن کیس میں اسپیشل سینٹرل جج کامران بشارت مفتی نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد ڈاکٹر شاہد مسعود کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست مسترد کر دی۔

ڈاکٹر شاہد مسعود کیس کا فیصلہ سنائے جانے سے پہلے ہی کمرہ عدالت سے باہر چلے گئے جب کہ عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے ضمانت قبل از گرفتاری خارج کر دی اور اینکر پرسن کو گرفتار کرنے کا حکم دے دیا۔

عدالت میں موجود ایف آئی اے حکام عدالتی فیصلے کے باوجود ڈاکٹ شاہد کو گرفتار کرنے میں ناکام رہے۔

ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر شاہد مسعود کی گرفتاری کے لیے ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں اور چھاپے مارے جارہے ہیں۔

ڈاکٹر شاہد مسعود پر الزام کیا ہے؟َ

ڈاکٹر شاہد مسعود اس وقت پاکستان ٹیلی ویژن میں کرپشن کیس میں ایف آئی اے کو مطلوب ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ بطور چیئرمین پی ٹی وی انہوں نے کروڑوں روپے کی کرپشن کی۔

اینکر پرسن شاہد مسعود کے خلاف مبینہ طور پر 3 کروڑ 80 لاکھ روپے کی بد عنوانی کا الزام ہے۔ ایف آئی اے کے مطابق ڈاکٹر شاہد مسعود نے چیئرمین پی ٹی وی کی حیثیت سے پاکستان کرکٹ بورڈ کے میڈیا رائٹس حاصل کرنے کے لیے ایک جعلی کمپنی سے معاہدہ کیا۔ معاہدہ کے بعد مشکوک انداز میں کمپنی کو ادائیگی کر دی گئی جس کا وجود ہی نہ تھا۔

ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ اس معاہدہ میں ڈاکٹر شاہد مسعود کا کردار تھا اور انہی کے احکامات پر یہ معاہدہ کیا گیا اور اس کی رقم بھی انہوں نے حاصل کی جبکہ اس معاہدے کی وجہ سے پاکستان ٹیلی وژن کو کروڑوں کا نقصان اٹھانا پڑا۔

اس کیس میں ایف آئی اے کے تفتیشی افسر کاشف ریاض اعوان کی درخواست پر جون میں ان کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے لیکن بعد ازاں عدالت میں پیش ہونے پر انہیں عبوری ضمانت دی گئی تھی۔

تفتیشی افسر کا کہنا ہے کہ شاہد مسعود کو متعدد مرتبہ تحقیقات میں شامل ہونے کے لیے کہا گیا تھا تاہم وہ جان بوجھ کر گریز کرتے رہے۔ ایف آئی اے کے مطابق ڈاکٹر شاہد مسعود کی گرفتاری کے لئے اس کے پاس ٹھوس ثبوت موجود ہیں۔

شاہد مسعود اینکر کیسے بنے

ڈاکٹر شاہد مسعود زمانه طالب علمی میں پیپلز پارٹی کی طلبہ تنظیم پیپلز اسٹوڈنٹ فیڈرشین میں شامل رہے۔ 1999 میں نواز شریف کی حکومت کے خاتمے کے بعد خود ساختہ جلا وطنی اختیار کی اور برطانیہ میں سیاسی پناہ گزین کی حیثیت سے رہے۔ 2001 میں اے آر وائی ٹی وی نیٹ ورک کے شوز میں مہمان کی حیثیت سے آنے لگے اور اسی دوران پروگرام کے میزبان بن گئے۔

سیاسی پناہ کے دوران وہ حکومت پاکستان پر بھرپور تنقید کرتے رہے جو مشرف دور میں ان کی شہرت میں اضافے کا باعث بنی۔

پاکستان آ کر وہ کچھ عرصہ جیو ٹی وی کے ساتھ بھی منسلک رہے اور سابق صدر زرداری کے دور میں پاکستان ٹیلی ویژن کے ایم ڈی بن گئے۔ کئی ٹی وی چینلز میں گھومنے کے بعد آج کل نیوز ون سے منسلک ہیں۔

کچھ عرصہ قبل ڈاکٹر شاہد مسعود کو اس وقت شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا جب زینب قتل کیس کے مجرم عمران کے حوالے سے انہوں نے خبر دی کہ اس کا تعلق ایک بین الاقوامی نیٹ ورک سے ہے جو بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کی فلمیں بناتا ہے۔ انہوں نے اپنے شو میں عمران کے بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات بھی دیں۔ سپریم کورٹ نے اس معاملہ پر ازخود نوٹس لیا لیکن تحقیقات کے بعد ان کے تمام دعوے جھوٹے ثابت ہوئے، جس پر عدالت نے ان پر پابندی لگاتے ہوئے تین ماہ کے لیے شو کرنے سے روک دیا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG