رسائی کے لنکس

’زلزلے کی شکل میں ایک قیامت گزر گئی‘

فائل فوٹو
فائل فوٹو

زلزلہ زدہ علاقوں کا ماحول کیسا ہوتا ہے اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں لیکن متاثرہ خطے میں زندگیاں گزارنے والوں کے حالات مفروضوں اور اندازوں سے کہیں زیادہ تکلیف دہ ہیں۔

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے علاقے میرپور سے ذرا آگے سانگ کیکری موہڑاں نامی علاقہ بھی ایسا ہی آفت زدہ علاقہ ہے جو 24 ستمبر کو زلزلے کی زد میں آیا تھا۔

سانگ کیکری آنے والوں کو دور سے ہی تباہ شدہ پل اور گرے ہوئے مکانات دکھائی دینے لگتے ہیں۔

زلزلے کو تین روز گزرنے کے بعد بھی علاقے میں بہتری کے آثار نظر نہیں آتے۔ البتہ وقفے وقفے سے آنے والے آفٹر شاکس کی دہشت علاقہ مکینوں کے چہرے سے عیاں ہے۔

اونچی نیچی اور بل کھاتی گلیوں میں گرے ہوئے مکانوں میں سے ایک مکان کے سامنے بشارت علی اکیلے بیٹھے ہوئے تھے اور ایک کرسی پر بمشکل خود کو سنبھالے ہوئے تھے۔

انہوں نے ’وائس آف امریکہ‘ کی ٹیم کو دیکھا تو مخاطب ہوئے کہ 'کچھ نہیں بچا۔'

پاکستان میں زلزلے سے تباہی

میرپور میں زلزلے سے سڑکیں مکمل طور پر تباہ ہوگئیں جس سے ٹریفک کی روانی روک دی گئی۔ لوگ تباہ حال سڑک کو دیکھنے کے لیے اس کے کنارے پر کھڑے ہیں۔<br />
&nbsp;
<div>&nbsp;</div>
1/21 میرپور میں زلزلے سے سڑکیں مکمل طور پر تباہ ہوگئیں جس سے ٹریفک کی روانی روک دی گئی۔ لوگ تباہ حال سڑک کو دیکھنے کے لیے اس کے کنارے پر کھڑے ہیں۔
 
 
میرپور کے قریب واقع ساہانگ ککری گاوں میں ایک شخص زلزلے سے تباہ ہوجانے والے مکان کے ملبے سے کارآمد چیزیں تلاش کررہا ہے<br />
&nbsp;
<div>&nbsp;</div>
2/21 میرپور کے قریب واقع ساہانگ ککری گاوں میں ایک شخص زلزلے سے تباہ ہوجانے والے مکان کے ملبے سے کارآمد چیزیں تلاش کررہا ہے
 
 
میر پور کے دیہی علاقے ساہانگ ککری میں لوگ تباہ حالات مکانات کا جائزہ لے رہے ہیں<br />
&nbsp;
<div>&nbsp;</div>
3/21 میر پور کے دیہی علاقے ساہانگ ککری میں لوگ تباہ حالات مکانات کا جائزہ لے رہے ہیں
 
 
میرپور کے دیہی علاقے میں زلزلے سے تباہی کا ایک اور منظر<br />
&nbsp;
<div>&nbsp;</div>
4/21 میرپور کے دیہی علاقے میں زلزلے سے تباہی کا ایک اور منظر
 
 
جاتلاں میں زلزلے سے ایک شاہراہ پر پڑنے والی دراڑ کے قریب سے گزرتے ہوئے کچھ موٹر سائیکل سوار
5/21 جاتلاں میں زلزلے سے ایک شاہراہ پر پڑنے والی دراڑ کے قریب سے گزرتے ہوئے کچھ موٹر سائیکل سوار
ساہانگ ککری میں زلزلے سے تباہ ہونے والے مکان کے آنگن میں ایک شخص بچے کے ساتھ تباہی کا جائزہ لے رہا ہے<br />
&nbsp;
<div>&nbsp;</div>
6/21 ساہانگ ککری میں زلزلے سے تباہ ہونے والے مکان کے آنگن میں ایک شخص بچے کے ساتھ تباہی کا جائزہ لے رہا ہے
 
 
میرپور کے علاقے جاتلان میں پاکستان آرمی کے اہلکار ایک تباہ شدہ سڑک کے قریب سے گزر رہے ہیں۔&nbsp;<br />
&nbsp;
<div>&nbsp;</div>
7/21 میرپور کے علاقے جاتلان میں پاکستان آرمی کے اہلکار ایک تباہ شدہ سڑک کے قریب سے گزر رہے ہیں۔ 
 
 
زلزلے سے منہدم مکانات کے ملبے سے کچھ بچے قیمتی اشیا تلاش کررہے ہیں<br />
&nbsp;
<div>&nbsp;</div>
8/21 زلزلے سے منہدم مکانات کے ملبے سے کچھ بچے قیمتی اشیا تلاش کررہے ہیں
 
 
میرپور کے رہائشی مکانات کے ملبے سے کارآمد اشیا نکال رہے ہیں<br />
&nbsp;
<div>&nbsp;</div>
9/21 میرپور کے رہائشی مکانات کے ملبے سے کارآمد اشیا نکال رہے ہیں
 
 
زلزلہ کی شدت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ کچے مکانات کے ساتھ ساتھ پکے مکانات بھی زلزلے کے طاقتور جھٹکوں کا مقابلہ نہ کرسکے<br />
&nbsp;
10/21 زلزلہ کی شدت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ کچے مکانات کے ساتھ ساتھ پکے مکانات بھی زلزلے کے طاقتور جھٹکوں کا مقابلہ نہ کرسکے
 
زلزلے سے ہونے والی تباہی کا اندازہ زیر نظر تصویر سے بھی لگایا جاسکتا ہے۔ میر پور کی شاہراہ پر زلزلے سے گہری دراڑیں پڑ گئیں۔ تصویر میں شاہراہ پر کھڑے موٹر سائیکل سوار ان دراڑوں کو دیکھ رہے ہیں۔<br />
&nbsp;
<div>&nbsp;</div>
11/21 زلزلے سے ہونے والی تباہی کا اندازہ زیر نظر تصویر سے بھی لگایا جاسکتا ہے۔ میر پور کی شاہراہ پر زلزلے سے گہری دراڑیں پڑ گئیں۔ تصویر میں شاہراہ پر کھڑے موٹر سائیکل سوار ان دراڑوں کو دیکھ رہے ہیں۔
 
 
زلزلے کی شدت 5 اعشاریہ 8 بتائی جارہی ہے۔ زلزلے سے سڑکیں پھٹ گئیں، بجلی کے کھمبے گر گئے جب کہ ٹریفک کا نظام بری طرح متاثر ہوا۔<br />
&nbsp;
<div>&nbsp;</div>
12/21 زلزلے کی شدت 5 اعشاریہ 8 بتائی جارہی ہے۔ زلزلے سے سڑکیں پھٹ گئیں، بجلی کے کھمبے گر گئے جب کہ ٹریفک کا نظام بری طرح متاثر ہوا۔
 
 
جاتلاں، میر پور کی ایک شاہراہ پر زلزلے کی تباہی کا ایک افسوس ناک منظر<br />
&nbsp;
<div>&nbsp;</div>
13/21 جاتلاں، میر پور کی ایک شاہراہ پر زلزلے کی تباہی کا ایک افسوس ناک منظر
 
 
میرپور سے ملحقہ علاقے جاتلاں میں زلزلے سے سڑکیں تباہ ہوگئیں جن کی مرمت کا کام جاری ہے۔<br />
&nbsp;
<div>&nbsp;</div>
14/21 میرپور سے ملحقہ علاقے جاتلاں میں زلزلے سے سڑکیں تباہ ہوگئیں جن کی مرمت کا کام جاری ہے۔
 
 
زلزلے سے زخمی ہونے والے افراد کو میرپور کے اسپتال میں طبی امداد دی جارہی ہے۔<br />
<br />
&nbsp;
15/21 زلزلے سے زخمی ہونے والے افراد کو میرپور کے اسپتال میں طبی امداد دی جارہی ہے۔

 
جاتلان میں آنے والے طاقتور زلزلے سے شاہراہوں پر پڑی دراڑ کے قریب لوگ جمع ہیں جبکہ امدادی کاموں میں شریک ایک کرین کو بھی تصویر کے پس منظر میں دیکھا جاسکتا ہے۔<br />
&nbsp;
<div>&nbsp;</div>
16/21 جاتلان میں آنے والے طاقتور زلزلے سے شاہراہوں پر پڑی دراڑ کے قریب لوگ جمع ہیں جبکہ امدادی کاموں میں شریک ایک کرین کو بھی تصویر کے پس منظر میں دیکھا جاسکتا ہے۔
 
 
میرپور میں آنے والے زلزلے کا ایک اور زخمی۔ زلزلے کے نتیجے میں اب تک 300 سے زائد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ میر پور میں زلزلے سے متعدد مکانات اور دکانوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
<div>&nbsp;</div>
17/21 میرپور میں آنے والے زلزلے کا ایک اور زخمی۔ زلزلے کے نتیجے میں اب تک 300 سے زائد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ میر پور میں زلزلے سے متعدد مکانات اور دکانوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
 
میرپور کے نواحی علاقے جاتلاں میں زلزلے کے بعد ایک اسپتال کے باہر کھڑے لوگوں کا منظر
18/21 میرپور کے نواحی علاقے جاتلاں میں زلزلے کے بعد ایک اسپتال کے باہر کھڑے لوگوں کا منظر
لاہور میں بھی منگل کی شام آنے والے زلزلے کے بعد لوگ عمارتوں سے باہر نکل آئے تھے۔<br />
&nbsp;
19/21 لاہور میں بھی منگل کی شام آنے والے زلزلے کے بعد لوگ عمارتوں سے باہر نکل آئے تھے۔
 
چوبیس ستمبر کی شام آنے والے زلزلے کے جھٹکے لاہور میں بھی محسوس کیے گئے جس سے لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ بیشتر افراد خوف کے عالم میں گھروں، دکانوں اور دفاتر کی عمارتوں سے باہر نکل آئے۔
<div>&nbsp;</div>
20/21 چوبیس ستمبر کی شام آنے والے زلزلے کے جھٹکے لاہور میں بھی محسوس کیے گئے جس سے لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ بیشتر افراد خوف کے عالم میں گھروں، دکانوں اور دفاتر کی عمارتوں سے باہر نکل آئے۔
 
دارالحکومت اسلام آباد میں زلزلے کے بعد لوگ پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی عمارت کے باہر اکھٹے ہوگئے۔<br />
&nbsp;
<div>&nbsp;</div>
21/21 دارالحکومت اسلام آباد میں زلزلے کے بعد لوگ پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی عمارت کے باہر اکھٹے ہوگئے۔
 
 
Previous slide
Next slide

بعد ازاں انہوں نے واقعے کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ 24 ستمبر کی شام وہ اپنے مکان کے عقبی حصّے میں تھے کہ اچانک زمین ہلنے لگی۔

بشارت کا کہنا تھا کہ گھر میں ان کے علاوہ ان کی اہلیہ، بھابھی اور چار بچے تھے۔

ان کے بقول، انہیں سب سے زیادہ فکر اس بات کی تھی کہ وہ اہل خانہ کو جلد از جلد گھر سے نکال لیں۔

بشارت علی نے بتایا کہ انہوں نے جلدی جلدی اپنے گھر والوں کو باہر نکالا جس سے سب کی جان بچ گئی لیکن بشارت پیچھے رہ گئے اور مکان کا ایک دروازہ ان کی ٹانگ پر گرا جس کے بعد وہ بے ہوش ہو گئے۔

بشارت علی کے بقول جب انہیں ہوش آیا تو ان کی ٹانگ بری طرح زخمی تھی۔

بشارت علی کو اس بات کی فکر زیادہ ہے کہ ان کا مکان تباہ ہو گیا ہے اور رہنے کے قابل نہیں رہا۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ یومیہ مزدوری پر کام کرتے تھے، اس لیے ان کی سب سے بڑی پریشانی یہی ہے کہ ان کے گھر والے کب تک دوسرے رشتہ داروں کے پاس رہیں گے اور ان کا مستقبل کیا ہوگا؟

سانگ کیکری کے علاقے میں زلزلے سے اب تک 11 سے زائد ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔

زلزلے کے بعد آفٹر شاکس کی وجہ سے گزشتہ روز (جمعرات کو) بھی ایک پانچ منزلہ عمارت زمین بوس ہو گئی۔ جس کی وجہ سے علاقے میں خوف کی فضا بدستور قائم ہے۔

یہاں امدادی کاموں کا سلسلہ بھی جاری ہے اور ریلیف کیمپس بھی قائم کیے جا چکے ہیں۔

ریلیف کیمپ کے راستے میں طیب حسین نامی ایک نوجوان اپنے تباہ شدہ مکان کی اینٹوں میں کچھ تلاش کر رہے تھے۔

پاکستانی کشمیر میں زلزلہ، بحالی کی سرگرمیاں جاری

زلزلے کی ریکٹر اسکیل پر شدت 5.8 ریکارڈ کی گئی جس سے سب سے زیادہ کشمیر کا علاقہ میرپور متاثر ہوا۔ جہاں سڑکیں اور پُل تباہ ہوئے جبکہ بجلی کی ترسیل کا نظام غیر فعال ہو گیا
1/7 زلزلے کی ریکٹر اسکیل پر شدت 5.8 ریکارڈ کی گئی جس سے سب سے زیادہ کشمیر کا علاقہ میرپور متاثر ہوا۔ جہاں سڑکیں اور پُل تباہ ہوئے جبکہ بجلی کی ترسیل کا نظام غیر فعال ہو گیا
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں منگل کو آنے والے زلزلے کے بعد آفٹر شاکس کا سلسلہ جاری ہے۔ زلزلے کے باعث کشمیر اور پنجاب کے مختلف حادثات میں ہلاکتوں کی تعداد 37 ہو گئی ہے جب کہ 300 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔
زلزلہ پیما مرکز کا کہنا تھا کہ ​زلزلہ مقامی وقت کے مطابق شام چار بج کر ایک منٹ اور 53 سیکنڈ پر آیا
2/7 زلزلہ پیما مرکز کا کہنا تھا کہ ​زلزلہ مقامی وقت کے مطابق شام چار بج کر ایک منٹ اور 53 سیکنڈ پر آیا
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں منگل کو آنے والے زلزلے کے بعد آفٹر شاکس کا سلسلہ جاری ہے۔ زلزلے کے باعث کشمیر اور پنجاب کے مختلف حادثات میں ہلاکتوں کی تعداد 37 ہو گئی ہے جب کہ 300 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔
زلزلے کا مرکز صوبہ پنجاب کے شہر جہلم سے پانچ کلو میٹر شمال میں تھا، جب کہ زلزلے کی زمین میں گہرائی 10 کلو میٹر تھی
3/7 زلزلے کا مرکز صوبہ پنجاب کے شہر جہلم سے پانچ کلو میٹر شمال میں تھا، جب کہ زلزلے کی زمین میں گہرائی 10 کلو میٹر تھی
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں منگل کو آنے والے زلزلے کے بعد آفٹر شاکس کا سلسلہ جاری ہے۔ زلزلے کے باعث کشمیر اور پنجاب کے مختلف حادثات میں ہلاکتوں کی تعداد 37 ہو گئی ہے جب کہ 300 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔
<p>کشمیر کے ضلع میر پور میں کئی عمارتیں مکمل طور پر منہدم ہو گئی ہیں۔ ان علاقوں میں بحالی کی سرگرمیاں جاری ہیں</p>
4/7

کشمیر کے ضلع میر پور میں کئی عمارتیں مکمل طور پر منہدم ہو گئی ہیں۔ ان علاقوں میں بحالی کی سرگرمیاں جاری ہیں

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں منگل کو آنے والے زلزلے کے بعد آفٹر شاکس کا سلسلہ جاری ہے۔ زلزلے کے باعث کشمیر اور پنجاب کے مختلف حادثات میں ہلاکتوں کی تعداد 37 ہو گئی ہے جب کہ 300 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔
سڑکوں کی تباہی، درختوں اور بجلی کے کھمبے گرنے سے امدادی سرگرمیوں میں رکاوٹیں پیش آ رہی ہیں
5/7 سڑکوں کی تباہی، درختوں اور بجلی کے کھمبے گرنے سے امدادی سرگرمیوں میں رکاوٹیں پیش آ رہی ہیں
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں منگل کو آنے والے زلزلے کے بعد آفٹر شاکس کا سلسلہ جاری ہے۔ زلزلے کے باعث کشمیر اور پنجاب کے مختلف حادثات میں ہلاکتوں کی تعداد 37 ہو گئی ہے جب کہ 300 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔
<p>سرکاری اعلامیے میں 300 افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی گئی ہے</p>
6/7

سرکاری اعلامیے میں 300 افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی گئی ہے

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں منگل کو آنے والے زلزلے کے بعد آفٹر شاکس کا سلسلہ جاری ہے۔ زلزلے کے باعث کشمیر اور پنجاب کے مختلف حادثات میں ہلاکتوں کی تعداد 37 ہو گئی ہے جب کہ 300 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔
زلزلے کے بعد مقامی افراد نے اپنی مدد آپ کے تحت امدادی سرگرمیاں شروع کیں
7/7 زلزلے کے بعد مقامی افراد نے اپنی مدد آپ کے تحت امدادی سرگرمیاں شروع کیں
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں منگل کو آنے والے زلزلے کے بعد آفٹر شاکس کا سلسلہ جاری ہے۔ زلزلے کے باعث کشمیر اور پنجاب کے مختلف حادثات میں ہلاکتوں کی تعداد 37 ہو گئی ہے جب کہ 300 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔
Previous slide
Next slide

طیب حسین کا کہنا تھا کہ اس کے سب گھر والے تو کہیں اور منتقل ہو چکے ہیں لیکن اسے مکان کے آس پاس ہی رہنا ہے تاکہ ملبے سے جو چند قابلِ استعمال چیزیں مل سکتی ہیں انہیں محفوظ کر لیا جائے۔

طیب نے مزید کہا کہ امدادی کام تو ہو رہے ہیں لیکن صرف ایک ٹینٹ میں خاندان کے کتنے افراد سو سکتے ہیں؟

ان کے گلے شکوے انتظامیہ اور حکمرانوں سے تھے جو طیب کے بقول صرف 'خانہ پری‘ کے لیے علاقے کا چکر لگا رہے تھے۔

طیب نے ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ آگے چونکہ گلی جگہ جگہ سے اکھڑ چکی ہے لہٰذا احتیاط سے چلنا ہوگا۔

تباہ حال راستوں اور گلیوں سے نکل کر کھیتوں کی طرف بھی کئی خاندان اپنے گھروں کا بچا کچھا سامان سمیٹ رہے تھے۔

راستے میں موجود رضوانہ نامی مقامی خاتون کا کہنا تھا کہ اس کا پورا مکان چند سیکنڈز میں زمین بوس ہوگیا۔ وہ بمشکل اپنے بچوں کو بچا کر باہر نکل سکی لیکن اس سب کے دوران اس کے ’بابا‘ نہیں بچ سکے جو گھر کی دیوار کے قریب کھڑے تھے۔

ان کا شکوہ تھا کہ امدادی ٹیمیں علاقے میں پہنچ چکی ہیں اس کے باوجود ان کی مشکلات میں کمی نہیں ہو رہی۔

اسی دوران رضوانہ کے بیٹے اور شوہر بچ جانے والا کچھ گھریلو سامان کندھوں پر ڈالے کیمپوں کی طرف جانے لگے۔

میرپور کے زلزلہ زدہ گاؤں، لوگ اپنی مدد آپ میں مصروف
please wait

No media source currently available

0:00 0:02:20 0:00

حکومت کی جانب سے لگائے گئے امدادی کیمپوں میں دو خاندانوں کے کچھ افراد بیٹھے تھے جن میں سے ایک معمّر شخص کا نام ‏محمّد خان تھا۔ ان کے پوتے، پوتیاں اور بہو بھی ان کے ساتھ موجود تھے۔

محمّد خان کا کہنا تھا کہ زلزلے کی صورت میں ایک قیامت ان پر سے گزر گئی۔ چند لمحوں میں ہی گاؤں نے ایسی شکل اختیار کرلی ہے کہ اب پہچان میں نہیں آ رہا۔

محمّد خان امدادی کاموں سے مطمئن تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر سویلین اور فوجی اہلکار ان کی مدد کو نہ پہنچتے تو شاید وہ بھی خاندان کے کسی فرد سے محروم ہو سکتے تھے۔

اس سوال کے جواب میں کہ اب وہ مکان دوبارہ بنانے کے بارے میں کیا سوچ رہے ہیں، محمّد خان گہری سوچ میں پڑ گئے۔

انہوں نے کہا کہ گاؤں میں لوگوں کا نقصان کروڑوں روپے میں ہوا ہوگا۔ اب سردیوں کا موسم بھی قریب ہے۔ اگر لوگوں کے مکانات وقت پر تعمیر نہ ہوئے تو یہ زلزلے سے بھی بڑا مسئلہ بن جائے گا۔

وائس آف امریکہ کی ٹیم واپس مرکزی سڑک کی طرف آئی جہاں فلاحی ادارے اور فوجی امدادی کیمپوں میں بہت سے عمر رسیدہ افراد لائے جارہے تھے۔

شدید حبس، بجلی کی بندش اور پانی کی کمی نے ان سب کو نڈھال کیا ہوا تھا۔

تھوڑی تھوڑی دیر بعد ایمولینسز کے سائرن سنائی دیتے تو لوگ انہیں راستہ دینے کے لیے پگڈنڈیوں پر چڑھ جاتے تھے۔

جو لوگ سلامت تھے وہ بیماروں کی دیکھ بھال اور ٹوٹے گھروں کے پہرے دے رہے تھے۔ جو اس قابل نہیں تھے وہ امدادی ٹیموں کے ساتھ اسپتالوں میں بھیجے جارہے تھے۔

  • 16x9 Image

    گیتی آرا

    گیتی آرا ملٹی میڈیا صحافی ہیں اور وائس آف امریکہ اردو کے لئے اسلام آباد سے نیوز اور فیچر سٹوریز تحریر اور پروڈیوس کرتی ہیں۔

This item is part of
XS
SM
MD
LG