رسائی کے لنکس

logo-print

کرونا وائرس لاک ڈاؤن: عوامی لائبریریاں بند، سڑکوں پر کتب خانے کھل گئے


فائل فوٹو

کرسچین گیل رینالڈز امریکہ کی ریاست کیلی فورنیا کی ایک لائبریری میں کام کرتی ہیں جو یوسیمٹی نیشنل پارک میں واقع ہے۔ کرونا وائرس کے باعث مارچ میں جب کیلی فورنیا کے گورنر گیون نیوسم نے لاک ڈاؤن کے احکامات جاری کیے تو ان کی لائبریری بھی بند ہو گئی تھی۔

لائبریری بند ہوئی تو کرسچین نے اپنی کار کی ڈگی کو عطیہ کی گئی کتابوں سے بھرا اور اپنی الگ موبائل لائبریری کھول لی۔ اب وہ سڑکوں اور گلیوں میں کار لے کر کھڑی ہوتی ہیں اور لوگوں کو پڑھنے کے لیے کتابیں مہیا کرتی ہیں۔ تاکہ لوگ لاک ڈاؤن کے دوران اپنا فارغ وقت کتابیں پڑھنے میں گزاریں۔

کرسچین کتابیں دینے کے دوران سماجی فاصلے کی ہدایت پر بھی عمل کرتی ہیں اور ساتھ ساتھ کتابوں کو سینیٹائز بھی کرتی رہتی ہیں۔

کرسچین کے بقول "ہو سکتا ہے کہ میرا یہ عمل قانونی نہ اور روایتی ہو، اور شاید اقدار پر بھی پورا نہ اترتا ہو۔ لیکن میرے اس عمل سے بہت سے لوگوں کا فائدہ ہو رہا ہے۔

عالمی وبا کے سبب کیے گئے لاک ڈاؤن کے دوران کتابیں پڑھنے کے رجحان میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ چوں کہ عوامی لائبریریاں بند ہیں، لہٰذا مفت میں کتابیں دینے والی چھوٹی لائبریریوں کا استعمال بڑھ رہا ہے۔

فائل فوٹو
فائل فوٹو

امریکہ بھر میں ایسی ککئی چھوٹی لائبریریاں قائم ہیں جو مفت کتابیں مہیا کرتی ہیں۔ یہ لائبریریاں کہیں لکڑی کے ایک گھر نما بکس میں بنائی جا رہی ہیں تو کہیں کچھ اینٹوں کی مدد سے چھوٹے کتب خانے قائم کے گئے ہیں۔ کہیں کسی پارک کے سامنے کتابیں رکھی ہوئی ہیں تو کچھ لوگوں نے کاروں کی ڈگی کو ہی کتابوں سے بھر دیا ہے۔

لاک ڈاؤن کے دوران لوگ وقت گزاری کے لیے کتابیں پڑھنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ لائبریریاں چلانے والے رضاکار رپورٹ کر رہے ہیں کہ ایک طرف لائبریریوں کی تعداد بڑھ رہی ہے تو دوسری جانب یہاں سے کتابیں لے جانے والوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔

امریکی خبر رساں ادارے 'ایسوسی ایٹڈ پریس' کے مطابق سال 2009 سے اب تک امریکہ سمیت 100 سے زائد ملکوں میں دسیوں ہزار ایسی چھوٹی لائبریریاں قائم کی گئی ہیں جہاں سے کتابیں مفت حاصل کی جا سکتی ہیں۔ اکثر چھوٹی لائبریریاں رضاکار چلاتے ہیں جہاں عطیہ کی گئی کتابیں رکھی جاتی ہیں۔

مفت لائبریریاں قائم کرنے کے لیے لوگوں کو لکڑی کے بکس فراہم کرنے والی ایک غیر منافع بخش تنظیم 'دی ہڈسن' کا کہنا ہے کہ انہوں نے مارچ میں اپنا ایک لاکھواں بکس عطیہ کیا ہے۔

تنظیم نے رضاکاروں کو تجاویز بھی دی ہیں کہ وہ کرونا وائرس کے دوران ان لائبریریوں کو صاف ستھرا رکھیں اور جراثیم کش ادویات کا استعمال کریں۔

فائل فوٹو
فائل فوٹو

امریکہ کی ریاست اوریگن میں ایک فری لائبریری چلانے والے جان سوئٹ کہتے ہیں کہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ عالمی وبا کے دوران اس لائبریری کے استعمال میں اضافہ ہوا ہے۔ اسی کے پیشِ نظر رضاکار ہفتہ وار بنیادوں پر لائبریری کا معائنہ کر رہے ہیں۔

کیری کپلن امریکی ریاست ایریزونا کے شہر فینکس میں بچوں کو پڑھاتی ہیں۔ انہوں نے برسوں قبل اپنے گھر کے احاطے میں ایک بک شیلف بنایا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ جب سے کرونا وائرس پھیلا ہے، کتابیں عطیہ کرنے اور لے جانے والوں کی تعداد زیادہ ہو گئی ہے۔

فینکس کی ایک اور ٹیچر تارالا او گارشیا کہتی ہیں کہ انہوں نے اپنے اسکول کے باہر ایک چھوٹی لائبریری بنائی ہے۔ یہ لائبریری پڑوسی اور کچھ بے گھر افراد استعمال کرتے ہیں۔

گارشیا کہتی ہیں کہ وہ اس لائبریری میں کتابوں کے علاوہ اسکول میں کام آنے والی چیزیں بھی رکھ دیتی ہیں، کھانے کا سامان، کھلونے اور پزل وغیرہ بھی۔ تاکہ لوگوں کے پاس کوئی ایسی مصروفیت ہو جس میں اسکرین استعمال نہ ہو۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG