رسائی کے لنکس

logo-print

سندھ حکومت کو کسی بھی کیس کو ختم کرنے کا اختیار مل گیا


قانون میں ترمیم کے بعد حکومت کسی بھی ملزم کو رہا ک رسکتی ہے، دوم ریاست کو انسداد دہشت گردی سمیت تمام عدالتوں میں زیر سماعت مقدمہ ختم کرنے کا اختیار حاصل ہوگا، سوم پراسیکیوٹر جنرل یا پبلک پراسیکیوٹر مقدمہ ختم کرنے سے متعلق رپورٹ عدالت میں جمع کرائے گا اور چہارم اور آخری۔۔

سندھ اسمبلی میں شدید ہنگامہ آرائی، شور شرابے اور ارکان کی ایک دوسرے پر شدید تنقید کے درمیان ’کریمنل پراسیکیوشن سروس‘ کا ’ترمیمی بل 2015ء‘ کثرت رائے سے منظور ہوگیا۔ اس بل کی بدولت ریاست کو کسی بھی کیس کو ختم کرنے کا صوابدیدی اختیار مل گیا ہے۔

بل صوبائی حکمراں جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما نثار کُھہڑو نے پیش کیا۔ بل کے متن میں کہا گیا ہے کہ:

اول، قانون میں ترمیم کے بعد حکومت کسی بھی ملزم کو رہا کرسکتی ہے، دوم ریاست کو انسداد دہشت گردی سمیت تمام عدالتوں میں زیر سماعت مقدمہ ختم کرنے کا اختیار حاصل ہوگا، سوم پراسیکیوٹر جنرل یا پبلک پراسیکیوٹر مقدمہ ختم کرنے سے متعلق رپورٹ عدالت میں جمع کرائے گا اور چہارم اور آخری۔۔ ریاست کو قانون نافذ کرنے والے کسی بھی ادارے سے، کسی بھی کیس کی تفتیشی رپورٹ حاصل کرنے کا اختیار حاصل ہوگا۔

مچھلی بازار کا منظر
بل کثرت رائے سے منظور ہونے کے باوجود اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے سخت تنقید کا باعث بنا۔ سندھ اسمبلی میں حکمراں جماعت کی سب سے مخالف جماعت ایم کیو ایم ہے جس کے رہنما خواجہ اظہار الحسن کا کہنا ہے کہ ’بل منظور کرکے حکومت نے اپنی اجارہ داری قائم کی ہے‘، اور بقول اُن کے، ’صوبائی حکومت بل کے ذریعے بدعنوانی کو چھپانا اور ملزمان کو رہا کرانا چاہتی ہے‘۔

ایوان میں دوسری مخالف جماعت مسلم لیگ فنکشنل کی رہنما، نصرت سحر عباسی نے اپنے بیان میں براہ راست سابق صدر اور پی پی پی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کو آڑے ہاتھوں لیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’جس طرح، پہلے اپنے مفادات کے لئے کالے قانون پاس کرائے جاتے رہے ہیں، اسی طرح آج بھی یہ قانون پاس کرایا گیا، یہ لوگ اسمبلی نہیں اوطاق چلا رہے ہیں‘۔

احتجاج کے دوران، حزب اختلاف کے ارکان نے بل کی کاپیاں بھی پھاڑ دیں، جبکہ اس تمام کارروائی کے دوران، ایوان مچھلی بازار بنا رہا۔ حکومتی بنچ نے شور شرابے کے دوران ہی کریمنل پراسیکیوشن ترمیمی بل کثرت رائے سے منظور کرلیا۔

اس دوران، ایم کیو ایم کے اراکین سیٹوں پر کھڑے ہوگئے اور احتجاج کیا۔ ڈپٹی اسپیکر شہلا رضا کے روکنے کے باوجود بھی اراکین اپنی نشستوں پر نہ بیٹھے اور شور شرابا کرتے رہے۔

اس دوران ڈپٹی اسپیکر شہلا رضا اور ایم کیوایم کی رکن ہیر اسماعیل سوہو اور فنکشنل لیگ کی رکن نصرت سحر عباسی کے درمیان تند و تیز جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔

XS
SM
MD
LG