رسائی کے لنکس

بلوچستان: دہشت گردی کے دو واقعات میں سات سیکیورٹی اہلکار ہلاک


(فائل فوٹو)

پاکستان کے صوبے بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز پر حملوں کے دو مختلف واقعات میں سات سیکیورٹی اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔

پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق دہشت گردی کے واقعات مچھ اور کیچ میں پیش آئے۔

آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ دہشت گردوں نے پیر کی شب بلوچستان کے علاقے مچھ میں فرنٹیئر کور (ایف سی) کی گاڑی کو دیسی ساختہ بم (آئی ای ڈی) سے نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں پانچ اہلکار اور ایک سویلین ڈرائیور ہلاک ہوا ہے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق مچھ میں ہلاک ہونے والوں میں نائب صوبیدار احسان اللہ، نائیک زبیر خان، نائیک مولا بخش، نائیک نور محمد، نائیک اعجاز احمد اور ڈرائیور عبدالجبار شامل ہیں۔

آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کا دوسرا واقعہ کیچ کے علاقے میں پیش آیا جہاں عسکریت پسندوں اور اہلکاروں میں فائرنگ کے تبادلے میں سپاہی امداد علی مارے گئے ہیں۔

یاد رہے کہ مذکورہ علاقوں میں ماضی میں بھی متعدد بار پاکستان کی سیکیورٹی فورسز اور مسلح افراد کے درمیان کئی بار فائرنگ کے واقعات پیش آ چکے ہیں۔

کالعدم بلوچ شدت پسند تنظیم یونائیٹڈ بلوچ آرمی نے مچھ میں کیے گئے حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔

تنظیم کے تر جمان مرید بلوچ نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ بولان کے علاقے پیر غیب کے مقام پر تیل و گیس تلاش کرنے والی کمپنی کی سیکیورٹی پر مامور اہلکاروں کی گاڑی کو ریموٹ کنٹرول بم سے نشانہ بنایا گیا۔

مرید بلوچ نے خبردار کیا کہ اُن کی تنظیم ایسے حملے جاری رکھے گی۔

قدرتی وسائل سے مالامال پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں کافی عرصے تک خاموشی رہی ہے تاہم رواں ماہ کے دوران کالعدم بلوچ عسکری تنظیموں کی کارروائیوں میں تیزی آئی ہے۔

چند روز قبل ضلع کیچ میں ہی پاک ایران سرحد کے قریب بلیدہ کے علاقے میں سیکیورٹی فورسز کی گاڑی پر دیسی ساختہ بم حملہ کیا گیا تھا جس میں فوج کے ایک میجر سمیت چھ سیکیورٹی اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔ اس حملے کی ذمہ داری کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن ارمی (بی ایل اے) نے قبول کر لی تھی۔

اس واقعے کے بعد پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کا دورہ بھی کیا تھا۔ آرمی چیف نے صوبے میں تعینات فوجی افسران سے سیکیورٹی کے حوالے سے بریفنگ بھی لی تھی۔

جنرل باجوہ نے پرتشدد واقعات میں اضافے پر ایرانی فوج کے سربراہ سے بھی ٹیلی فونک رابطہ کیا تھا۔

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان، وزیر اعلٰی بلوچستان جام کمال خان نے ان حملوں کی مذمت کی ہے۔

پاکستان کی ایران کے ساتھ 750 کلو میٹر طویل مشترکہ سرحد ہے جس پر کچھ عرصے سے پاکستان کی جانب سے خاردار تاریں بچھائی جا رہی ہیں۔ حکام کے بقول بیشتر حصے میں خاردار تاریں لگا دی گئی ہیں۔

کچھ عرصہ قبل یہ بھی اطلاعات تھیں کہ بلوچ عسکریت پسند تنظیموں نے 'براس' کے نام سے اتحاد قائم کر لیا ہے۔ ان تنظیموں میں بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے)، کالعدم بلوچ ری پبلکن آرمی (بی آر اے) اور کالعدم بلوچ لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) نے مشترکہ طور پر کارروائیاں جاری رکھنے پر اتفاق کیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG