رسائی کے لنکس

logo-print

نیشنل ایکشن پلان عمل درآمد رپورٹ: پنجاب میں شدت پسندی میں اضافے کی نشاندہی


فائل فوٹو

نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد سے متعلق جاری رپورٹ کے مطابق پاکستان میں دہشت گردی اور فرقہ وارانہ واقعات میں نمایاں کمی آئی ہے تاہم پنجاب میں شدت پسندی کے رجحانات میں اضافہ ہوا ہے۔

وفاقی حکومت نے نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد سے متعلق جاری رپورٹ میں بتایا ہے کہ شدت پسندی، فرقہ وارانہ اور سنگین نوعیت کے واقعات میں نمایاں کمی آئی ہے جبکہ ٹارگٹ کلنگ کے واقعات بھی کم ہوئے ہیں۔

خیال رہے کہ دسمبر 2014 میں پشاور کے آرمی پبلک اسکول (اے پی ایس) پر حملے کے بعد سیاسی و عسکری قیادت نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے 20 نکات پر مشتمل نیشنل ایکشن پلان ترتیب دیا تھا۔

پاکستان میں حزب اختلاف اور بعض مذہبی جماعتیں موجودہ حکومت پر تنقید کرتی ہیں کہ نیشنل ایکشن پلان پر مکمل اور صحیح طریقے سے عمل درآمد نہیں کیا جا رہا۔

نیشنل ایکشن پلان کی عمل درآمد رپورٹ کے مطابق ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں دہشت گردی کے واقعات اور جرائم میں نمایاں کمی آئی ہے جبکہ امن و امان کی صورت حال میں بھی واضح بہتری ہوئی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2019 میں کراچی میں دہشت گردی کے 55 واقعات ہوئے جبکہ 290 افراد کی ٹارگٹ کلنگ کی گئی۔ بھتہ خوری کے 503 مقدمات درج کیے گئے جبکہ 5185 افراد کو ان جرائم میں سزائیں بھی ہوئی۔

بلوچستان کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2000 سے زائد فراریوں نے ہتھیار ڈال کر خود کو قومی دھارے میں شامل کیا جبکہ صوبے میں ترقیاتی کاموں کے ساتھ ساتھ ناراض بلوچ رہنماؤں سے بات چیت کا عمل جاری ہے۔

پنجاب میں امن و امان میں بہتری بتاتے ہوئے رپورٹ میں شدت پسندی میں اضافہ کے رجحان کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت 71 تنظیموں کو کالعدم قرار دیا گیا ہے جبکہ چار کو نگرانی کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔

یہ بھی بتایا گیا ہے کہ حکومت نے ان کالعدم تنظیموں کو نئے ناموں سے کام نہ کرنے کے لیے اقدامات کیے ہیں جبکہ ان کی مسلسل نگرانی بھی کی جارہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق دینی مدارس کی رجسٹریشن کا عمل جاری ہے جبکہ ملک بھر کے 35ہزار سے زائد مدارس میں سے 21 ہزار 900 کی رجسٹریشن ہوچکی ہے۔

سندھ کی 80 فی صد، خیبر پختونخوا کے 75 فی صد، بلوچستان کے 60 اور فاٹا کے 85 فیصد مدارس رجسٹر کر لیے گئے ہیں۔

نیشنل ایکشن پلان کے اقدامات کے نتیجے میں ملک میں فرقہ وارانہ واقعات میں واضع کمی دیکھی گئی ہے۔ 2012 میں فرقہ واریت کے 185 واقعات ہوئے تھے جن میں بتدریج کمی ہوئی اور 2018 میں صرف 11 واقعات ہوئے۔

رپورٹ کے مطابق سانحہ اے پی ایس کے بعد دہشت گردی اور ان کی سہولت کاری میں ملوث 486 افراد کو سزائیں بھی دی گئی ہیں جن میں سے 56 دہشت گردوں کو فوجی عدالتوں کے فیصلے کے تحت پھانسی کی سزا ہوئی ہے۔

خیال رہے کہ نیشنل ایکشن پلان کے نتیجے میں آئینی ترمیم کے ذریعے دہشت گردی کے مقدمات سننے کے لیے خصوصی فوجی عدالتیں قائم کی گئی تھیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت دہشت گردوں کے خلاف 2 لاکھ 49 ہزار 909 آپریشنز کیے گیے ہیں جن میں 2268 ملزمان کی ہلاکت ہوئی جبکہ 3800 افراد گرفتار کیے گئے۔

سکیورٹی اداروں نے نیشنل ایکشن پلان کے تحت ملک میں نفرت پھیلانے والوں کے خلاف بھی سخت کارروائی کی ہے اور اس میں ملوث 3500 افراد کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق لاؤڈ اسپیکر ایکٹ کی خلاف ورزی پر 34 ہزار سے زائد گرفتاریاں ہوئیں۔

سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مواد پر مبنی 1600 لنکس بلاک کیے گئے جبکہ 14500 شکایات متعلقہ اداروں کو بھیجی گئیں۔

'حکومت کی رپورٹ میں تضاد پایا جاتا ہے'

لیفٹیننٹ جنرل (ر) امجد شعیب کہتے ہیں کہ حکومت کی اس رپورٹ میں تضاد پایا جاتا ہے۔ یہ رپورٹ ایک طرف کہہ رہی ہے کہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کے واقعات میں کمی آئی ہے جبکہ دوسری طرف کہتی ہے کہ پنجاب میں شدت پسندی میں اضافہ ہوا ہے۔

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے لیفٹیننٹ جنرل (ر) امجد شعیب کا کہنا تھا کہ نیشنل ایکشن پلان کے بہت سے پہلوؤں پر قابل اطمینان عمل درآمد ہوا ہے اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کے تدارک، مدارس اصلاحات سمیت ضرب عضب اور سرچ آپریشن کیے گئے۔ تاہم ان کا ماننا ہے کہ افغانستان میں استحکام تک پاکستان میں مکمل طور پر امن قائم نہیں ہو سکتا۔

'20 نکاتی پلان پر خاطر خواہ عمل درآمد نہیں کیا گیا'

نیشنل ایکشن پلان کو ترتیب دینے والی کمیٹی کے رکن سینیٹر افراسیاب خٹک کہتے ہیں کہ اس 20 نکاتی پلان پر فوجی عدالتوں کے علاوہ خاطر خواہ عمل درآمد نہیں کیا گیا۔

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ نصاب سے نفرت انگیز مواد کو نکالے جانے پر عمل درآمد ہوا، نہ ہی انسداد دہشت گردی کے حوالے سکیورٹی اداروں کے درمیان ہم آہنگی کے لیے نیکٹا کو فعال کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ کالعدم تنظیمیں نہ صرف نئے ناموں سے کام کر رہی ہیں بلکہ انہیں گذشتہ انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت بھی دی گئی۔

سینیٹر افراسیاب خٹک کے مطابق نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد تسلی بخش نہیں ہوا، نہ ہی حکومت اس میں سنجیدہ دیکھائی دیتی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG