رسائی کے لنکس

کیا نئے ایڈمنسٹریٹر اور پیپلز پارٹی کے رہنما مرتضیٰ وہاب کراچی کے مسائل حل کر سکیں گے؟


مرتضیٰ وہاب پاکستان کی ایوانِ بالا کے رکن (سینیٹر) بھی رہ چکے ہیں۔ علاوہ ازیں وہ اینٹی کرپشن اینڈ اسٹیبلشمنٹ، اطلاعات، ماحولیات، قانون اور پارلیمانی امور سے متعلق وزیرِ اعلیٰ سندھ کے مشیر رہے ہیں۔ (فائل فوٹو)

وزیرِ اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کابینہ کے فیصلے کی روشنی میں بیرسٹر مرتضیٰ وہاب کو ملک کے سب سے بڑے شہر اور صوبائی دارالحکومت کراچی کی بلدیہ عظمیٰ کا ایڈمنسٹریٹر مقرر کر دیا ہے۔

کراچی کے ایڈمنسٹریٹر کے طور پر مرتضیٰ وہاب کے تقرر کے علاوہ وزیر اعلیٰ سندھ نے شہر کے ساتوں اضلاع کے لیے معاونینِ خصوصی بھی مقرر کیے ہیں۔

مرتضیٰ وہاب پاکستان کی ایوانِ بالا کے رکن (سینیٹر) بھی رہ چکے ہیں۔ علاوہ ازیں وہ اینٹی کرپشن اینڈ اسٹیبلشمنٹ، اطلاعات، ماحولیات، قانون اور پارلیمانی امور سے متعلق وزیرِ اعلیٰ سندھ کے مشیر رہے ہیں۔

ترجمان وزیرِ اعلیٰ سندھ کے بیان کے مطابق وہ پیپلز پارٹی کے نوجوان اور متحرک رہنما ہونے کے ساتھ تجربہ کار بھی ہیں۔

ادھر مرتضیٰ وہاب نے ایڈمنسٹریٹر کراچی کے عہدے پر تقرر پر اپنی جماعت کے رہنماؤں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اسے اپنے لیے اور اپنے خاندان کے لیے اعزاز قرار دیا ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ وزیرِ اعلیٰ سندھ کے کراچی سے متعلق ان فیصلوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ صوبے میں برسرِ اقتدار پیپلز پارٹی اب کراچی پر بھر پور توجہ دینا چاہتی ہے۔

پیپلز پارٹی قائدین مرتضیٰ وہاب کو ’فرزندِ کراچی‘ کہہ رہے ہیں اور ان کے تقرر کے فیصلے کو کراچی کے لیے ایک بہتر اقدام بھی بتا رہے ہیں۔

وفاق میں برسر اقتدار اور کراچی سے قومی و صوبائی اسمبلی کی سب سے زیادہ نشسیتں رکھنے والی جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور اس کی اتحادی متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) نے فیصلے کی کھل کر مخالفت کی ہے۔

دونوں جماعتوں نے اسے انتظامی عہدے پر سیاسی تقرری قرار دیا ہے۔

کامیابی کا دار و مدار صوبائی حکومت پر

معروف صحافی اور مبصر مجاہد بریلوی کے خیال میں مرتضیٰ وہاب ایک نوجوان اور مستعد سیاسی کارکن کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ جب کہ ان کی والدہ بھی فعال سیاست دان تھیں اور انہیں یہ وراثت اپنے خاندان سے ہی ملی یے۔ البتہ ابھی یہ دیکھنا باقی ہے کہ وہ بطور ایڈمنسٹریٹر کیا کارکردگی دکھاتے ہیں۔

مجاہد بریلوی کا کہنا تھا کہ ان کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہے کہ انہیں صوبائی حکومت کس طرح کی حمایت دیتی ہے اور انہیں کراچی کے مسائل حل کرنے کے لیے کتنے وسائل فراہم کیے جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس عہدے کے لیے پیپلز پارٹی نے سوچ سمجھ کر فیصلہ کیا ہوگا۔ اگر وہ کارکردگی دکھا پائے تو اس کا فائدہ پیپلز پارٹی کو ہی ہو گا جب کہ ناکامی کی صورت میں نقصان بھی ان کی جماعت کا ہوگا۔

سب سے بڑا چیلنج

مجاہد بریلوی کا کہنا ہے کہ مرتضی وہاب کے لیے سب سے بڑا امتحان کراچی میٹرو پولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) میں اصلاحات اور گھوسٹ ملازمین سے نجات ہے۔ اس آزمائش پر پورا اترنے کے لیے انہیں انتھک محنت کرنا ہوگی۔

ان کا کہنا ہے کہ اس ادارے کو ایک بار پھر مالی طور پر مستحکم کرنا اور اس کے ملازمین سے کام لینا ہوگا۔ جو واقعی اس کا حصہ ہیں۔ دیکھنا یہ ہوگا کہ وہ اس بارے میں آنے والے سیاسی دباؤ کا کس طرح سامنا کرتے ہیں۔ کیوں کہ ان دو شعبوں میں سدھار کے بغیر کے ایم سی کو فعال نہیں بنایا جا سکتا۔

'سیاسی ایڈمنسٹریٹر کی کامیابی کے امکانات زیادہ ہیں'

دوسری جانب سابق ایڈمنسٹریٹر کراچی اور کئی اہم انتظامی عہدوں پر تعینات رہنے کے بعد حال ہی میں ریٹائر ہونے والے ایک اعلیٰ سرکاری افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ بیورو کریسی کے مقابلے میں سیاسی ایڈمنسٹریٹر کی کامیابی کے امکانات کافی زیادہ ہوتے ہیں۔

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان حالات میں جہاں خوف کا عالم ہو اور سر پر قومی احتساب بیورو (نیب) کی تلوار لٹک رہی ہو، بیورو کریسی سے تعلق رکھنے والا ایڈمنسٹریٹر کسی ایسے فیصلے کی جرات نہیں کرے گا جس میں واضح تحریری ہدایات موجود نہ ہوں۔ بلکہ وہ صرف وقت گزارے گا۔

وہ کہتے ہیں کہ دوسری جانب سیاسی ایڈمنسٹریٹر کے پیچھے سیاسی جماعت ہوتی ہے جو کھل کر فیصلے کر سکتی ہے اور اگر وہی جماعت صوبے میں بھی برسر اقتدار ہو تو ایسی صورت میں بیورو کریسی کی رکاوٹیں زیادہ دیر حائل نہیں رہتیں اور انتظامی امور میں تیزی آجاتی ہے۔

'یہ بھی اہم ہے کہ اختیار کسے دیا جا رہا ہے'

ان اعلیٰ سیاسی افسر کے مطابق اس وقت مرتضی وہاب کے سامنے سب سے بڑا مسئلہ تو یہ ہوگا کہ کراچی میں کام کرنے والے سرکاری اداروں میں یونٹی آف کمانڈ موجود نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کراچی میں کے ایم سی الگ طریقے سے کام کر رہی ہے جب کہ ڈسٹرکٹ میونسپل کارپوریشنز کا دائرہ کار الگ ہے اور وہ براہِ راست صوبائی محکمۂ بلدیات کو جواب دہ ہیں۔ اسی طرح کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ بھی ایڈمنسٹریٹر کراچی کو قانونی طور پر جواب دہ نہیں ہے۔ جب کہ کراچی ڈویلپمنٹ اتھارٹی (کے ڈی اے)، لیاری ڈویلپمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی اے) اور ملیر ڈویلپمنٹ اتھارٹی (ایم ڈی اے) بھی صوبائی محکمۂ بلدیات کے ماتحت ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اسی طرح کمشنر کراچی بھی کسی طور پر ایڈمنسٹریٹر بلدیہ عظمیٰ کراچی کو جواب دہ نہیں اور تو اور سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اتھارٹی کے بورڈ کے سربراہ وزیرِ اعلی سندھ ہیں۔ اس ادارے کا اپنا ہی کام کا طریقۂ کار ہے۔ جب کہ سونے پہ سہاگہ یہ کہ چھ کنٹونمنٹ بورڈز، ریلوے پاکستان، کراچی پورٹ ٹرسٹ اور دیگر وفاقی اداروں کی الگ حدود اور حتیٰ کہ قوانین بھی مختلف ہیں۔

ان کے نزدیک اداروں میں یونٹی آف کمانڈ نہ ہونے کی وجہ سے اکیلے ایڈمنسٹریٹر کے لیے بہت سے مسائل حل کرنا اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اس کے پیچھے سیاسی حمایت نہ ہو۔

مرتضیٰ وہاب کی کامیابی کی راہ میں روڑے اٹکانے کا اندیشہ

سابق بیوروکریٹ کے مطابق ان انتظامی مسائل پر قابو پانا بھی اس قدر دشوار نہیں اگر حقیقت میں اس کے لیے نیت موجود ہو۔ لیکن دوسرا مسئلہ زیادہ گھمبیر ہے اور وہ یہ دیکھنا ہے کہ کیا شہر کے مسائل کے حل کے لیے عزم، ارادہ اور صحیح معنوں میں کوشش کرنے والی شخصیت کو یہ ذمے داری اختیار کے ساتھ دی بھی گئی ہے یا نہیں؟

ان کا کہنا ہے کہ اگر ایسا ہے تو موجودہ سیٹ اپ اسی کامیابی کے ساتھ چلایا جاسکے گا جیسے سابق ناظم کراچی مصطفیٰ کمال کے دور میں دیکھا گیا تھا۔ جیسے ان کی بات ہر سرکل میں سنی جاتی تھی۔ ویسے ہی امکان ہے کہ مرتضیٰ وہاب کے دور میں بھی ایسا ہی گا۔

سابق ایڈمنسٹریٹر کراچی کے مطابق شہر سے کچرے کے ڈھیر کا خاتمہ، ترقیاتی کام جن میں نئی سڑکوں کی تعمیر، نالوں پر تجاوزات کے خاتمے، پانی کی کمی اور سیوریج کے مسائل کا حل، ٹرانسپورٹ کے نظام میں بہتری سمیت درجنوں ایسے کام ہیں جو نئے ایڈمنسٹریٹر کی صلاحیتوں کا امتحان لیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ عین ممکن ہے کہ مرتضی وہاب کی کامیابی کی راہ میں روڑے بھی اٹکائے جائیں اور انھیں ہر طرح سے ناکام ثابت کرنے کی کوشش بھی کی جائے لیکن یہ حقیقت یے کہ محض ان کی تعیناتی سے کراچی کے مسائل کا حل ممکن نہیں اس کے لیے ایک لمبا سفر اور اجتماعی کوششوں کی ضرورت ہوگی۔

'ایڈمنسٹریٹر، میئر کا نعم البدل نہیں'

تاہم سابق اعلیٰ سرکاری افسر کے خیال میں سیاسی ایڈمنسٹریٹر کبھی میئر کا نعم البدل نہیں ہو سکتا۔ ایڈمنسٹریٹر اپنے تقرر کرنے والی حکومت کے مفاد کے لیے کام کرتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ میئر کو منتخب ہونے کے بعد سیاسی، لسانی، نسلی، مذہبی اور دیگر وابستگیوں سے بالاتر ہوکر کام کرنا چاہیے لیکن ماضی میں دیکھا گیا ہے کہ چند ایک کے علاوہ حالیہ تاریخ میں کراچی میں بدقسمتی سے انہی خطوط پر کام کیا گیا جس کی وجہ سے شہر میں لسانی، فرقہ وارانہ اور دیگر اقسام کے تعصبات کو ہوا ملی اور ان کے نتائج سب کے سامنے ہیں۔

سینیئر صحافی مجاہد بریلوی کا بھی کہنا ہے کہ ایڈمنسٹریٹر اور منتخب مئیر میں بہرحال فرق ہوتا ہے۔ ایڈمنسٹریٹر ایک سیاسی جماعت یا حکومت مقرر کرتی ہے۔ جب کہ مئیر عوام کے ووٹوں سے منتخب نمائندہ ہوتا یے۔

ان کا کہنا ہے کہ میئر یا ایڈمنسٹریٹر کے اس فرق کا تعلق بنیادی طور پر بلدیاتی نظام سے ہے۔ جو کراچی کیا پورے سندھ میں وجود نہیں رکھتا اور ملک بھر میں اب تک اسے جان بوجھ کر پنپنے ہی نہیں دیا گیا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG