رسائی کے لنکس

جنوبی پنجاب سے سات پولیس اہلکار بازیاب


(فائل فوٹو)

پولیس کے مطابق جرائم پیشہ عناصر کا گروہ پولیس اہلکاروں کی رہائی کے بدلے پولیس کے زیرِ حراست اپنے کچھ ساتھیوں کی رہائی کا مطالبہ کر رہا تھا۔

پاکستان میں پولیس کا کہنا ہے کہ صوبہ پنجاب کے جنوبی علاقے راجن پور سے اغوا کیے جانے والے سات پولیس اہلکاروں کو کامیاب کارروائی کے بعد بازیاب کرا لیا گیا ہے۔

مقامی پولیس تھانے کے ایک اہلکار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر وائس آف امریکہ کو بتایا ہے کہ ان پولیس اہلکاروں کو جرائم پیشہ افراد نے اتوار کو اُس وقت یرغمال بنا لیا تھا جب وہ راجن پور کے علاقے روجھان سے ایک کشتی پر واپس آ رہے تھے۔

پولیس کے مطابق جرائم پیشہ عناصر کا گروہ پولیس اہلکاروں کی رہائی کے بدلے پولیس کے زیرِ حراست اپنے کچھ ساتھیوں کی رہائی کا مطالبہ کر رہا تھا۔

پولیس حکام کے مطابق اُنھوں نے اس گروہ کو تلاش کر کے جب اس کے گرد گھیرا تنگ کیا تو کئی گھنٹوں تک پولیس اور مسلح افراد کے درمیان جھڑپ جاری رہی جس کے بعد اغوا کاروں نے پولیس اہلکاروں کے ہاتھ کھول کر اُنھیں چھوڑ دیا، لیکن اغوا کار خود موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔

پولیس حکام کا دعویٰ ہے کہ وہ کئی برسوں سے اس علاقے میں موجود جرائم پیشہ افراد کے خلاف کارروائی کرکے ان کا صفایا کرنا چاہ رہی ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ صوبہ پنجاب کے جنوبی علاقوں میں جرائم پیشہ گروہوں کی موجودگی باعث تشویش ہے۔

سابق سیکرٹری داخلہ اور تجزیہ کار تسنیم نورانی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا ہے کہ اس بارے میں ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔

’’جرائم پیشہ عناصر اور دہشت گردوں کے درمیان بہت باریک لائن ہے۔۔۔ اگر جرائم پیشہ چھپ سکتے ہیں تو ظاہر ہے دہشت گرد بھی چھپ سکتے ہیں۔۔۔ تو اس چیز پر بہت توجہ دینے کی ضرورت ہے۔‘‘

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے جنوبی علاقوں میں سرگرم جرائم پیشہ گروہ ’’چھوٹو گینگ‘‘ کے خلاف گزشتہ سال اپریل میں ایک بڑی کارروائی کی گئی تھی جس کے بعد اس گروہ کے سربراہ غلام رسول نے فوج کے سامنے ہتھیار ڈال دیے تھے۔

چھوٹو گینگ نے بھی 24 پولیس اہلکاروں کو یرغمال بنا لیا تھا، جس کے بعد پہلے پولیس نے کارروائی کی لیکن کامیابی نہ ملنے پھر فوج کو طلب کیا گیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG