رسائی کے لنکس

logo-print

قحط زدہ صومالی علاقوں میں امدادی کارروائیوں میں اضافہ


قحط زدہ صومالی علاقوں میں امدادی کارروائیوں میں اضافہ

اقوام متحدہ کے برائے پناہ گزینوں سے متعلق ادارے یواین ایچ سی آر نے حال ہی میں امدادی سامان اور خیموں سے بھرا ہوا ایک طیارہ صومالی دارالحکومت موگادیشو بھیجا ہے۔ امریکی حکومت نے بھی اس علاقے میں قحط اور خشک سالی سے متاثرہ افراد کی مدد کے لیے دس کروڑ ڈالر دینے کا اعلان کیاہے۔

پناہ گزینوں کے عالمی ادارے نے پانچ سال میں پہلی مرتبہ امدادی سامان صومالیہ کے دارالحکومت پہنچایا ہے۔ صومالیہ کو بڑے پیمانے پر خشک سالی کا اورقحط کا سامنا کرنا پڑ رہاہے اور لوگ خوارک کی تلاش میں دوسرے ملکوں کا رخ کر رہے ہیں۔

امدادی سامان ایسے وقت میں صومالی دارالحکومت پہنچ رہا ہے جب کچھ ہی دن پہلے سرکاری سیکیورٹی فورسز نے عسکریت پسند گروہ الشباب کو شہر سے نکلنے پر مجبور کیا ہے۔ الشباب نے اپنے قبضے میں موجود علاقوں میں بیرونی امدادی تنظیموں کی سرگرمیوں پر پابندی لگا رکھی تھی جن میں زیادہ تر قحط زدہ علاقے شامل تھے۔ صومالی فوج کے حوصلے اس وقت بلند ہیں۔

بہت سے صومالی پناہ گزین مشرقی کینیا کا رخ کر رہے ہیں۔ امریکی نائب صدر جو بائیڈن کی اہلیہ جل بائیڈن نے کینیا کے ایک پناہ گزین کیمپ کا دورہ کیا ،جہاں ہزاروں صومالی مقیم ہیں۔

ڈاکٹر جل بائیڈن کا یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب امریکہ مشرقی افریقہ میں خشک سالی سے نمٹنے کے لئے امداد بھیجنے کی تیاری کر رہا ہے۔ امریکہ کے امدادی ادارے یو ایس ایڈ کی رکن ننسی لنڈبارگ کہتی ہیں کہ امداد کا مقصد وہاں اداروں کو مضبوط اور خوراک کی پیدوار کو محفوظ بنانا ہے تاکہ وہ بار بار آنے والی خشک سالی سے بہتر طور پر نمٹ سکیں۔

امدادی کارکن باربار متنبہ کر چکے ہیں کہ قحط سے نٕمٹنے کے لئے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔ امریکی اداروں کے اندازے کے مطابق صرف جنوبی صومالیہ میں اب تک پانچ سال سے کم عمر کے 29 ہزار بچےہلاک ہو چکے ہیں۔

XS
SM
MD
LG