رسائی کے لنکس

پشاور: سکھ حکیم کو مذہبی منافرت کی بنیاد پر قتل کیا گیا، اہلِ خانہ کا الزام


پشاور میں سکھ حکیم کا قتل: سکھ برادری عدم تحفظ کا شکار

خیبر پختونخوا کے مرکزی شہر پشاور کے مصروف ترین علاقے فقیر آباد میں جمعرات کی سہ پہر نامعلوم مسلح ملزمان نے ایک سکھ حکیم کو ان کے دواخانے میں گھس کر فائرنگ کر کے قتل کر دیا۔

سکھ حکیم کو دکان نما کلینک کے اندر قتل کرنے کے اس واقعے کے بعد پشاور اور خیبر پختونخوا کے دیگر علاقوں میں رہائش پذیر سکھ برادری کے افراد تشویش کا شکار ہیں۔

سکھ برادری کے رہنما سردار گورپال سنگھ نے انسپکٹر جنرل پولیس کے ساتھ رابطہ کر کے ان سے سیکیورٹی فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

حکیم سردار ستنام کے قتل کا مقدمہ فقیر آباد پولیس تھانے میں درج کر دیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق واردات میں نائن ایم ایم پستول کا استعمال کیا گیا ہے تاہم جائے وقوعہ سے گولیوں کے خول اکٹھے کر کے تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔

پولیس عہدیداروں نے ذرائع ابلاغ کو بتایا ہے کہ تفتیشی ٹیم نے جائے وقوعہ کے ارد گرد لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج حاصل کرلی ہے جس کی مدد سے ملزمان کی نشاندہی اور سراغ لگانے کا کام جاری ہے۔

حکیم سردار ستنام سنگھ
حکیم سردار ستنام سنگھ

حکام کے مطابق واردات کے فوراً بعد تمام ناکہ بندیوں اور پٹرولنگ پولیس کے ذریعے مشکوک افراد کی کڑی نگرانی بھی شروع کر دی گئی ہے۔

مقتول حکیم سردار ستنام سنگھ کی آخری رسومات جمعے کو اٹک میں دریائے سندھ کے کنارے قائم شمشان گھاٹ میں ادا کی جائے گی۔

دوسری جانب سوشل میڈیا پر داعش خراسان نے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں حکیم سردار ستنام سنگھ کے قتل کی ذمہ داری قبول کی گئی ہے۔

مقتول کے اہلِ خانہ کا مؤقف

مقتول سکھ حکیم کے بھائی سردار من موہن سنگھ نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کے ساتھ بات چیت میں کہا ہے کہ ان کی کسی کے ساتھ کوئی دشمنی یا لین دین پر کسی قسم کا کوئی تنازع نہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کے بھائی کا قتل مذہبی منافرت کی واردات ہے۔

سردار من موہن سنگھ کے بقول ان کے بھائی تعلیم یافتہ تھے اور علمِ طب میں گولڈ میڈلسٹ تھے۔

سردار من موہن سنگھ نے بتایا کہ ستنام سنگھ حسن ابدال میں رہائش پذیر تھے جو ہفتے میں ایک یا دو دن پشاور میں اپنے کلینک پر آتے تھے۔

انہوں نے کہا ہے کہ وہ انصاف کے طلب گار ہیں، ان کے ساتھ بہت ظلم ہوا ہے۔

پشاور میں سکھ برادری کے رہنما سردار گورپال نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ سردار ستنام سنگھ کا شمار ملک کے منجھے ہوئے حکیموں کی فہرست میں ہوا کرتا تھا اور وہ پیر کی صبح پشاور آتے تھے اور جمعرات کی شام واپس حسن ابدال جاتے تھے۔

ان کے بقول جمعرات کو ستنام سنگھ حسن ابدال جانے کی تیاری کر رہے تھے کہ نامعلوم افراد نے ان کے کلینک میں گھس کر انہیں قتل کر دیا۔

سردار ستنام سنگھ کے قتل کے بعد پشاور شہر کے وسطی علاقے محلہ جوگن شاہ میں واقع سکھ برادری گوردوارے میں شہر اور صوبے کے دیگر علاقوں سے سکھ کمیونٹی کے رہنماؤں سمیت حکومتی شخصیات نے تعزیت کے لیے ان کے لواحقین سے ملاقات کی۔

پشاور میں سکھوں کے قتل کا پس منظر

حکیم سردار ستنام سنگھ سے قبل پشاور میں 10 سکھوں کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا جا چکا ہے۔

آخری بار تیس مئی 2018 کو سکھ برادری کے انتہائی متحرک اور مقبول رہنما سردار چرن جیت سنگھ کو بھی نامعلوم افراد نے کوہاٹ روڈ پر واقع ان کی دکان میں گولیاں مار کر قتل کر دیا تھا۔

آئی جی خیبرپختونخوا کی پشاور میں سکھ رہنماؤں سے ملاقات۔
آئی جی خیبرپختونخوا کی پشاور میں سکھ رہنماؤں سے ملاقات۔

سکھ برادری کے رہنما رادیش سنگھ ٹونی نے حکیم ستنام کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے قاتلوں کی گرفتاری اور انہیں سخت سزا دلوانے کا مطالبہ کیا۔

خیبر پختونخوا کے انسپکٹر جنرل پولیس آصف معظم جاہ نے دیگر اعلیٰ پولیس عہدیداروں کے ہمراہ جمعرات کی شب محلہ جوگن شاہ کے سکھ گوردوارے جاکر متاثرہ خاندان کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا اور انہیں قاتلوں کی فوری گرفتاری کا یقین دلایا۔

اس موقع پر سکھ برادری کے رہنماوں سردار گوپال سنگھ اور ڈاکٹر صاحب سنگھ کے ساتھ بات چیت کی۔

سردار گوپال سنگھ نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ آئی جی پولیس نے انہیں اس واقع میں ملوث ملزمان کی جلد گرفتاری اور انہیں کیفرِ کردار تک پہنچانے کا یقین دلایا ہے۔

وزیرِ اعلیٰ کا اظہارِ مذمت

وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے حکیم ستنام سنگھ کے قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے پولیس کو ملزمان کی فوری گرفتاری کی ہدایت کی ہے۔

وزیرِ اعلیٰ نے اپنے ایک بیان میں متاثرہ خاندان سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ متاثرہ خاندان کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG