رسائی کے لنکس

logo-print

سندھ میں رینجرز پر حملے، دو اہلکاروں سمیت چار افراد ہلاک


(فائل فوٹو)

پاکستان کے صوبہ سندھ میں رینجرز پر کیے گئے دو مختلف حملوں میں دو اہلکاروں سمیت چار افراد ہلاک جب کہ کئی زخمی ہو گئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق جمعے کو سندھ کے ضلع گھوٹکی میں رینجرز کی گاڑی کے قریب اس وقت دھماکہ ہوا جب اہلکار مارکیٹ میں خریداری کے لیے موجود تھے۔ حملے میں ایک شہری سمیت دو رینجرز اہلکار ہلاک جب کہ پانچ زخمی ہو گئے۔

زخمیوں کو فور طور پر سول اسپتال گھوٹکی منتقل کیا گیا ہے جہاں بعض کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے۔

ایک اور واقعے میں کراچی کے علاقے لیاقت آباد نمبر 10 کے ایک اسکول پر اس وقت دستی بم حملہ کیا گیا جب وزیر اعظم کے احساس کفالت پروگرام کے تحت مستحق افراد میں رقوم کی تقسیم کا سلسلہ جاری تھا۔

واقعے میں ایک شخص ہلاک جب کہ سات زخمی ہو گئے۔ زخمیوں کو فوری طور پر عباسی شہید اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق احساس پروگرام کے عارضی دفتر پر نامعلوم افراد نے دستی بم سے حملہ کیا۔

اسسٹنٹ پولیس سرجن عباسی شہید اسپتال ڈاکٹر محمد سلیم کے مطابق ہلاک ہونے 25 سالہ نوجوان کی شناخت کاشف کے نام سے ہوئی ہے۔

دونوں حملوں کی ذمہ داری قبول کرنے کے حوالے سے متضاد اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔

کراچی میں امن و امان رکھنے کے لیے پولیس کے ساتھ رینجرز بھی تعینات ہیں۔ (فائل فوٹو)
کراچی میں امن و امان رکھنے کے لیے پولیس کے ساتھ رینجرز بھی تعینات ہیں۔ (فائل فوٹو)

شدت پسند تنظیم حزب الاحرار نے گھوٹکی حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

تنظیم کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ تنظیم کے مجاہدین نے گھوٹکی میں رینجرز کی گاڑی پر دھماکہ کیا۔

دوسری جانب صوبہ سندھ کو الگ ملک بنانے کے لیے مسلح جدوجہد پر یقین رکھنے والی کالعدم 'سندھو دیش ریولوشنری آرمی' نامی تنظیم نے بھی ان حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

ٹوئٹر پر مذکورہ تنظیم کے ترجمان کی جانب سے جاری کیے گئے پیغام میں کہا گیا ہے کہ کراچی، لاڑکانہ اور گھوٹکی میں رینجرز پر ہونے والے حملے ریولوشنری آرمی ہی کی جانب سے کیے گئے ہیں۔

'سندھو دیش ریولوشنری آرمی' کے پیچھے ضلع لاڑکانہ کے علاقے ڈوکری سے تعلق رکھنے والے اصغر شاہ کا نام آتا ہے۔ سیکیورٹی حکام کے مطابق اصغر شاہ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ سندھ یا بلوچستان ہی میں روپوش ہیں۔

پولیس ریکارڈ کے مطابق اصغر شاہ اغوا برائے تاوان، بینک ڈکیتی جیسی وارداتوں میں پولیس کو مطلوب ہیں۔ یہ گروپ ان گروہوں میں سے ایک ہے جو صوبے کو طاقت کے زور پر الگ وطن بنانے پر یقین رکھتا ہے۔

ممتاز صحافی اور روزنامہ 'عوامی آواز' کے ایڈیٹر عبدالجبار خٹک کا کہنا ہے کہ آج کی پرتشدد کارروائیوں کے پیچھے ابھی تک واضح نہیں کہ کس کا ہاتھ ہے۔

لیکن ایسی پرتشدد کارروائیوں کا راستہ جمہوری اقدار کو فروغ دے کر ہی روکا جاسکتا ہے۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ تشدد ریاست کی جانب سے ہو یا غیر ریاستی عناصر کی جانب سے، اس کی مذمت کی جانی چاہیے۔

اُن کا کہنا تھا کہ ایسی پرتشدد کارروائیوں کا راستہ روکنے کے لیے ضروری ہے کہ لوگوں کو اظہار رائے کی آزادی دی جائے۔ ان کی جائز بات کو سنا جائے۔ ان کی منتخب کردہ قیادت کو دیوار کے ساتھ لگانے کے بجائے انہیں برابری کی بنیادی پر احترام اور حقوق دیے جائیں۔

صورتِ حال سے واقف کئی تجزیہ کار اسے حال ہی میں کراچی میں دو افراد کی ملنے والی لاشوں پر ردعمل سے بھی جوڑ رہے جن کے بارے میں متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) لندن اور قوم پرست 'جئے سندھ قومی محاذ' (جسقم) کی جانب سے دعوے سامنے آیے تھے کہ یہ ان کے کارکن تھے۔

ایم کیو ایم لندن کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ ایک مقتول آصف پاشا ان کی جماعت کے کارکن تھے جو 22 فروری 2019 سے لاپتا تھے۔ اسی طرح نیاز لاشاری کے نام سے شناخت ہونے والے دوسرے مقتول کے بھائی کے مطابق وہ 2018 سے لاپتا تھا جس کی گمشدگی سے متعلق پٹیشن سندھ ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت تھی۔

تاہم اب تک اس بارے میں سرکاری طور پر کچھ نہیں کہا گیا ہے۔ یاد رہے کہ ایم کیو ایم اور بعض علیحدگی پسند سندھی قوم پرست جماعتوں کے درمیان ماضی میں بھی قریبی تعلق رہا ہے۔

رواں سال فروری میں بھی ایم کیو ایم کے بانی الطاف حسین اور خودساختہ جلاوطن علیحدگی پسند رہنما ڈاکٹر صفدر سرکی کے درمیان لندن میں ملاقات اور مل کر حقوق کے جدوجہد کے لیے کوششوں پر اتفاق بھی ہوا تھا۔

سندھ پولیس کے کاؤنٹر ٹیرارزم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کے انچارج راجہ عمر خطاب نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے کراچی کے علاقے قائد آباد اور گلستان جوہر میں سندھ رینجرز کی موبائل پر دستی بموں سے حملے اور آج لیاقت آباد کا واقعہ ایک ہی سلسلے کی کڑی دکھائی دیتے ہیں۔ ان واقعات کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔

گورنر عمران اسماعیل اور وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے دہشت گردی کے ان واقعات کا نوٹس لیتے ہوئے رپورٹ طلب کر لی ہے۔ گورنر سندھ کا کہنا ہے کہ پوری قوم سیکیورٹی اداروں کی قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ احساس سینٹر کو سیکیورٹی فراہم کرنا پولیس کی ذمہ داری ہے۔ اور اس بارے میں کوئی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔

وزیر اطلاعات سندھ سید ناصر حسین شاہ کے مطابق صوبے میں سیکورٹی الرٹ جاری کردیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حملے میں ملوث عناصر کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے گا اور ذمہ داروں کو ہر صورت کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔

پاکستان میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کے بعد پرتشدد واقعات میں کمی آئی ہے۔ البتہ حکام کا کہنا ہے کہ اب بھی پاکستان کے شہروں میں دہشت گرد تنظیموں کے 'سلیپنگ سیل' موجود ہیں جو وقتاً فوقتاً کارروائیاں کرتے رہتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG