رسائی کے لنکس

logo-print

عدالتی معاملات میں ایجنسیوں کی مبینہ مداخلت کی تحقیقات کا مطالبہ


اسلام آباد میں لاپتا افراد کے رشتے داروں کا احتجاجی مظاہرہ۔ فائل فوٹو

سندھ بار کونسل نے ملک کی مختلف بار کونسلز کی منعقدہ ایک تقریب میں متفقہ طور پر ایک قرار داد منظور کی ہے جس میں عدلیہ کی آزادی اور عدالتی معاملات میں انٹیلی جینس اداروں کی مداخلت پر سوال اٹھایا گیا ہے۔

سندھ بار کونسل کی طرف سے جاری قرارداد کے مطابق مہذب معاشرے کی بنیاد قانون کی حکمرانی اور آزاد عدلیہ ہے۔ بار کے معزز ارکان نے اس مقصد کے لیے اپنی جانوں کی قرباني دی ہے اور آئندہ بھی اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

قراداد میں کہا گیا ہے کہ بالخصوص سیاسی مقدمات میں انٹیلی جینس اداروں کی طرف سے مختلف فیصلوں اور مقدمات کی کاز لسٹ بنانے میں مداخلت کے الزامات اعلیٰ عدلیہ سے متعلق بار اور بینچ کے لیے بہت تشویش ناک اور پریشان کن ہیں۔

ماضی کے تناظر میں جب عدلیہ اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے تعلق کو دیکھا جائے تو ایسے الزامات اور ایسی رپورٹس عدلیہ اور مسلح افواج کے آئینی کردار پر شک کو جنم دیتی ہیں۔ اس صورت حال میں ضروری ہے کہ ایسے الزامات کی جانچ پڑتال کے لیے سپریم کورٹ کا فل بینچ تشکیل دے کر تحقیقات کی جائیں جس میں وفاقی اور صوبائی بار ایسوسی ایشن کے ممبران بھی شریک ہوں۔

قرار داد میں بار کا کہنا ہے کہ تمام اختیارات اور طاقت ایک شخص کے پاس ہونے سے اختیارات اور طاقت کے غلط استعمال کے الزامات لگائے جا سکتے ہیں۔ لہذا سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اور ہائی کورٹس کے چیف جسٹسز کے اختیارات کو تحليل کیا جائے اور روسٹر کی تشکیل اور کیسز ججوں کو دینے کے لیے متعلقہ عدالتوں کے چار سینیر ججوں پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی جائے۔

سندھ بار کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سانحہ کوئٹہ سے متعلق رپورٹ پر کوئی ایکشن نہیں لیا گیا جس میں ستر وکلا ہلاک ہو گئے تھے، جبکہ کراچی 12 مئی کے سانحہ پر بھی سپریم کورٹ نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کردار سے متعلق کوئی تحقیقات نہیں کیں۔ اسی طرح لاپتا افراد کے مقدمات اور سابق صدر جنرل پرویز مشرف کے خلاف کیسز کی سماعت بہت زیادہ وقت لیا جا رہا ہے۔

فیض آباد دھرنا جیسے واقعات سے عدلیہ کے بارے میں عوام میں منفی تاثر ابھر رہا ہے اور عوام میں یہ تاثر جا رہا ہے کہ عدلیہ آزاد نہیں اور مخصوص حلقوں کے دباؤ میں کام کررہی ہے۔ اس حوالے سے اعلیٰ عدلیہ کو اس منفی تاثر سے نمٹنے کے لیے ٹھوس اقدامات اور ان مقدمات کی تیزی سے سماعت کرنے کی ضرورت ہے۔

سندھ بار کی اس قرار داد میں سندھ بار کونسل کے وائس چیئرمین صلاح الدین گنڈاپور،صدر ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن سلیم منگریو، صدر کراچی بار سید حیدر امام رضوی، اختر حسین چیئرمین اپیل کمیٹی سندھ پاکستان بار کونسل اور پروفیسر فرید احمد ڈیو وائس چیئرمین سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے نام شامل ہیں۔

تقریب میں شریک راول پنڈی کے وکیل کرنل(ر) انعام الرحیم ایڈوکیٹ نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کے لیے ضروری ہے کہ عدلیہ کی آزادی کو برقرار رکھا جائے۔ جسٹس شوکت عزيز صدیقی نے اعلیٰ عدلیہ کو تحریری طور پر آگاہ کیا کہ مداخلت کی جارہی ہے لیکن اس پر اب تک کوئی ایکشن نہیں لیا گیا، لہٰذا ضروری ہے کہ فل کورٹ کا اجلاس بلایا جائے جس میں سینیر وکلاء کے ساتھ ساتھ سول سوسائٹی اور میڈیا کے نمائندے بھی شریک ہوں۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت عدلیہ کی آزادی کے ساتھ ساتھ میڈیا کی آزادی بھی داؤ پر لگی ہوئی ہے۔ اس آزادی کو یقینی بنانا ضروری ہے کیونکہ کوئی بھی جمہوری معاشرہ میڈیا کی آزادی کے بغیر کامیابی سے ہمکنار نہیں ہو سکتا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG