رسائی کے لنکس

logo-print

'پاکستان میں بچے گود لینے کے رجحان میں اضافہ ہو رہا ہے'


شیلٹر ہومز کی انتظامیہ کے مطابق بچے کم اور گود لینے کے خواہش مند افراد زیادہ ہیں۔

نادیہ ڈھائی برس کی تھی جب اسے پڑوسی ہمارے گھر لے کر آئے۔ اس کے سر پر بال نہیں تھے۔ جلد جگہ جگہ سے خراب تھی اسے بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا اور پھر بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا تھا۔ یہ الفاظ ہیں عالیہ صارم کے جو صارم برنی ٹرسٹ کی وائس چیئر پرسن ہیں۔

نادیہ اب سات برس کی ہو چکی ہیں اور گزشتہ کئی برسوں سے صارم برنی شیلٹر ہوم میں ہی رہائش پذیر ہیں۔ صارم برنی ٹرسٹ کی چیئر پرسن عالیہ کے بقول انہیں ایک بے اولاد جوڑے نے کسی سے گود لیا تھا۔ لیکن اس کے بعد اسے تشدد کا نشانہ بنایا جاتا رہا۔

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے عالیہ صارم نے بتایا کہ ایسے بچے جنہیں گود لیتے وقت کوئی کاغذی کارروائی عمل میں نہ لائی جائے، بعد میں ان کی جانچ پڑتال کرنا خاصا مشکل ہوجاتا ہے۔ کیوں کہ بہت سے جوڑے جب بچے گود لینا چاہتے ہیں اس وقت وہ جذباتی ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وقت گزرنے کے ساتھ جب انہیں یہ احساس ہوتا ہے کہ یہ معمولی ذمہ داری نہیں تو وہ اس بچے سے جان چھڑانے کی راہیں تلاش کرنے لگتے ہیں۔

پاکستان میں بچے گود لینے کا کوئی قانون موجود ہے؟

قانونی ماہرین کے مطابق پاکستان میں بچے گود لینے کے حوالے سے کوئی قانون موجود نہیں کیوں کہ اسلامی شریعہ قانون بچے کو گود لینے کی اجازت نہیں دیتا۔ تاہم 'گارڈین شپ' کے مروجہ قانون کے ذریعے کسی بھی بچے کی کفالت کی ذمہ داری اس وقت تک لی جاسکتی ہے جب تک وہ 18 برس کا نہ ہو جائے۔

ماہر قانون شعیب اشرف ایڈووکیٹ کے مطابق 'ایڈاپشن' اور 'گارڈین شپ' دو مختلف چیزیں ہیں۔ چونکہ ملک میں بچے کو گود لینے کے حوالے سےکوئی قانون نہیں تو اسی وجہ سے بچے کو کوئی حقوق بھی نہیں مل پاتے۔

انہوں نے کہا کہ گارڈین شپ کے تحت بچے کی کفالت کی ذمہ داری گارڈین کو مل جاتی ہے۔ لیکن اگر بچے کے حقیقی والدین زندہ ہیں تو اس کا نام اپنے والد کے نام سے منسلک رہے گا۔

شعیب اشرف نے کہا کہ اگر کسی بچے کے حقیقی والد بھی زندہ نہ ہو یا کوئی بچے کو لاوارث چھوڑ گیا ہو تو ایسی بھی بہت سی مثالیں موجود ہیں کہ والد کا نام تبدیل کردیا جائے۔ انہوں نے عبدالستار ایدھی کا حوالہ دیا کہ ایسے بچوں کے نام کے ساتھ وہ اپنا نام یعنی 'ایدھی' لکھوا دیا کرتے تھے۔

کیا بچوں کو گود لینے کا رجحان بڑھ رہا ہے؟

عالیہ صارم کہتی ہیں کہ بچوں کو گود لینے والوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ ان کے بقول شیلٹر ہوم میں موجود بچے کم ہیں لیکن انہیں گود لینے کے خواہش مند زیادہ ہیں۔

عالیہ کہتی ہیں کہ یہ مرحلہ اتنا آسان نہیں ہوتا جتنا بظاہر سمجھا جاتا ہے۔ "بہت سے جوڑے یہ سمجھتے ہیں کہ وہ آئیں گے اور فوراً بچہ ان کے حوالے کر دیا جائے گا۔ لیکن ایسا نہیں ہے۔ اس سلسلے میں پوری جانچ پڑتال کی جاتی ہے۔"

ان کے بقول شیلٹر ہومز میں ایسے شادی شدہ جوڑے آتے ہیں جو طویل عرصے سے بے اولاد ہوتے ہیں۔ ایسے میں خاندان اور معاشرے کا دباؤ ان پر بڑھنے لگتا ہے اور وہ بچہ گود لینے کا فیصلہ کرتے ہیں۔

عالیہ صارم
عالیہ صارم

'سگی بہن نے بچہ گود لے کر واپس لے لیا'

کراچی کی رہائشی صفیہ بیگم نے آج سے 50 برس قبل اپنی بہن سے ان کے بیٹے کو گود لیا تھا۔ صفیہ کہتی ہیں کہ شوہر کے انتقال کے بعد ان کی بہن اور بہنوئی نے اپنے بیٹے کو واپس لے لیا جس کی عمر اس وقت 15 برس تھی۔ وہ اسے واپس اپنے ساتھ برطانیہ لے گئے اور اس کے بعد اسے یہاں اپنے ان بہن بھائیوں سے بات تک کرنے کی اجازت نہیں دی جہاں وہ پیدائش کے کچھ گھنٹوں کے بعد سے 15 برس تک رہا۔

انہوں نے کہا کہ "میں نہیں جانتی تھی کہ میری بہن اس طرح کرے گی، جب اس نے میرے شوہر کے انتقال کے کچھ دنوں کے بعد تمام بچوں کے سامنے یہ انکشاف کیا کہ فاروق ہمارا بیٹا ہے۔ یہ خبر فاروق سمیت میرے دیگر چھ بچوں کے لیے بھی کسی جھٹکے سے کم نہ تھی۔ صرف میری بڑی بیٹی اس راز سے واقف تھی۔"

صفیہ کہتی ہیں کہ جب وہ اسے اپنے ساتھ لے جارہے تھے تو مجھے ایسا محسوس ہورہا تھا جیسے میرے جسم کا کوئی حصہ الگ کردیا گیا ہو۔ وہ روتا بلکتا، شکوے کرتا لندن چلا گیا اس کے جانے کے بعد سارے محلے کو علم ہو گیا کہ وہ ہمارا حقیقی بیٹا نہیں تھا۔ وہاں پہنچتے ہی اس کے تمام رابطے ہم سے ختم کرا دیے گئے۔

اس واقعے کے بعد سے ہم بہنوں کا رشتہ بھی متاثر ہوا۔ صفیہ کے بقول کئی برس بعد ہمیں معلوم ہوا کہ اس کے حقیقی بہن بھائیوں کا سلوک اس کے ساتھ برا تھا یہاں سے دوری اور رشتوں سے اعتبار اٹھ جانے کے باعث اس نے وہاں نشہ شروع کر دیا۔

صفیہ بیگم کے مطابق جب بھی کسی بچے کو گود لیا جائے تو اسے یہ حقیقت وقت کے ساتھ بتا دینی چاہیے۔ یہ اس لیے ضروری ہے کہ ہمارے اردگرد لوگ پھر اس بچے کے ذہن کو متاثر کرتے ہیں۔ وہ بچہ جو پہلے ہی حساس طبیعت کا ہوتا ہے حقیقت جاننے کے بعد اسے یہ محسوس ہونے لگتا ہے کہ اس کی کوئی اہمیت اور حیثیت نہیں ہے۔

سماجی ادارے بچے کن شرائط پر گود دیتے ہیں؟

عالیہ صارم کے مطابق ان کا ادارہ بچے کو گود لینے والے جوڑے سے کچھ شرائط طے کرتا ہے۔ جس کے تحت جوڑے کی شادی کو 10 سال کا عرصہ گزر چکا ہو اور وہ بے اولاد ہوں۔ ان کی پہلے کوئی اولاد نہ ہو جس بچے کو وہ گود لے رہے ہوں اس کے تحفظ کی ضمانت کے طور پر وہ عدالت میں 10 لاکھ مالیت کا کوئی بانڈ یا جائیداد لکھ کر دستاویزات عدالت میں جمع کروائیں گے۔ جو اس بچے کو 18 سال کی عمر میں پہنچنے کے بعد اسے بذریعہ عدالت مل جائے گی۔

عالیہ کے بقول جو جوڑے بچے کو گود لیتے ہیں ان کے کوائف ادارے کے پاس رہتے ہیں۔ بچہ ان پاس کے کس طرح رہ رہا ہے۔ اس کا خیال رکھا جا رہا ہے یا نہیں وقتاً فوقتاً والدین اس سے بھی آگاہ کرنے کے پابند ہیں۔

عالیہ صارم کہتی ہیں کہ ایسی مثالیں موجود ہیں کہ والدین نے گود لیے گئے بچوں کی بہترین پرورش کی اور انہیں اچھے ماحول میں رکھا۔ لیکن ایسا بھی ہوا کہ بچوں کے ساتھ اچھا برتاؤ نہیں کیا گیا، ایسے بچوں کو ادارے نے واپس لے لیا۔

ان کے بقول بچہ گود لینے کی سب سے زیادہ درخواستیں ایدھی سینٹر کو موصول ہوتی ہیں، یہ تعداد ہزاروں میں ہے۔ بعض اوقات جانچ پڑتال کا عمل مکمل ہونے میں ایک سے دو سال بھی لگ جاتے ہیں۔

ایڈاپشن کو مشکل کیوں بنایا جارہا ہے؟

پاکستان میں بچے کو گود لینے کا کوئی قانون نہیں۔ اس لیے بغیر کسی کاغذی کارروائی کے خاندانوں یا اداروں سے بچے کو گود لیے جانا معمول ہے۔ عالیہ کے بقول بعض اوقات بچے کو گود لینے والے جوڑے اس کے ساتھ اچھا برتاؤ کر رہے ہوتے ہیں۔ لیکن ان کے عزیز و اقارب مسائل پیدا کرتے ہیں۔

عالیہ کہتی ہیں کہ کچھ بچوں کو جھوٹ کی بنیاد پر گود لیا جاتا ہے۔ جوڑوں کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ بچہ چند دن یا چند ماہ کا ہو تاکہ ان بچوں کو خاندان میں ان کے حقیقی بچے کے طور پر متعارف کرایا جا سکے۔ ایسے میں درخواست گزار جوڑے خوبصورت بچوں کو ترجیح دیتے ہیں۔

عالیہ کہتی ہیں کہ اگر ایسا کوئی تاثر مل رہا ہو تو ہم بچہ گود لینے کے عمل کو مؤخر کر دیتے ہیں۔

عالیہ صارم کا کہنا ہے کہ شیلٹر ہومز میں ایسے لوگ بھی آتے ہیں جو بچوں کو گود لے کر بعد ازاں ان سے گھریلو کام کاج کراتے ہیں۔ جیسا کہ نادیہ کے ساتھ ہوا۔ نادیہ اب سات برس کی ہو گئی ہے لیکن اب بھی نئے آنے والے افراد کو دیکھ کر ڈر جاتی ہے یا کہیں چھپنے کی کوشش کرتی ہے۔

شیلٹر ہومز میں بچے کیسے پہنچتے ہیں؟

ملک کے بہت سے فلاحی اور سماجی اداروں میں پہنچنے والے بچے یا تو گمشدگی کے بعد یہاں پہنچتے ہیں یا پھر انہیں جھولے میں ڈال کر یہ پیغام دے دیا جاتا ہے کہ ہمیں ان کی ضرورت نہیں۔

ایسے بچوں کی ایک بڑی تعداد ایدھی سینٹرز میں موجود ہے جس میں 80 فی صد لڑکیاں ہیں۔ دوسری صورت یہ ہوتی ہے کہ کچھ والدین غربت اور بھوک افلاس کے سبب اپنے بچے ان اداروں میں خود چھوڑ جاتے ہیں۔ لیکن اس بات کے خواہش مند ہوتے ہیں کہ ان کے بچے کسی کو گود نہ دیے جائیں۔

سماجی اداروں کے مطابق ان کے شیلٹرز میں یوں تو بہت سے بچے ہیں جو محبت کرنے والے والدین کے منتظر ہیں۔ لیکن اداروں کو تلاش ان کی ہے جو ان بچوں کو اولاد کی طرح محبت اور توجہ دے سکیں تاکہ ان کا مستقبل ان کے ماضی سے کہیں زیادہ بہتر ہو سکے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG