رسائی کے لنکس

logo-print

خصوصی بچوں کی 'ماں' سسٹر روتھ کے انتقال پر 'دارالسکون' افسردہ


سسٹر روتھ لیوس (فائل فوٹو)

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے ایک ایک کر کے وہ سارے چراغ بجھتے جا رہے ہیں جن کی روشنی سے انسانیت دکھائی دیتی تھی۔ دو روز قبل کراچی میں ایک اور ایسا چراغ بجھ گیا جس نے بے سہارا اور معذوروں کا ہاتھ پکڑ کر یہ بتایا کہ اگر کوئی ان کے ساتھ نہیں تو میں تو ہوں۔

سن 1969 میں 'دارالسکون' کی بنیاد رکھنے والی سسٹر رتھ لیوس کی آج آخری رسومات کی ادائیگی کے بعد انہیں کراچی کے گورا قبرستان میں سپرد خاک کردیا گیا۔ ان کی وفات کرونا وائرس کی وجہ سے ہوئی۔

سسٹر روتھ کی آخری رسومات میں ان کے بھائی اور بہن نے بھی شرکت کی۔ لیکن وہ غم، آنسو، سسکیاں کم نہیں جو ان سے جڑے لوگوں نے ان کے یوں جانے پر بہائے جن کا رشتہ برسوں سے سسٹر روتھ کے ساتھ رہا اور وہ انہیں ہی اپنا سب کچھ سمجھتے تھے۔

ہر کوئی دعوے دار ہے کہ سسٹر روتھ ان کی ماں تھی، ان سے زیادہ پیار کرتی تھیں۔ یہ دعوی کرنے والے 'دارالسکون' کے 400 معذور بچے اور وہ 200 بے گھر بزرگ ہیں جن کو چھت اور شفقت دینے والی سسٹر روتھ تھیں۔

کراچی میں قائم اس فلاحی ادارے کے دو حصے ہیں ایک جہاں بزرگ رہتے ہیں دوسرا جہاں ذہنی اور جسمانی معذور بچے رہائش پذیر ہیں۔ یوں تو ملک بھر اور خاص طور پر کراچی مین شیلٹر ہاوسز کی کمی نہیں لیکن اگر دارالسکون جائیں تو محسوس ہوتا ہے کہ جیسے یہ اپنے نام کی طرح ہی ہے۔

یہاں موجود بزرگوں کی آپس میں دوستی، کچھ نہ کچھ مصروفیت، ہنسی مذاق اور باہر سے کسی نئے آنے والے کا پرتپاک استقبال بتاتا ہے کہ اس گھر کے مکین ماضی میں بھلے بہت دکھ اور تکالیف اٹھائے ہوں۔ لیکن اس جگہ وہ ذہنی آسودگی اور عزت کے ساتھ رہ رہے ہیں جو انہیں سسٹر روتھ کی بدولت میسر آیا ہے۔

اسی طرح بچوں کے لیے بنائے جانے والا ادارہ بھی کسی سہولت سے کم نہیں جہاں ان بچوں کو سنبھالنے کے لیے سسٹر روتھ کے زیرِ سایہ کام کرنے والی دیگر سسٹرز اور عملہ ان بچوں کا اسی طرح خیال رکھ رہا ہے جیسے کوئی اپنا رکھتا ہے۔ یہاں ایسے بچے بھی ہیں جنہیں اپنے رکھنے کو تیار نہیں یا وہ ان کا خیال اس لیے نہیں رکھ سکتے کہ ان کے دوسرے بچوں کو ان کی زیادہ ضرورت ہے۔

ایسے بچوں کو سینے سے لگانے والی سسٹر روتھ تھیں جنہوں نے اپنی زندگی کے 50 برس اسی خدمت میں گزار دیے۔

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے دارالسکون کے منیجر طارق سیموئیل نے بتایا کہ ادارے میں رہائش پذیر 21 بچوں میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوئی تھی اور ان کی دیکھ بھال میں سسٹر روتھ لیوس براہ راست شریک رہیں جس کے سبب ننھی جانوں کا خیال کرتے ہوئے وہ خود اس وائرس کا شکار ہو گئیں۔

اُن کے بقول آٹھ جولائی کو ان کا کرونا ٹیسٹ مثبت آیا جس کے بعد ان کی طبیعت میں بہتری نہ آنے پر انہیں اسپتال داخل کرا دیا گیا جہاں وہ وینٹی لیٹر پر رہیں۔

چوہتر سالہ سسٹر روتھ آخری لمحے تک اپنے فرائض کی ادائیگی میں مصروف رہیں کیوں کہ انسانیت کی خدمت ہی ان کا مشن تھا جس کے لیے انہوں نے اپنی ساری عمر وقف کر دی تھی۔

طارق سیموئیل کے مطابق اس وقت ادارے میں سسٹر کی وفات پر بچے انتہائی دکھی اور رنجیدہ ہیں یہاں تک کہ انہوں نے کھانا پینا بھی چھوڑ رکھا ہے وہ مسلسل رو رہے ہیں۔

طارق سیموئیل گزشتہ 10 برسوں سے اس ادارے سے وابستہ ہیں ان کا کہنا ہے کہ سسٹر روتھ ان کے لیے ماں سے بڑھ کر ہیں۔ ایک ماں جو اولاد کو پیدا کرتی ہے اور ایک ایسی ماں جو دوسروں کی اولاد کو ان سے بھی زیادہ چاہے اور پالے اس کا حق کیسے ادا کیا جاسکتا ہے؟ یہی وجہ ہے کہ ان کے جانے کا غم سب کے لیے بہت بڑا ہے۔

طارق کا مزید کہنا تھا کہ یہ خدا کا نظام ہے کہ اس نے جس سے کام کرانا ہو اور اپنے بندوں کی خدمت کرانی ہو وہ اس کا دل بدل دیتا ہے۔ لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ جو انسانیت کی خدمت کا جذبہ اور مستقل مزاجی سسٹر روتھ اور ان جیسی اور شخصیات جیسے ڈاکٹر روتھ فاو، عبدالستار ایدھی میں تھا وہ اب نظر نہیں آتا۔

لیکن اُن کے بقول یہ کام چلتا رہے گا اور خدا اپنے ایسے بندوں کو چنتا رہے گا جو دکھی انسانیت کی خدمت بنا کسی غرض کے جاری رکھیں گے۔

دارالسکون کی ذمہ داری اب سسٹر روتھ کے بعد اس کے جنرل منیجر مورس خورشید ادا کریں گے جنہیں 1992 میں سسٹر روتھ نے اس ادارے میں اس وقت خوش آمدید کہا تھا جب وہ کم عمری میں یہاں آئے اور پھر ان کی پرورش سسٹر روتھ نے ماں بن کر کی۔

دکھی انسانیت کے خدمت کے جذبے سے سرشار

سسٹر روتھ لیوس 1946 میں پیدا ہوئیں۔ اپنے خاندان کے دیگر افراد کی نسبت انہوں نے انسانیت کی خدمت کرنے کو اپنی ترجیح بنایا اور اپنی پوری زندگی اسی مقصد کے لیے وقف کر دی۔

سسٹر روتھ لیوس نے دو سسٹرز کے ساتھ 17 فروری 1969 میں دارالسکون کی بنیاد رکھی۔ یہ کام انہوں نے اس وقت سسٹر گرٹروڈ لیمنس، اور سسٹر مارگریٹ ڈی کوسٹا کے ہمراہ شروع کیا جو ان سے عمر اور تجربے میں بڑی تھیں اور ان کے لیے مشعل راہ بھی تھیں۔

اس وقت ادارہ 150 ذہنی اور جسمانی معذور بچوں کے ساتھ شروع کیا گیا جنہیں یا تو اپنوں نے چھوڑا یا معاشرے نے دھتکارا۔

اس کام کو شروع کرتے وقت سسٹر روتھ کی عمر 22 برس تھی لیکن انسانیت کی خدمت کا جذبہ ان کی عمر سے کہیں بڑا تھا ان کے لیے ایسے بچوں کو سنبھالنے کا تجربہ بہت مشکل تھا۔ لیکن حوصلے اور برداشت کے ساتھ وہ یہ کام کرتی چلی گئیں۔ یہاں تک کہ اس ادارے میں داخل ہونے والی کئی لڑکیوں اور بچوں کی انہوں نے اس سطح پر تربیت کی کہ وہ نئے آنے والے بچوں کی دیکھ بھال کرنے کے قابل ہو گئے۔

لیکن اس کے پیچھے وہ انتھک محنت تھی جو سالوں پر محیط ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب ان بچوں سے ان کی ماں کا کوئی نام پوچھے تو وہ سسٹر روتھ کا نام لیتے ہیں۔ آج سسٹر روتھ کے یوں چلے جانے سے وہ تمام بچے یوں محسوس کر رہے ہیں جیسے انہوں نے اپنی ماں کو کھو دیا ہو۔

سسٹر روتھ کی وفات پر جہاں سیاسی سماجی شخصیات کی جانب سے تعزیتی پیغامات کا سلسلہ جاری ہے وہیں سندھ کابینہ نے حکومتِ پاکستان کی طرف سے اُنہیں سول ایوارڈ دینے کی سفارش بھی کی ہے۔

وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے اس موقع پر دارالسکون کی انتظامیہ سے سسٹر روتھ کی وفات پر تعزیت کی وہیں کووڈ 19 سے متاثرہ بچوں کے لیے ادارے میں ہی کرونا وارڈ قائم کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG