رسائی کے لنکس

logo-print

سندھ میں قائم مقام گورنر کی تعیناتی پر اختلافات


آغا سراج درانی (فائل فوٹو)

سندھ کے گورنر عمران اسماعیل کی غیر موجودگی میں صوبے میں قائم مقام گورنر کی تعیناتی وفاقی حکومت اور صوبائی حکومت میں اختلافات کا سببب بن گئی ہے۔

وفاقی حکومت کی جانب سے سندھ اسمبلی کے اسپیکر کے بجائے ڈپٹی اسپیکر کو قائم مقام گورنر نامزد کیا گیا تھا۔ لیکن، ڈپٹی اسپیکر نے قائم مقام گورنر کا حلف لینے سے انکار کر دیا۔

ڈپٹی اسپیکر کے انکار کے بعد وفاقی حکومت اب چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ کو قائم مقام گورنر سندھ تعینات کرنے کا سوچ رہی ہے۔

واضح رہے کہ سندھ کے گورنر عمران اسماعیل ان دنوں ملک سے باہر ہیں جس کے باعث وفاقی حکومت نے قائم مقام اسپیکر کی ذمہ داری سندھ اسمبلی کے اسپیکر آغا سراج درانی کو دینے کے بجائے ڈپٹی اسپیکر ریحانہ لغاری کو قائم مقام گورنر تعینات کرنے کا نوٹی فکیشن جاری کیا ہے۔

کابینہ ڈویژن کی جانب سے جاری ہونے والے نوٹی فکیشن میں درج تھا کہ عمران اسماعیل 10 روز کی چھٹی پر بیرون ملک گئے ہیں اور اس دوران آئین کے آرٹیکل 104 کے تحت سندھ اسمبلی کی ڈپٹی اسپیکر قائم مقام گورنر کے فرائض سر انجام دیں گی۔

سرکاری ذرائع کے مطابق سندھ اسمبلی کے اسپیکر کو قائم مقام گورنر تعینات نہ کرنے کی وجہ ان کے خلاف احتساب عدالت میں جاری کرپشن ریفرنس ہے جس میں آغا سراج درانی گرفتار ہیں اور سب جیل قرار دیے گئے اپنے ہی گھر میں قید ہیں۔

احتساب عدالت آغا سراج درانی کے خلاف آمدن سے زائد اثاثوں کے کیس کی سماعت کر رہی ہے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق، اگر آغا سراج درانی کو قائم مقام گورنر تعینات کیا جاتا ہے تو گورنر ہاؤس کو سب جیل قرار دینا ہوگا۔

دوسری جانب سندھ حکومت کے مشیر قانون اور ترجمان مرتضٰی وہاب نے صوبائی اسمبلی میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ گورنر ایک آئینی عہدہ ہے اور آرٹیکل 104 واضح کرتا ہے کہ اسمبلی کے اسپیکر ہی قائم مقام گورنر کی ذمہ داریاں ادا کر سکتے ہیں۔

مرتضٰی وہاب نے الزام عائد کیا کہ صدر مملکت نے ڈپٹی اسپیکر کو قائم مقام گورنر تعینات کر کے آئین کی خلاف ورزی کی ہے۔

مرتضیٰ وہاب کے مطابق آئین کے تحت صرف اسپیکر کی عدم موجودگی میں ہی ڈپٹی اسپیکر کو قائم مقام گورنر مقرر کیا جا سکتا ہے، جب کہ اسپیکر اس وقت صوبے میں موجود ہیں۔

اسپیکر سندھ اسمبلی کے خلاف زیرِ سماعت ریفرنس کے سوال پر جواب دیتے ہوئے مرتضیٰ وہاب نے واضح کیا کہ کوئی بھی شخص اس وقت تک قانون کی روشنی میں معصوم ہے جب تک اس پر کوئی جرم ثابت نہ ہوجائے۔ ان کے بقول، آغا سراج درانی قائم مقام گورنر بننے کے مکمل اہل ہیں۔

دوسری جانب پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والی ڈپٹی اسپیکر سندھ اسمبلی ریحانہ لغاری نے قائم مقام گورنر کا حلف اٹھانے سے انکار کر دیا ہے جس کے باعث گورنر ہاؤس کراچی میں ہونے والی تقریب حلف برداری منسوخ کر دی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق، صوبے میں کسی آئینی بحران سے بچنے کے لیے وفاقی حکومت ڈپٹی اسپیکر کی جانب سے حلف اٹھانے سے انکار پر چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ جسٹس احمد علی ایم شیخ کو قائم مقام گورنر تعینات کرنے پر غور کر رہی ہے۔ لیکن اس سے متعلق ابھی کوئی نوٹی فکیشن جاری نہیں کیا گیا ہے۔

آئینی اور قانونی ماہرین کے مطابق گورنر کی تعیناتی وزیرِ اعظم کی تجویز پر صدر مملکت کرتا ہے اور اسپیکر کی عدم موجودگی میں صدر کو یہ اختیار حاصل ہے کہ کہ وہ کسی بھی دوسرے شخص کو گورنر کے عہدے پر تعینات کر دیں۔ البتہ آئین میں اس بات کی وضاحت نہیں کی گئی ہے کہ کسی مقدمے میں گرفتار اور نامزد شخص جز وقتی گورنر بننے کا اہل ہے یا نہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG