رسائی کے لنکس

logo-print

ڈیم پانی سے بھرا جائے گا یا ہوا سے؟ وزیر اعلیٰ سندھ


مراد علی شاہ، وزیر اعلیٰ سندھ

سندھ کے وزیر اعلیٰ نے ایک بار پھر الزام عائد کیا ہے کہ وفاقی حکومت پانی کی تقسیم کے معاملے پر سندھ حکومت سے زیادتی کر رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک جانب صوبے کو پانی کی غیرمنصفانہ تقسیم سے نقصان پہنچایا جارہا ہے تو دوسری جانب ڈیم کی تعمیر کے اعلانات کئے جارہے ہیں۔

وزیر اعلیٰ نے سوال اٹھایا ہے کہ ’ڈیم پانی سے بھرا جائے گا یا ہوا سے؟ سندھ کی صوبائی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں کہا کہ اصول یہ ہے کہ جب پانی کی ضرورت ہو تو ڈیم میں پانی نہیں بھرا جاتا، لیکن ہمارے لیے الٹا اصول ہے۔ جب پانی نہیں ہوتا تو صوبے کے پانی میں کٹوتی کر دی جاتی ہے اور سیلاب آنے پر اضافی پانی چھوڑ دیا جاتا ہے۔

وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ گزشتہ سال کوٹری ڈاؤن اسٹریم سے محض 2 ملین ایکڑ فٹ پانی سمندر میں ڈالا گیا لیکن پانی کی تقسیم کے معاہدے کے تحت یہ تقریباً 10 ملین ایکڑ فٹ ہونا چاہئے تھا۔ سمندر میں کم پانی جانے سے سمندر صوبے کی زمینوں کو نگل رہا ہے اور اب تک ہزاروں ایکڑ زمین سمندر برد ہو چکی ہے۔

وزیراعلیٰ نے پرویز مشرف دور میں تعمیر ہونے والے گریٹر تھل کینال پر بھی تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ اس اسکیم کو انگریز حکومت نے دو بار یہ کہہ کر رد کردیا تھا کہ اس سے صوبہ سندھ میں پانی کی کمی ہو جائے گی لیکن بدقسمتی سے بعد میں ڈکٹیٹر نے تھل کینال کو چند لوگوں کے فائدے کے لئے تعمیر کروا دیا۔

وزیر اعلیٰ سندھ نے بھارت اور پاکستان کے درمیان 1960 میں ہونے والے سندھ طاس معاہدے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ معاہدے کے تحت تین دریا بھارت کو دے دیئے گئے۔ دریا بیچ کر نہروں سے سندھ کا پانی چوری کیا گیا۔ ملک میں پانی نہیں ہے تو ڈیم بنا کر اسے کیسے بھرا جائے گا؟

وزیر اعلیٰ سندھ کے مطابق پانی کی کمی کا حل نئے ڈیم نہیں بلکہ پانی کی بچت ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ وفاق نے ملک کو دو حصوں میں تقسیم کردیا ہے۔ جب منگلا ڈیم میں پانی بھرا جاتا ہے تو زیریں سندھ میں پانی نہیں ملتا۔ سندھ کو 1991 کے معاہدے کے تحت پانی فراہم نہیں کیا جارہا ہے۔

دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے رہنما صوبے کے ساتھ زیادتی اور ناانصافی کی کسی بھی پالیسی کی نفی کرتے نظر آتے ہیں۔ سندھ اسمبلی میں تحریک انصاف کے پارلیمانی لیڈر حلیم عادل شیخ کا کہنا ہے کہ صوبے میں پانی کی کمی کا مسئلہ تو موجود ہے لیکن اس کے حل کے لئے صوبائی حکومت کو پانی کی منصفانہ تقسیم کرنا چائیے۔ ان کے مطابق تحریک انصاف کی حکومت کوئی ایسا ڈیم تعمیر نہیں کرے گی جس پر تمام صوبے متفق نہ ہوں۔

سندھ کی جانب سے وفاق پر صوبے میں پانی کم فراہمی کے الزامات نئے نہیں۔ پیپلز پارٹی کی حکومت نئے ڈیمز کی تعمیر کی کھل کر مخالف کرتی چلی آئی ہے۔ پارٹی قائدین کئی بار یہ موقف اختیار کر چکے ہیں کہ نئے ڈیموں کی تعمیر سے پانی کی کمی کا مسئلہ حل نہیں ہو گا بلکہ اس سے سندھ میں پانی کا بحران مزید شدت اختیار کرے گا۔ ان کے مطابق پانی کی کمی کو بچت اور کفایت شعاری کی پالیسی ہی سے کم کیا جا سکتا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG